ننھی پریوں کا نوحہ

ننھی پریوں کا نوحہ
ننھی پریوں کا نوحہ
کیپشن: umar sharif

  

پاپا کی لاڈلی۔ پالی سی مانو۔ میری چاند سی بیٹی ۔ ماما کی جان ۔ لاڈوں سے پالی ہوئی ۔ نازوں سے پلی، ہم سب کا مان ،آسمانوں سے آئی حور، رانی، مہارانی اور کیسے کیسے القا بات سے ہم اپنی پیاری بیٹیوں کو پکارتے ہیں۔مگر یہ سانحہ اچھرہ جو گزرا ہے اس کی ٹی وی چینل پر چلنے والی المناک خبر اور منظر نے مجھے مکمل طور پراپنی لپیٹ میں لے کر مفلوج کر دیا ٹی وی پر چلنے والے ٹیکر میں لکھا تھا تین ننھی پریاںجل گئیںیہ خبر ہتھوڑے کی طرح دماغ پر برس رہی تھی اس کیفیت میں مبتلا میںچلنے والے ٹیکر کا شکار تھاتین ننھی پریاں جل گئیںایسے میں اپنی لاڈو بیٹی کی آواز نہ سن سکا جو مجھے کھانے کے لئے پکار رہی تھی ۔ نہ تو آسمان رویا اور نہ ہی زمین پھٹی اکٹھی تین ننھی پریاں ایک ایک کرکے تڑپتی رہیں جلتی رہیں اور اپنی جاں جان آفریں کے سپردکرتی ہیں۔

یوں تو 2سالہ عالیہ چار سالہ خدیجہ اور 6سالہ نور آگ کی لپٹوں میں گھری اپنے پاپا اور ماں کو پکارتی رہیں مگر گھرکو تالہ لگا کر جانے والے یہ ماں باپ اپنی ننھی پریوں کی آوازیں نہ سن سکی۔ باپ کی لاڈلی نور اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اپنی بہنوں کو بچانے کی اپنی سی کوشش کرتی رہی کھلونا گڑیا بھی اسطرح نہیں جلتیں جیسے یہ ننھی پریاں جلتی رہیں کس سے فریاد کریں کس سے شکوہ۔آﺅ اپنے گریبان نوچ لیں اور خاک سر پر ڈالیں نام نہاد معاشرے میں ہم اب بھی زندہ ہیں۔کیا یہ غربت تھی یا لاپرواہی کہ اتنی کم سن بچیاں چھوٹے سے گھر میں رہنے پر مجبور تھیں۔عالیہ تو آگ لگنے سے جھلس کر باباباباپکارتی رہی، جبکہ خدیجہ خوفزدہ ہوکر جلتی رہی نور کی دوہائیاں اور صدائیں شاید اس وقت آگ کی لپٹوں میں گم ہوگئی تھیں۔ آگ نے معصوم ننھی پریوں کو مکمل طور پر اپنے حصار میں لے لیا تھا۔ گھر کے دروازے پرلگا تالہ اتنا مضبوط کیسے بن گیا کہ توڑنا مشکل ہورہا تھا۔

محلے کی عورتیں پکار رہی تھیں خدارا جلدی دروازہ کھولو ننھی پریوں کی سہیلیاں غم و حسرت کی تصویریں بنی اس آگ کے تندور دیکھ رہی تھیں جس میں ان کی پیاری سہیلیاں عالیہ خدیجہ اور نور جل رہیں تھیں پانی پانی کی صداہیں ہر طرف گونج رہی تھیں پر پانی کہاں پانی نہ ملا۔ بزرگ نوجوانوں کو حوصلہ دے رہے تھے کہ دروازے کھڑکیاں توڑ دو۔ کوئی پانی لانے کے لئے پکار رہا تھا کوئی مدد کے لئے مگر نہ مدد آئی اور نہ ہی پانی ، پر جن کا کام تھا وہ کہاں تھے حسب روایت (خاک ہو جائیں گے تم کو خبر ہونے تک) وہ اپنے وقت پرہی آئے ۔ تب تک ننھی پریاں اپنے لہو کو آگ میں تپا کر ایک المناک کہانی لکھ چکی تھیں۔ آج ہم جو مرضی نوحہ لکھیں اپنے قلم کی فنکاریاں دکھائیں مگر چڑیوں کی طرح چہچہاتی پھولوں کی طرح مسکراتی اپنے بابل کے گھر کی رونق ان ننھی پریوں کو واپس نہیں لاسکتے۔

ہماری زندگی میں ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں۔ اور شاید ہوتے رہیں پر ہم آج بھی کوئی سنجیدہ کوشش کرنے کو تیار نہیں ہم صرف نوحہ کریں گے اقدامات نہیں۔ ہم شکوہ کریں گے اصلاحات نہیں کیا ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں پریاں نہ آئیں۔ جگنو تو کب کے جا چکے تتلیاں تو خال خال ہی نظر آتی ہیں۔ اور آسمان پر ستارے کوئی خوش قسمت ہی دیکھ سکتا ہے ۔ رنگ برنگے پرندے ہمارے دل دماغ سے کوسوں دور جاچکے۔ محلے اب پیار اور محبت کا مسکن نہیں رہے ایک دوسرے کو نیچا دکھانا مقصد حیات بن گیا ہے ۔ اپنے فرائض سے فرار شیوہ اولین ہے آج ہم اپنے ہی قائم کردہ قید خانوں سے باہر نہیں آتے ۔ اور کوئی عملی اقدام بھی نہیں تو پھر ننھی پریاں کا نوحہ کیوں شکوہ کیوں ماتم کیوں ،ذمہ دار کون ماں باپ۔ محلے دار، ارباب اختیار۔ غور کریں ہمارے ارد گرد لاتعداد ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں کبھی کوئی ننھا بچہ پانی کے ٹب میں ڈوب گیا تو آگ میں بچے جل گئے تو کبھی بچوں کے ساتھ درندگی کی انتہا ان سب واقعات میں ماں باپ پاس نہیں ہوتے منتوں مرادوں سے ملنے والی اولاد زرا سی لاپرواہی سے کھو دیتے ہیں ۔ ذمہ دارانِ شہر آپ صرف بیان دیجیے اور آئندہ اسطرح کے المناک واقعہ کاانتظار کیجیے ماضی کی طرح، میں نے بھی ٹی وی سکرین سے نظریں ہٹا کر اپنی بیٹی کوپیار کرنے کے بعد کھانا لانے کو کہا۔ننھی پریاں تو کہانی بن چکیں پہلی کہانیوں کی طرح اب دیکھئے کس کہانی کے انتظار میں ہیں ہم سب۔

مزید :

کالم -