مطیع الرحمن نظامی کو اسلام اور متحدہ پاکستان کے تحفظ کی جدوجہد کے جرم میں سزا دی گئی :سید منور حسن

مطیع الرحمن نظامی کو اسلام اور متحدہ پاکستان کے تحفظ کی جدوجہد کے جرم میں سزا ...
مطیع الرحمن نظامی کو اسلام اور متحدہ پاکستان کے تحفظ کی جدوجہد کے جرم میں سزا دی گئی :سید منور حسن

  


کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن نے کہا کہ مطیع الرحمن نظامی شہید کو اسلام اور پاکستان سے محبت کرنے کے جرم کی سزا دی گئی ، ان کی زندگی اور موت دنوں  قابل رشک ہیں، انہوں نے سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت حاصل کی ہے ۔بھارت نواز شیخ حسینہ واجد حکومت 1974ء کے سہہ فریقی معاہدے کی خلاف ورزی کررہی ہے حکومت پاکستان کو اس خلاف ورزی پر اپنا مؤثر کردار ادا کرنا چاہیئے تھا جو اس نے ادا نہیں کیا۔ہمیں ایسے حکمرانوں کی ضرورت ہے جو ملک اور نظریہ پاکستان کی حفاظت کرنے والے ہوں۔

مزار قائد ،نمائش چورنگی پر امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش مطیع الرحمن نظامی شہید کی غائبانہ نماز جنازہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے سید منور حسن نے کہا کہ مطیع الرحمن دنیا میں اپنا مشن پورا کر کے اپنے رب کی طرف چل دیے ہیں، ان کی زندگی اور موت دونوں قابل رشک اور سعاد ت ہیں ،دنیا بھر میں اسلامی تحریکوں کو بنیاد پرستی اور انتہا پرستی کا طعنہ دیا جاتاہے لیکن حقیقت میں اسلامی تحریکوں نے پرامن اور جمہوری طریقے اختیار کیے ہیں دعوت اور تبلیغ کا راستہ اختیار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غلبہ دین کی تحریک کے لیے دعوت و تبلیغ کے میدان ہی اصل میدان ہیں، جوکہ داعی اللہ کے کردار کو اجاگر کرتا ہے، اسلامی تحریکوں کو حالات کے چیلنجز کو سمجھنا ہوگا اور سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا اور نئی حکمت عملی مرتب کرنا ہوگی۔ترکی کے صدر خراج تحسین کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس حوالے سے جرات مندی کا مظاہرہ کیا اور اپنی بات کی۔سید منور حسن کا کہنا تھا کہ شیخ مجیب الرحمن ،اندراگاندھی اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان 1974ء میں معاہد ہوا تھا کہ جنگی بنیادوں پر مقدمات قائم نہیں کیے جائیں گے لیکن بنگلہ دیش کی حکومت نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، حکومت پاکستان کو اس خلاف ورزی کرنے پر بنگلہ دیش کی حکومت کے خلاف عالمی سطح پر آواز اٹھانا چاہیئے۔

مزید : کراچی


loading...