وزیرخارجہ بلاول بھٹو کی کراچی میں مصروفیات، کاروباری برادری سے تفصیلی ملاقات کی

وزیرخارجہ بلاول بھٹو کی کراچی میں مصروفیات، کاروباری برادری سے تفصیلی ...

  

سیاسی ڈائری۔ کراچی۔ مبشر میر 

گورنر سندھ کیلئے محترمہ نسرین جلیل ہارٹ فیورٹ قرار پائی ہیں۔ایم کیو ایم میں شروع دن سے انتہائی فعال اور متحرک رہنما کی حیثیت سے جانی جاتی ہیں۔ بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کی انتہائی قریبی ساتھی شمار ہوتی تھیں۔ لاہور میں پیدا ہوئیں تب ان کے والد انڈین سول سروس میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ ظفر اللہ احسن ڈپٹی کمشنر لاہور رہے۔ گورنر شپ کیلئے نامزدگی کے بعد محترمہ نسرین جلیل کی سیاسی زندگی کے متنازعہ واقعات بھی زیربحث آرہے ہیں اُن میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا ٹوئٹ نمایاں ہے۔ نسرین جلیل 22فروری 1944 کو پیدا ہوئیں، اس وقت 78 برس کی عمر میں بھی سیاسی لحاظ سے متحرک اور فعال ہیں۔ ان کے شوہرایم اے جلیل جن کا انتقال 27فروری 2017 میں طویل علالت کی وجہ سے ہوا، ممبر سندھ اسمبلی رہے اور وزیراعلیٰ جام صادق کی کابینہ میں وزیرتعلیم کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ محترمہ نسرین جلیل سندھ کی 31ویں گورنر ہوں گی اس سے پہلے بیگم رعنا لیاقت علی خان بھی گورنر سندھ رہ چکی ہیں اس طرح آپ دوسری خاتون گورنر سندھ ہونگی۔محترمہ نسرین جلیل نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے انگلش لٹریچر میں ڈگری حاصل کی اور فرانس سے فرانسیسی زبان میں دسترس حاصل کی۔ اپنے سیاسی کیریئر میں گرفتار بھی ہوئیں، 1999 میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے خلاف تقریر کرنے پر گرفتار کیا گیا۔ اس سے پہلے قومی اسمبلی کے حلقہ 250 میں انتخاب میں شکست کا سامنا کرنا پرا۔ بعدازاں جنرل پرویز مشرف کے دور میں کراچی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ میں نائب ناظم منتخب ہوئیں۔اگرچہ ان کی تقرری کو سراہا جارہا ہے، لیکن کراچی کے سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان کیلئے کراچی کے مسائل حل کرنا بہت مشکل ہوگا۔ 

سابق وزیراعظم عمران خان کے آزادی مارچ کی تیاریوں کے لیے تحریک انصاف کی صوبائی قیادت عوام کو مارچ میں شرکت پر آمادہ کرنے کی کوشش کررہی ہے، مختلف علاقوں کے دورے کرکے عوام میں قومی پرچم تقسیم کیے جارہے ہیں۔ پاک سرزمین پارٹی بھی اپنے پاور شو کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ سید مصطفی کمال نے 15مئی کو خواتین کا جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کررکھا ہے۔ ان کی پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ تحریک انصاف کے جلسہ اور موجودہ سیٹ اپ سمیت تمام سیاسی پارٹیوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ بڑے بڑے اجتماع کرنے اور اقتدار کے باوجود آپ نے کراچی کے مسائل حل نہیں کیے۔ مولانا فضل الرحمن نے بھی کراچی میں ایک بڑے جلسے کے انعقاد کا اعلان کردیا ہے، وہ اپنی پارٹی کا پاور شو 19مئی کو کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مولانا کے پاس جلسہ گاہ کو بھرنے کیلئے خاطر خواہ افراد کی کثیر تعداد موجود ہے، وہ پہلے بھی بڑے اجتماع کرچکے ہیں، ان کے مدارس میں طلباء کی تعداد ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ہے۔ ماضی میں حیدررآباد میں بھی مولانا فضل الرحمن ایک بڑا اجتماع کرچکے ہیں۔ 

وفاقی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں مصروف دن گذارا، بلاول ہاؤس میں کراچی کی کاروباری شخصیات سے ملاقات کی۔ کراچی کی کاروباری برادری ایک اہم ترین پریشر گروپ ہے۔ تمام سیاسی پارٹیاں اور اسٹیبلشمنٹ بھی ان سے گفتگو کا سلسلہ برقرار رکھنا ضروری خیال کرتی ہے۔ لیکن یہاں کے مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔  لاء اینڈ آرڈر کے مسائل دوبارہ سے جنم لے رہے ہیں۔ وہ امید کرتے ہیں کہ وفاقی وزیرخارجہ،، صوبائی حکومت سندھ کو ضروری احکامات دیں گے۔ 

قومی اسمبلی کے حلقہ 240 کورنگی II کے ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ 16جون کوہوگی۔ یہ نشست اقبال محمد علی راہنما ایم کیو ایم پاکستان کے انتقال سے خالی ہوئی تھی۔ ابھی تک 70 سے زائد افراد اور پارٹیوں نے کاغذات نامزدگی حاصل کیے ہیں۔ حتمی فہرست کے بعد اندازہ ہوگا کہ کون سے امیدوار کے جیتنے کے امکانات کس قدر ہیں۔ اگرچہ کورنگی میں ایم کیو ایم کے ووٹرز کی بہت تعداد تھی لیکن اس وقت ڈاکٹر خالد مقبول کو ورکرز کی کمی کا سامنا ہے۔ ان کے پاس کونسلرز بھی نہیں جو ان کے لیے ہمہ وقت موجود ہوتے تھے۔ کے ایم سی کے کئی ملازمین بھی ان کے لیے خدمات انجام دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم نے کسی بڑے پاور شو کی کوشش نہیں کی۔ 

اقتصادی اعشارئیے اور مہنگائی کے گراف میں مسلسل اضافہ سے نئی وفاقی حکومت کے وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کو تند تیز سوالات اور تبصروں کا سامنا ہے۔ ان کا اپنا تعلق بھی ایک کاروباری گھرانے سے ہے۔ اپوزیشن کے دور میں وہ تحریک انصاف کی اقتصادی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب انہیں بھی ویسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے  اور آئی ایم ایف پروگرام سے وہ عوام کو بڑی خوشخبری دینے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اس وقت ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ بھی دباؤ کا شکار ہے، نئی حکومت کے آنے سے جو اعشاریئے بہتری دکھارہے تھے، وہ سب مصنوعی ثابت ہوئے ہیں۔اور معاشی حالت پہلے سے بدتر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ 

متحدہ کی نسرین جلیل کی نامزدگی، بیگم رعنا لیاقت کے بعد سندھ کی دوسری خاتون گورنر کا اعزاز حاصل ہوگا!

تحریک انصاف لانگ مارچ شرکت مہم جاری، پی ایس پی خواتین کا جلسہ منعقد کرے گی، مولانا فضل الرحمن بھی پاور شو کریں گے 

مزید :

ایڈیشن 1 -