صدر اوباما لاعلم تھے، مجھے علم تھا

صدر اوباما لاعلم تھے، مجھے علم تھا
 صدر اوباما لاعلم تھے، مجھے علم تھا

  

اتفاق کی بات ہے کہ جس روز صدر اوباما نے افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے مکمل انخلا کا ٹائم ٹیبل دیا، اس روز مَیں اسلام آباد میں تھا اور پنجاب ہاؤس میں مقیم تھا۔ ایک بہت ہی عزیز دوست اور پرانے صحافی سعید منہاس صاحب شام کو ملنے کے لئے آئے۔ باتوں باتوں میں صدر اوباما کے پروگرام پر بات ہوئی۔ مَیں نے کہا :’’ناممکن‘‘۔ اس پر سعید بھائی نے کہا کہ آپ کی اس بات کو باقاعدہ انٹرویو کی شکل دیتے ہیں، چنانچہ اگلے روز ’’فرنٹیئر پوسٹ‘‘ کے صفحہ اول پر میرا انٹرویو شائع ہوا، جس میں مَیں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ اور صدر اوباما نے جو ٹائم ٹیبل دیا ہے، اس پر عمل ناممکن ہے اور امریکی افواج غیر معینہ مدت کے لئے افغانستان میں رہیں گا۔ اسلام آباد میں مقیم کچھ سفارت کاروں نے بھی مجھ سے اس پر تبادلۂ خیال کیا۔

جس وقت مَیں نے یہ بات کی میرے ذہن میں افغانستان کے زمینی حقائق تھے۔دوسرا جو احساس امریکی صدر کو اب ہوا،مجھے اس وقت تھا کہ ’’جنگ شروع کرنا آسان ہے، لیکن اس سے جان چھڑانا بہت مشکل ہوتا ہے‘‘۔تیسرا میں نے کہاکہ طالبان انہیں جانے نہیں دیں گے، یہ بھاگ جائیں تو اور بات ہے۔چوتھا، وسطی ایشیائی ریاستیں اور چین بھی ایک وجہ ہے۔ اگرچہ نیو جرسی کے گورنر کرس کرسٹی نے یہ تسلیم کیا ہے کہ انہیں اب یہ ہوش آیا ہے کہ دہشت گردوں کے لئے ’’محفوظ جنت‘‘ چھوڑ کر ہم امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی امریکی سلامتی اور مفادات خطرے میں نہیں ڈال سکتے، لہٰذا صدر اوباما کو مجبوراً یہ اعلان کرنا پڑا کہ امریکی افواج 2016ء کے بعد بھی افغانستان میں رہیں گی اور ان کی تعداد 9800 ہوگی۔

*۔۔۔ اب ذرا ان حالات و واقعات کا تجزیہ پیش خدمت ہے،جن میں افغانستان میں ہونے والے واقعات اور امریکی سیاسی و عسکری قیادت کے خیالات کا ذکر ہوگا۔ اگرچہ صدر اوباما نے مکمل انخلاء کا ٹائم ٹیبل دیا تھا، لیکن جلد ہی اختلافی آوازیں بھی اٹھنا شروع ہوگئی تھیں، جو عسکری قیادت کی طرف سے تھیں کہ ابھی افغانستان کو مزید امداد کی ضرورت ہے، ورنہ 14سال کی جدوجہد بے کار ہو جائے گی، لیکن وہ کھلے عام صدر کے اعلان کے منافی کوئی بات نہیں کرسکتے تھے۔ امریکی انتظامیہ کی طرف سے کچھ ہفتوں سے اشارے ملنا شروع ہو گئے تھے کہ قریباً 2سال قبل صدر اوباما نے جو ٹائم ٹیبل دیا تھا، افغانستان کے حالیہ واقعات کے پیش نظر اس میں تبدیلی متوقع ہے۔ امریکی وزیر دفاع نے بھی انگڑائی لی اور فرمایا کہ ’’ہم یہ تاثر نہیں دینا چاہتے کہ ہمیں افغانستان میں شکست ہوئی ہے‘‘۔۔۔ جبکہ کئی اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے سے اس پر غور ہو رہا تھا۔ فوری وجہ طالبان کا قندوز پر قبضہ تھا ،پھر داعش کی افغانستان میں موجودگی کا انکشاف بھی امریکی انتظامیہ کے لئے خطرے کی گھنٹی تھا، چنانچہ فیصلہ یہ ہوا کہ امریکی فوج ،کابل، بگرام، جلال آباد اور قندھار میں رکھی جائے گی، چنانچہ نئے امریکی صدر تیسرے صدر ہوں گے جو اس صورت حال کا سامنا کریں گے۔ ایک اطلاع کے مطابق مارچ میں صدر اشرف غنی کے دورۂ امریکہ کے دوران اس پر تفصیل سے بات ہوئی تھی۔

*۔۔۔اس کے بعد افغانستان میں امریکی کمانڈر جنرل جان کیمبیل نے صدر اوباما کو مختلف تجاویز پیش کیں، جن میں کہا گیا کہ طالبان کی ’’یلغار‘‘ محدود کرنے کے لئے مزید فوج اور مزید قیام ضروری ہے۔ اتحادیوں میں سے بھی کچھ نے اس کی حمایت کی اور کچھ خاموش ہیں۔ماضی قریب میں امریکی وزیر دفاع نے اتحادی وزرائے دفاع سے ایک میٹنگ میں درخواست کی کہ وہ ’’ٹائم ٹیبل‘‘ کو بھول کر گنجائش رکھیں کہ اگر ضرورت ہو تو وہ بھی اپنے کچھ ٹروپس مزید کچھ عرصے کے لئے افغانستان میں رکھیں۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل اور کچھ وزراء نے فوری حامی بھرلی، لیکن ٹروپس کی تعداد اور افغانستان کے حالات کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔

*۔۔۔ صدر اوباما نے اپنی صدارتی مہم کی بنیاد ہی اس وعدے پر رکھی تھی کہ وہ دو جنگیں جو انہیں ورثے میں ملی ہیں، عراق اور افغانستان ، وہ دونوں سے باعزت باہر نکل آئیں گے۔ عراق سے تو انہوں نے 2011ء میں ہی افواج نکال لی تھیں، لیکن داعش کے قیام اور اس کی فتوحات کے پیش نظر انہیں دوبارہ فوج عراق میں بھیجنا پڑی۔ فضائی حملے پھر سے شروع کئے۔اسی طرح پچھلے موسم بہار میں بڑے وثوق سے یہ فرمایا کہ ’’یہ میرا وعدہ ہے کہ وہ تاریخ کا صفحہ الٹ دیں گے اور ایک دہائی سے زیادہ ہونے والی قتل و غارت کو اختتام تک لے کر آئیں گے‘‘۔۔۔ لیکن حالات نے وہ وعدہ بھی پورا نہیں ہونے دیا اور کہا مجھے اب احساس ہوا ہے کہ ’’جنگ شروع کرنا آسان ہوتا ہے، لیکن اس سے جان چھڑاناانتہائی مشکل‘‘۔۔۔ یہی الفاظ مَیں نے کہے تھے، جب انہوں نے مکمل انخلاء کا ٹائم ٹیبل دیا تھا۔ساتھ ہی ارشاد ہوا کہ امریکہ افغانستان میں 9800 مزیدفوجی غیر معینہ مدت کے لئے رکھے گا،جو دہشت گردی کی کارروائیوں کو روکنے اور افغان فوج کی مزید تربیت کے لئے ہوں گے اور جیسا کہ پہلے لکھا گیا، کابل، بگرام، جلال آباد اور قندھار میں رکھے جائیں گے۔

*۔۔۔ صدر اوباما نے عراق سے فوج واپس بلائی، لیکن اڑھائی سال کے بعد اسلامی خلافت کی وجہ سے واپس بھیجنا پڑی۔جس طرح عراق میں خلا کو داعش نے پُر کیا، اسی طرح افغانستان میں خلا پُر کرنے کے لئے طالبان اور داعش نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دیں اور یہاں بھی فوج مزیدکچھ عرصے کے لئے رکھنے کا اعلان کرنا پڑا۔

* ۔۔۔نئی حکمت عملی کے تحت 9800 فوجی رکھے جائیں گے، تعمیر و ترقی کے لئے 15ارب ڈالر ہر سال افغانستان کو دیئے جائیں گے۔ اب تک امریکہ کے 2330 فوجی مارے گئے ہیں، ایک کھرب ڈالر سے زیادہ کے اخراجات ہو چکے ہیں۔ ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن نے اعلان کیا ہے کہ اگر افغانستان نے درخواست کی تو مزید فوج اور امداد بھی دی جا سکتی ہے۔ ریپبلکن صدارتی امیدوار اور فلوریڈا کے سابق گورنر جیب بش نے بھی کہا ہے کہ اگر ہم دہشت گردی کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے فوجی کمانڈروں کی تجاویز پر عمل کرنا ہوگا۔ صدر اوباما کو بھی یہی کرنا پڑا ہے۔

* ۔۔۔امریکی انتظامیہ کے مطابق صدر اشرف غنی نے بھی، جنہیں امریکہ ،حامد کرزئی کی نسبت زیادہ قابلِ اعتماد سمجھتا ہے، صدر اوباما سے مزید فوج رکھنے کی درخواست کی تھی۔ ابھی اس پر غوروفکر اور صلاح مشورہ جاری تھا کہ طالبان کے افغان فوج اور امریکی فضائی حملوں کے باوجود ’’قندور‘‘ پر قبضے نے فوری فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا۔مَیں نے بھی یہی کہا تھا: ’’طالبان انہیں جانے نہیں دیں گے‘‘۔

* ۔۔۔صدر اشرف غنی نے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ’’یہ فیصلہ طالبان کے لئے ایک واضح پیغام ہے اور شکست ان کا مقدر ہے‘‘۔

*۔۔۔ناٹو کمانڈر نے بھی اس فیصلہ پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، لیکن اتحادیوں کی طرف سے ابھی تک کوئی واضح حمایت سامنے نہیں آئی، لیکن وہ اس فیصلے پر مطمئن ہیں کہ 2016ء میں ایک لاکھ فوجیوں کی تعداد کم کرکے 9800 فوجی رکھنے کا فیصلہ درست ہے۔

* ۔۔۔لیکن ابھی بھی اس فیصلے پر شکوک کے بادل منڈلا رہے ہیں اور یہ آنے والے عرصے میں افغانستان میں طالبان اور داعش کی کامیابی یا ناکامی پر منحصر ہے۔ صدر اوباما نے تو پہلے ہی کہا تھا: ’’تاریخ کا صفحہ اُلٹ دینے کا وقت آ گیا ہے‘‘۔۔۔ لیکن پھر انہیں وہی کہنا پڑا جومَیں نے کہا تھا:’’جنگ شروع کرنا آسان ہے ،لیکن اس سے جان چھڑانا مشکل‘‘۔

مزید :

کالم -