مقبوضہ کشمیر میںڈھونگ الیکشن

مقبوضہ کشمیر میںڈھونگ الیکشن

  

بھارتی الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق انڈیا کے مختلف صوبوں کی طرح مقبوضہ جموں وکشمیر کی بعض نشستوں پربھی انتخابات ہوئے ہیں، دوسرے لفظوں میں اگر ہم یہ کہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بھی الیکشن کا ڈرامہ رچایاجارہا ہے تو غلط نہیں ہو گا۔

مقبوضہ کشمیر میں ماضی میں ہونے والے انتخابات کا جائزہ لیاجائے تو ان کی تاریخ قتل و غارت گری، دھوکہ بازی اور ظلم و جبر سے عبارت ہے۔ یہ الیکشن کشمیریوں کے لئے میٹھے زہر کی مانند ثابت ہو ئے ہیں۔حالیہ انتخابات، جس کے کئی مراحل ابھی باقی ہیں، کے شروع ہونے سے قبل مقبوضہ کشمیر کے پولیس سربراہ مسٹر اشوک پرساد نے دعویٰ کیا تھا کہ انتخابی ڈرامہ کے دوران کسی آزادی پسند کو گرفتار نہیں کیاجائے گا، لیکن یہ تمام تر دعوے محض سراب ثابت ہوئے ہیں۔ بھارتی فوج، سی آر پی ایف، پولیس اور دیگر فورسز کی جانب سے پورے کشمیر میں چھاپوں، گرفتاریوں، پکڑ دھکڑ اور ظلم و زیادتیوں کی ایک باقاعدہ مہم شروع کر رکھی ہے، جس کے تحت کثیر تعداد میں نوجوانوں کو گرفتار کیاجاچکا ہے۔ حریت پسند کشمیریوں کے گھروں پر مسلسل چھاپے مارے جارہے ہیں۔ معصوم بچوں اور خواتین کو ہراساں کیاجارہا ہے اور جس کو چاہتے ہیں زبردستی گھروں سے اٹھا کر پولیس تھانوںمیں یہ کہہ کر بند کر دیا جاتا ہے کہ ان کے گھروں سے الیکشن بائیکاٹ پر مبنی لٹریچر اور اشتہارات برآمد ہوئے ہیں۔

 شمالی اور جنوبی کشمیر میں گرفتاریوں کی یہ مہم ان دنوں پور ے عروج پر ہے۔ جمعہ کے دن بھی درجنوں نوجوانوںکو گرفتار کیا گیا ہے۔حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی، حریت کانفرنس (ع) کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق،جے کے ایل ایف کے سربراہ محمد یٰسین ملک، فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ، دختران ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی،ظفر اکبر بٹ، نعیم احمد خان و دیگر کی طرف سے الیکشن بائیکاٹ کے حوالہ سے گرفتاریوں کے باوجود بھرپور مہم چلائی جارہی ہے۔اگرچہ صورتحال یہ ہے کہ ریاستی حکومت نے ان کی الیکشن مخالف مہم پر عملًا پابندی لگا رکھی ہے اور انہیں لوگوں تک نہیں پہنچنے دیا جارہا، مگر اس کے باوجود کشمیریوں کے جذبات دیکھنے کے لائق ہیں اور وہ جوق درجوق الیکشن مخالف ریلیوںمیں شریک ہو رہے ہیں۔ بھارتی فورسز اور کٹھ پتلی حکومت کی جانب سے ان دنوںلوگوں کے ساتھ جو رویہ اختیارکیاجارہا ہے۔ اس سے الیکشن ڈرامہ ایک فوجی آپریشن اور یکطرفہ کھیل ثابت ہو گیا ہے جس کی کوئی اعتباریت اور اہمیت باقی نہیں رہی۔ حریت پسندوں کی گرفتاریوں ، سرگرم کشمیری نوجوانوں اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں اور ظلم و تشدد کا نشانہ بنانے کے لئے بھارتی فوج کو خاص طور پر استعمال کیاجارہا ہے۔

فوج کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح اس، الیکشن ڈرامہ کو دنیا کے سامنے ایک کامیاب عمل کے طور پر پیش کیاجائے ۔ لوگوںکو قبل از وقت خوفزدہ کیاجارہا ہے، تاکہ وہ مجبور ہو کر ووٹنگ میں حصہ لیں۔مقبوضہ کشمیر میںجاری گرفتاریوںاور پکڑ دھکڑ کے خلاف حریت کانفرنس (گ)کے قائم مقام چیئرمین غلام نبی سمجھی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں حریت کی ممبر تمام تنظیموںکے نمائندگان نے شرکت کی جس میں کہا گیا کہ آزادی پسندوں کے لئے اس وقت کی سب سے بڑی ترجیح الیکشن ڈرامے کے خلاف پُرامن مہم چلانا ہے اس سلسلے میں سب کو یکجان ہوکر اس اہم مسئلے کی طرف توجہ مرکوز کرنی چاہےے۔ جو لوگ اس وقت دوسرے ضمنی مسائل کو اٹھارہے ہیں، وہ شعوری یا غیر شعوری طور اہم قومی مسئلے سے توجہ ہٹانے کے باعث بن رہے ہیں اور ان کی وجہ سے عوام میں بھی انتخابی ڈرامے کے بارے میں ایک ابہام پیدا ہوجاتا ہے۔ حریت کانفرنس اصولی طور جمہوریت کی مخالف نہیں ہے، البتہ جموں وکشمیر میں تعینات ساڑھے سات لاکھ افواج کی موجودگی میں اس عمل کا کوئی جواز نہیں ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ حریت کانفرنس (گ) کا یہ موقف بالکل درست ہے۔ مقبوضہ جموں میں دس اپریل کو جو الیکشن ہوئے ہیں ان میں بدترین دھاندلی عمل میںلائی گئی ہے۔ ایک طرف بھارتی فوجی سول کپڑوںمیں ووٹ ڈالتے رہے تو دوسری جانب فہرستوں سے مسلمانوںکے ووٹ ہی سرے سے غائب کر دیئے گئے۔راجوری ضلع کے کئی پولنگ مراکزمیں ووٹنگ کے دوران نابالغ بچوں کو دوسرے لوگوں کی ووٹر سلپ کے ساتھ پایا گیا۔ درہال علاقہ میں اٹھارہ برس سے کم عمر بچوں سے ہندو امیدواروں کو ووٹ ڈلوائے گئے۔ یہ خبریں خود بھارتی میڈیانے دی ہیں اور کہا ہے کہ ایسے بچوں سے، جب ان کی عمر پوچھی گئی تو وہ وہاں سے لائن چھوڑ کر رفو چکر ہو گئے۔ یہ سب کچھ بھارتی ایجنٹوں، ایجنسیوں اور الیکشن ملازمین کے سامنے ہوتا رہا ،مگر کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ اسی طرح ہزاروں کی تعداد میں وہ لوگ جو برسوں قبل فوت ہو چکے ہیں ان کے ووٹ ڈالے جاتے رہے۔ انہی اطلاعات پر راجوری اور پونچھ اضلاع کے مختلف علاقوںمیں زبردست جھڑپیں ہوئیں اور کئی افراد زخمی ہو گئے۔ ہندو انتہا پسند جموںمیں خاص طور پر سرگرم رہے اوراپنے امیدواروں کو کامیاب کروانے کی کوششیں کی گئیں،جن علاقوںمیں مسلمانوں کے ووٹ ڈالے جانے کا اندیشہ تھا وہاں بہت سے پولنگ مراکزمیں الیکٹرونک ووٹنگ مشینیں ہی خراب پائی گئیں، تاکہ لوگ ہندوﺅں کے نمائندوںکے خلاف ووٹ نہ ڈال سکیں۔

مقبوضہ جموںمیں بعض علاقے جہاں مسلمان قابل ذکر تعداد میںہیں وہاں مسلمانوں نے شکایات کیں کہ انہیں پولنگ بوتھ ہی نہیںمل سکے۔ اسی طرح ایک سے دوسرے پولنگ بوتھ کے درمیان کئی کئی کلومیٹر کا فاصلہ رکھا گیا،تاکہ وہ ووٹنگ میں حصہ نہ لے سکیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ جموںوکشمیر کے عوام نے اپنی آزادی کے لئے بیش بہا قربانیاں دی ہیں ۔بھارتی پارلیمنٹ کے لئے ہونے والے یہ الیکشن اگرچہ تعمیر و ترقی ، بجلی ،سڑک، پانی ،نوکری اور روز مرہ مسائل کے حل کے نام پر لڑے جاتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں کامیاب ہونے والے لوگوں نے ہمیشہ بھارت کے خاکوں میں رنگ بھرے اور کٹھ پتلی حکومتوںنے مقبوضہ کشمیر پر نئی دہلی کے قبضہ کے راستے ہموارکئے ہیں۔جموں کشمیر میں 1947ءکے بعد سے اب تک ہونے والے ہر الیکشن ڈرامے کا یہی مقصد ہوا کرتا ۔ اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ ان الیکشنوں کو کشمیریوں کے مفادات کی بیخ کنی کے سوا کوئی اور نام نہیں دیا جاسکتا۔ کشمیری قائدین کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ان الیکشنوں کا مسئلہ جموںو کشمیر کی مستقبل سازی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔بھارت اوراسکے کشمیری حواری ان الیکشنوں کو ہمیشہ کشمیریوں کے مفادات اور خاص طور پر تحریک آزادی کے خلاف استعمال کرتے آئے ہیں اور بحیثیت ایک زندہ قوم کشمیریوں کو انہیں یہ موقع فراہم نہیں کرنا چاہئے۔ ٭

مزید :

ادارتی صفحہ 1 -