پرسنل ڈرون: مستقبل کے سولجرز کا خواب!

پرسنل ڈرون: مستقبل کے سولجرز کا خواب!
پرسنل ڈرون: مستقبل کے سولجرز کا خواب!

  


زمانہء حال اور ماضی کے سپاہی کے دو خواب بہت مشہور رہے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس کا ہیلمٹ ایک ایسی ٹوپی بن جائے جس کو پہن کر وہ خود تو سب کو دیکھ سکے مگر اس کو کوئی ذی روح نہ دیکھ پائے۔ پرانی داستانوں میں اس کلاہ یا ہیلمٹ یا ٹوپی کو ’’سلیمانی ٹوپی‘‘ کا نام دیا جاتا تھا۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ ان داستانوں کا اگرچہ حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا پھر بھی جوں جوں وقت گزر رہا ہے پرانے خواب حقیقت بن رہے ہیں۔ ہواؤں میں اُڑنے کا خواب، دنیا کے ایک کونے میں بسنے والے کسی انسان کا دوسرے کونے میں بسنے والے کو دیکھنے یا اس کی آواز سننے کا خواب اور پلک جھپکنے میں آپ کے خطوط کا سات سمندر پار پہنچنے کا خواب۔۔۔ یہ سب خواب پورے ہو چکے ہیں۔ اس لئے یہ خیال محض کوئی افسانوی خیال نہیں کہ ایک دن سپاہی کا ’’سلیمانی ٹوپی‘‘ کا خواب بھی پورا ہو جائے گا۔

سپاہی کا دوسرا خواب یہ ہوتا ہے کہ اسے اپنے اُس دشمن کی لوکیشن معلوم ہو جائے جو اُس کی نگاہوں سے اوجھل ہو یا کسی ایسی جگہ گھات لگا کر بیٹھا ہو جو اچانک اس کا کام تمام کر دے۔ سپاہی کا قتل ہو جانے کا یہ خوف آج تک کی تمام جنگوں میں حقیقت بنتا رہا ہے۔ نا گہانیت (Surprise) ایک ایسا اصولِ جنگ ہے کہ اگر دشمن کے ہاتھ آ جائے تو آپ کو نقصان ہوتا ہے اور اگر آپ کے ہاتھ آئے تو دشمن کا نقصان ہو سکتا ہے۔ دونوں کے نقصان کا حجم، ناگہانیت کے حجم پر منحصر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کسی ایسے دشمن کی کھوج میں نکلتے ہیں جو کسی اونچی جگہ پر چھپ کے بیٹھا ہے یا پہاڑ کی ایسی عقبی (ریورس) سلوپ پر مورچہ زن ہے کہ آپ اسے دیکھ نہیں سکتے اور جب دیکھنے کو آگے بڑھ کر بلندی کی طرف جاتے ہیں تو دشمن کی ناگہانیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ افغانستان کی حالیہ چودہ سالہ ( 2000ء تا 2014ء) جنگ میں ایسے سینکڑوں ناٹو سولجرز اُن طالبان کے ہاتھوں مارے گئے جو کسی ایسی کٹی پھٹی اور کوہستانی زمین میں گھات میں بیٹھے رہتے تھے جو ناٹو یا ایساف سولجرز کی نظروں سے اوجھل ہوتی تھی۔ اور اسی طرح پاک فوج کے درجنوں ایسے سپاہی بھی شہید ہو گئے جو دتہ خیل اور شوال کی پہاڑی زمین (Terrain) میں چھپے دہشت گردوں کی زد میں آ گئے۔ ماؤنٹین وار فیئر یا کوہستانی طریقۂ جنگ میں زمین کا فائدہ اٹھانے والا فریق ہمیشہ فائدے میں رہتا ہے اور جس کو موافق زمین میسر نہ آئے، وہ مارا جاتاہے۔ اس لئے سپاہی کا ہمیشہ خواب یہ رہا ہے کہ کاش وہ پہاڑوں کی چوٹیوں سے گھات لگانے والے یا کسی ریورس سلوپ میں چھپ کر بیٹھے ہوئے دشمن کو دیکھ سکتا اور اس کو براہ راست یا بالواسطہ فائر سے ہلاک کر سکتا۔ آپ جانتے ہیں کہ ہموار زمین پر براہ راست فائر کرنے والے ہتھیاروں میں رائفل، مشین گن، دستی بم اور توپ وغیرہ کارگر ہتھیار تصور کئے جاتے ہیں جبکہ پہاڑ کی عقبی ڈھلانوں (Reverse Slopes) پر موجود دشمن کو سپاٹ کر کے ہلاک کرنے کے لئے مارٹر سے بہتر کوئی دوسرا ہتھیار نہیں۔ چنانچہ اب ایک ایسا ہتھیار ڈویلپ کیا جا رہا ہے جو اکیلے دکیلے انفنٹری سولجر کو بھی وہ موقع فراہم کر سکے گا کہ وہ پہاڑوں کے آگے اور پیچھے دونوں اطراف میں چھپے دشمن کا سراغ لگا کر اسے براہ راست یا بالواسطہ فائر سے ہلاک کر سکے گا۔۔۔ اس ہتھیار کا نام ’’پرسنل ڈرون‘‘ رکھا گیا ہے۔۔۔ اس کالم میں آج ہم مستقبل کے اسی ہتھیار پر کچھ روشنی ڈالیں گے۔

اس پرسنل ڈرون کا نام PD-100 رکھا گیا ہے، یہ امریکی آرمی کی ایجاد ہے اس کا سائز اتنا چھوٹا ہے کہ یہ آپ کی ہتھیلی پر بآسانی رکھا جا سکتا ہے اور سپاہی کی جیب میں بھی سما سکتا ہے۔ اس کا وزن تقریباً دو چھٹانک یا 150 گرام ہے۔جبکہ پورے سسٹم کا وزن 1.3کلو گرام ہے۔ لیکن جدید مغربی افواج کے انفنٹری سولجر پر پہلے ہی اتنا بوجھ لاد دیا گیا ہے کہ اس کی پرسنل موبلٹی بہت محدود ہو گئی ہے۔ تاہم یہ کہا جا رہا ہے کہ صرف ایک آدھ کلوگرام وزن بڑھانے سے سولجر پر کوئی زیادہ اضافی بوجھ نہیں پڑے گا اور اس کی حرکیت (موبلٹی) زیادہ متاثر نہیں ہو گی۔ اس ڈرون کا پروازی دورانیہ 15 منٹ رکھا گیا ہے اور رینج 600 سے 1500 گز تک ہے۔ دوران پرواز اسے کسی ایک مقام پر ساکن بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس کا کنٹرولر جو سولجر کے ہاتھ میں ہوگا اس کا وزن (بمعہ پرسنل ڈرون کے) 1.3 کلوگرام ہوگا۔ یہ کنٹرولر سولجر کی چھاتی پر باندھ دیا جائے گا اور ڈرون ایک پاکٹ میں ڈال دیا جائے گا۔ جب اس سولجر کو کسی ہوائی جہاز (پیرا شوٹ) ، ہیلی کاپٹر یا کسی گاڑی سے زمین پر اتارا جائے گا اور وہ بطور ایک انفنٹری سولجر پیدل ہو جائے گا تو اپنے پرسنل ڈرون کو صرف ایک منٹ کے اندر اندر ہوا میں اڑا سکے گا۔ فوراً ہی ایک بٹن کے ذریعے چھاتی پر بندھا کنٹرولر کھل جائے گا اور فضا میں پرواز کرتے ہوئے ڈرون کی تمام نقل و حرکت کنٹرولر کی سکرین پر دکھائی دے گی۔ ڈرون کے اندر ایسا طاقتور کیمرہ نصب ہوگا جو کسی آدمی کی قد آدم تصویر کنٹرولر کی سکرین پر دکھا سکے گا۔ یہ کیمرہ 50 سے 75 فٹ کی بلندی پر سو فیصد درستگی کے ساتھ دشمن کا پتہ لگا سکے گا۔ جس طرح ہیلی کاپٹر کو رن وے کی ضرورت نہیں ہوتی، اسی طرح اس پرسنل ڈرون کو بھی کسی لانچنگ پیڈ کی ضرورت نہیں ہو گی۔ یہ سپاہی کی ہتھیلی پر سے اڑے گا اور 60 سیکنڈوں کے اندر اندر ایئر بورن ہوجائے گا۔ اس کا پروازی دورانیہ چونکہ فی الحال 15 منٹ کا رکھا گیا ہے، اس لئے ان 15 منٹوں کی مدتِ پرواز کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ یعنی پانچ منٹ تک پرواز کرنا، پانچ منٹ تک کسی ایک (یا ایک سے زیادہ) مقام پر ساکن ہونا اور پھر پانچ منٹ میں واپس لوٹ آنا شامل ہوگا۔

البتہ اس ننھے سے ڈرون کو فی الحال تین مشکلات کا سامنا ہے۔ ۔۔۔ ایک تو یہ کہ جس جگہ سے اسے لانچ کیا جائے گا وہاں اگر ہوا کی رفتار زیادہ ہو گی یا تیز ہواؤں کا جھکڑ چل رہا ہوگا یا آندھی کی سی صورت حال ہو گی یا بارش یا رم جھم ہو رہی ہو گی یا بگولے چل رہے ہوں گے تو پرسنل ڈرون کی سمت، رفتار اور بلندی بھی معروضی لحاظ سے اُسی قدر متاثر ہو جائے گی۔ ٹرائل کئے جا رہے ہیں کہ اسے ہر قسم کے موسم اور آب و ہوا میں یکساں آسانی، تیزی اور صحت (Accuracy) کے ساتھ آپریٹ کیا جا سکے۔۔۔ دوسرا خطرہ اس ڈرون کو دشمن کے فائر سے ہے۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ اس کی ساخت میں ایسا مواد استعمال کیا جائے جو گولی لگنے سے تباہ نہ ہو سکے۔ اور اس کی اڑان لائن (ٹریجکڑی) کو حسبِ ضرورت سیدھا یا زگ زیگ ائر پاتھ (Air Path) پر ڈالا جا سکے تاکہ دشمن کو اس پر نشانہ باندھنے میں مشکل پیش آئے۔۔۔۔تیسرا خطرہ آپریٹنگ سولجر کی اپنی ہلاکت کا ہے۔ اگر اسے ہوا میں چھوڑنے کے بعد سولجر کو ہی ہلاک کر دیا جائے تو پھر کنٹرولر اور ڈرون دونوں کو قبضے میں لے کر اس کا ڈاٹا پڑھا اور دیکھا جا سکتا ہے۔

فی الحال امریکن آرمی ہی اس پراجیکٹ کی تکمیل پر کام کر رہی ہے۔ گزشتہ ماہ امریکی ریاست جارجیا میں فورٹ بیننگ کے مقام پر تجربات کے لئے ایک لیبارٹری قائم کی گئی ہے۔ دنیا بھر میں واقع ڈرون سازی کے مختلف کار خانوں سے حاصل کردہ جو تکنیکی مواد اور معلومات اب تک منظر عام پر آ چکی ہیں یا آئندہ معلوم ہونے کی غالب اُمیدیں ہیں ان کی ٹوہ لگائی جا رہی ہے۔ امریکن آرمی نے زیادہ سے زیادہ دسمبر 2018ء تک اس پراجیکٹ کی تکمیل کا بیڑا اٹھایا ہے اسی لئے اس پر نہایت تیزی سے کام کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

امریکہ کے ملٹری کالج آف انجینئرنگ میں بھی آجکل دھڑا دھڑ اس منصوبے پر تجربات جاری ہیں۔ سارا فوکس اس بات پر ہے کہ اگر کسی انفنٹری سیکشن (10 سولجرز پر مشتمل تنظیم کو سیکشن کہا جاتا ہے) کو کسی دور دراز کے کوہستانی علاقے میں لانچ کیا جائے تو وہ اپنے دیئے گئے اہداف کو تلاش کر کے اسے برباد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ پیدل سولجر کے لئے تلاش کا کام جان جوکھوں کا کام ہے اور وقت طلب بھی ہے۔ فرض کیجئے دشمن کسی چھوٹی ٹیکری پر مورچہ بند ہے۔ اس کو برباد کرنے کے لئے اس ٹیکری (چھوٹی پہاڑی) کے اردگرد چاروں طرف دس سولجرز کا ایک سیکشن صف بند کر دیا جاتا ہے۔ ہر ایک کے پاس ایک ایک پرسنل ڈرون موجود ہے۔ ان ڈرونوں سے جو خبریں/ معلومات سیکشن کو ہاتھ لگیں گی ان کو سیکشن کمانڈر کو منتقل کر کے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت دشمن کو Wipe out کیا جا سکے گا۔

قارئین کو یہ بتانا بھی شائد ضروری ہو کہ اس پرسنل ڈرون کا خیال سب سے پہلے افغانستان کی حالیہ جنگ کے دوران آرمی کمانڈروں کے ذہن میں آیا۔ کوہستانی اور کٹی پھٹی زمین کی وجہ سے جب کولیشن فورسز کے جانی نقصانات میں اضافہ ہونے لگا تو اس زمین کے نشیب و فراز کی سروے لینس اور جاسوسی کی ضرورت بڑھ گئی اور یہی ضرورت اس پرسنل ڈرون۔ 100 کی ماں بنی! ۔۔۔ اب اس ماں کے پیٹ سے جو نومولود پیدا ہوں گے، ان کی شکلیں، سائز اور نقوشِ بدن مختلف ہوں گے اور بہتر بھی ہوتے جائیں گے۔ فطرت، انسان کے ہاتھوں نت نئے نقوش پیدا کرتی رہتی ہے۔ پھر مرورِ ایام سے یہ نقوش پرانے ہو جاتے ہیں تو نئی ضرورتیں سامنے آتی ہیں اور یوں نئے اجسام و ابدان جنم لیتے ہیں۔ زندگی کی یہ گاڑی یونہی رواں دواں رہتی ہے۔ اقبالؒ نے کیا خوب کہا ہے:

فطرتِ ہستی شہیدِ آرزو رہتی نہ ہو

خوبتر پیکر کی اس کو جستجو رہتی نہ ہو

یہ کالم جو آپ کی نگاہوں سے گزرا ہے اگرچہ زیادہ تر قارئین کے لئے غیر روائتی موضوع کو محیط لگے گا۔ لیکن آنے والے کل میں جب ڈرون ٹیکنالوجی بہت عام ہو جائے گی تو پاکستان آرمی کو بھی اپنے ہاں پرسنل ڈرون بنانے پڑیں گے۔ مقامِ مسرت ہے کہ چکوال اور پنڈی گھیب کے درمیان ہمارے ڈرون سازی کے کارخانے پہلے ہی کئی اقسام کے مسلح اور غیر مسلح ڈرون تیار کر رہے ہیں۔ ممکن ہے یہ پرسنل ڈرون بھی تیاریوں کے مراحل میں ہو!امریکہ، برطانیہ اور جرمنی میں تو ڈرون سازی کی صنعت سویلین منصوبوں اور روزمرہ کے کام کاج میں بھی استعمال کی جا رہی ہے۔ ایمزان بک کمپنی اس منصوبے پر اب تک کروڑوں ڈالر خرچ کر چکی ہے۔ آپ اپنے کمپیوٹر یا سمارٹ فون پر کسی کتاب کی ڈیمانڈ ایمزان کو بھیج دیں، کتاب کا کوڈ نمبر بھی لکھیں اور ای میل کر دیں۔اگر آپ امریکہ میں ہیں تو تھوڑے ہی وقت میں آپ کے آنگن میں یا آپ کی چھت پر ایک ڈرون پھڑپھڑاتا ہوا اترے گا جس میں آپ کی مطلوبہ کتاب/ کتابیں ہوں گی۔ دور دراز کے خریداروں کے لئے ایمزان بکس کے فرنچائز کھولنے پڑیں گے جو کوئی زیادہ مشکل کام نہیں۔ اپنی کتابیں وصول کیجئے اور بذریعہ ای میل قیمت کی ادائیگی کر دیجئے۔۔۔ سارے مغربی ملکوں میں یہ کاروبار ’’چمک‘‘ رہا ہے اس لئے میں نے سوچا اس کی ایک جھلک آپ کی خدمت میں بھی پیش کروں!

مزید : کالم