رن تھرو

رن تھرو
رن تھرو

  



ہمدم دیرینہ مہر سعید پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ تعلیم و تدریس کے ریٹائرڈ استاد ہیں، لیکن اب بھی ایک آدھ کلاس لے لیتے ہیں، کچھ ریسرچ کرتے ہیں اور کچھ کرواتے ہیں،یوں وہاں کے طلبہ اس عظیم شجر سایہ دار کے اندازتدریس، ان کی شفقت اور ان کی علمیت سے آج بھی فیض یاب ہو جاتے ہیں۔ پچھلے ہفتے ان کی دعوت پر ڈاکٹر رضوان اکرم کی ریٹائرمنٹ پر ان کے اعزاز میں ہونے والی تقریب میں شرکت کی۔بہت خوبصورت تقریب تھی۔ تقریب کے دولہا ڈاکٹر رضوان اپنی بیگم اور والدہ کے ہمراہ تقریب میں موجود تھے۔ ان کے دائیں بائیں ڈاکٹر عابد اور ڈاکٹر رفاقت جیسے قد آور لوگ موجود تھے۔ کانفرنس ہال، جہاں یہ تقریب ہو رہی تھی، کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور وہاں موجود ہر شخص ایک عظیم استاد کو خراج تحسین پیش کرنے پھولوں کے گلدستے لئے موجود تھا۔

ادارہ تعلیم و تحقیق کے سبھی نئے اور پرانے اساتذہ وہاں موجود تھے۔ نئے اساتذہ میں بہت سوں کی عمریں بھی ابھی اتنی نہیں تھیں، جتنے سال پروفیسر ڈاکٹر رضوان نے اس شعبے کی بے مثال خدمت کی ہے۔ تقریب کا خوبصورت ترین اعزاز وہاں ان کی والدہ کی موجودگی تھا۔بیٹے ماؤں کا مان ہوتے ہیں اور بیٹے کو دوستوں کا اچھے الفاظ میں یاد کرنا ماں کو عمر جاوداں سے ہم کنار کرتا ہے۔ دوسراجب تک ماں کا سایہ قائم رہتا ہے، ماؤں کے بیٹے یا بچے کبھی بوڑھے نہیں ہوتے، وہ بچے ہی رہتے ہیں ……اس دن اپنی ماں کا چھوٹا سا بچہ، اپنے شاگردوں کا بہت بڑا استاد اور اپنے ساتھیوں کا بہترین ساتھی، یونیورسٹی کاعظیم اثاثہ اپنی باقاعدہ سروس کو خیر باد کہہ گیا۔اس نے ایک باوقار انداز میں یہ لمبا سفر طے کیا اور آج باوقار انداز ہی میں یونیورسٹی کو چھوڑ رہا تھا۔ایک شخص تقریباً چالیس سال پیشہ پیغمبری سے وابستہ رہتا ہے۔پوری ایمانداری سے تدریس کا کام کرتا ہے۔ تندہی سے نسلوں کو سنوارنے کا کام کرتا ہے،بلکہ نسلوں کی تعمیر نو کے لئے اپنے شاگردوں کو بنا سنوار کر قوم کو پیش کرتا ہے کہ وہ شاگرد، وہ بچے آئندہ آنے والی نسلوں کی قوم کی ضروریات اور قوم کے نظریے کے مطابق تعمیر کریں۔

اس کے ادارے سے پڑھ کر جانے والے طلبہ قوم کے نونہالوں کو اس طرح تعلیم دیں کہ و ہ مستقل کے اچھے شہری، اچھے انسان اور اچھے مسلمان بن سکیں۔وہ اپنا کام پوری تند ہی اور ایمانداری سے کرتا ہے۔یقینا وہ ایک عظیم شخص ہے۔وہ ایک مرد مومن ہے۔ اس کی زندگی سراپا عبادت ہے۔ اس کی جس قدر بھی تحسین کی جائے کم ہے۔ڈاکٹر ممتاز صاحبہ نے انہیں انتہائی فرض شناس ساتھی کے طور پر بتایا۔ ڈاکٹر عابد نے ایک جانثار دوست جانا۔ ڈاکٹر رفاقت نے زمانہ طالب علمی کا سنگی، بہترین ساتھی اور ہمدم کہا۔ ڈاکٹر رفاقت کی دبی دبی مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ کہنا تو بہت کچھ چاہتے ہیں، مگر کہہ نہیں پا رہے۔زمانہ طالب علمی کے ساتھی بڑے ظالم ہوتے ہیں۔ بہت سی کمزوریاں جانتے ہیں۔کھل کر کچھ کہتے نہیں، مگر اپنی دبی دبی مونا لیزا انداز کی مسکراہٹ سے بہت کچھ کہہ بھی جاتے ہیں اور سمجھنے والے سمجھ بھی جاتے ہیں۔مجھے امید ہے ڈاکٹر رضوان یونیورسٹی سروس سے تو ریٹائر ہوئے ہیں، مگر اپنے علم کے چشموں سے ادارے کے طلبہ کو فیض یاب کرتے رہیں گے۔ یونیورسٹی کی ریٹائرمنٹ اور چیز ہے، مگر استاد اپنے کام سے کبھی ریٹائر نہیں ہوتا۔میری دُعا ہے کہ رب العزت ان کی ہمت اور جذبوں کو اسی طرح جوان رکھے اور وہ اپنا درس و تدریس کا کام اسی ا نداز میں جاری و ساری رکھیں۔

مَیں نے جن تین مقررین کو سنا، ان تینوں نے ڈاکٹر صاحب کی بیگم کی بہت تعریف کی اور بتایا کہ ہماری بھابی،ہماری بہن ڈاکٹر افسران کا خاص خیال رکھتی ہیں۔دونوں میاں بیوی کے تعلقات اس قدر مثالی ہیں کہ کوئی بھی دوسرے کی بات ٹال نہیں سکتا۔ روٹین سے ہٹ کر کبھی غیر معمولی حالات میں ان کی مدد شعبے کو درکار ہوتی اور ان سے رابطہ مشکل ہوتا۔ یہ فون نہیں اٹھاتے تھے۔ ایسی صورتِ حال میں چارہ ساز بھابی ہوتیں۔ انہیں کہا جاتا تو جواب ملتا، بھیج دیتی ہوں اور ڈاکٹر وقت مقررہ پر پہنچ جاتے۔ خوشی کی بات ہے، یہ تو اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈاکٹر اور بھابی کا اعتماد اور خلوص کا رشتہ ہے اور ڈاکٹر خواتین کے معاملے میں بھی بہت سادہ، نیک،کامیاب اور با کردار آدمی ہیں اور یہ خوبی ہر باکردار پُر خلوص اور شریف آدمی میں ہوتی ہے۔ کہتے ہیں ہر کا میاب آدمی کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے اور ناکام کے پیچھے بہت ساری عورتوں کا ہاتھ۔اللہ تعالیٰ بھابی کو سلامت رکھے۔دونوں کے پیار اور محبت کو مزید جلا دے۔ خصوصاً ریٹائرمنٹ کے بعد تو ایک دوسرے کی ضرورت سوا ہو جاتی ہے۔میاں بیوی کے تعلقات سے مجھے ایک واقعہ یاد آیا۔

چندسال پہلے کی بات ہے۔ میرے ایک جاننے والے میرے پاس تشریف لائے۔ انہیں ایک بیوروکریٹ سے کچھ کام تھا۔ چاہتے تھے کہ مَیں اس بیوروکریٹ سے کہہ کر ان کا کام کروا دوں۔ مَیں نے انکار کر دیا کہ ایک تو تمہارا کام جائز نہیں لگتا، دوسرا وہ بیوروکریٹ ایک ایماندار آدمی ہے۔ میرے خیال میں یہ کام ہرگز نہیں کرے گا۔کہنے لگا آپ کے تو زمانہ طالب علمی سے اس سے بڑے گہرے تعلقات ہیں۔ آپ کو کیسے انکار کر سکتا ہے؟مَیں نے ہنس کر کہا۔ گہرے تعلقات تھے۔ اب وہ ایک بیوروکریٹ ہے اور بیوروکریٹ کسی کا دوست نہیں ہوتا۔ اس کے مفادات کی مٹی ہر گہرائی کو پاٹ دیتی ہے۔وہ کچھ ناراض ناراض مجھ سے رخصت ہوئے۔ مجبوری تھی،مَیں چُپ رہا۔ کچھ دن بعد ان سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔ بڑا ہنس کر کہنے لگے، آپ کے ایماندار دوست سے مَیں نے اپنا کام کروا لیا ہے۔ مگر کیسے؟ مَیں نے حیران ہو کر پوچھا۔ جواب ملا،آپ کے دوست انتہائی شریف اور رن تھرو ہیں۔

مجھے سمجھ نہیں کہ رن تھرو کیا ہوتا ہے۔ مَیں نے وضاحت چاہی تو بتانے لگے کہ کہ یہ لفظ دو مختلف زبانوں کا مجموعہ ہے۔ رن پنجابی میں بیوی کو کہتے ہیں اور تھرو کا مطلب ہے ”کے واسطے“۔مَیں اپنی بیگم کو لے کر ان کے گھر پہنچ گیا۔ کچھ سچی جھوٹی واقفیت نکالی اور کہا بہن آپ کے میاں سے یہ چھوٹا سا کام ہے۔وہ بڑی خوش ہوئیں اور کہا کہ میرے بھائی کا کام ہو اور میرے میاں نہ کریں، یہ ممکن ہی نہیں۔ بس بھائی کا مقصد حل ہو گیا……مَیں نے اس دن کے بعد اپنے سمیت بہت سے لوگوں کا جائزہ لیا اور آخر اس بات کا قائل ہو گیا ہوں کہ شریف آدمی شیر اور جبر سے تو ٹکرا سکتا ہے ان سے بالکل بھی نہیں ڈرتا، مگر بیوی کے سامنے ڈر کی ساری حدیں سرنگوں ہو جاتی ہیں اور اسے رن تھرو ہونے کے سوا کوئی راستہ نہیں نظر آتا۔ کیا کریں، دن کہیں بھی گزاریں، رات تو گھر ہی جانا ہوتا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ کوئی مانے یا نہ مانے، مگر جو بھی شریف آدمی ہے تو وہ لازمی ”رن تھرو“ بھی ہے۔

مزید : رائے /کالم