وہ نوجوان جو مسجد میں سپینش زبان سکھاتا ہے

وہ نوجوان جو مسجد میں سپینش زبان سکھاتا ہے
 وہ نوجوان جو مسجد میں سپینش زبان سکھاتا ہے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ایف ایس سی پری انجینئرنگ سیکنڈ ائیر کا رزلٹ آ چکا تھا۔ میں نے اللہ پاک کے فضل سے 72 فی صد نمبر حاصل کیے ، طلباء کی قابلیت میں بہت سخت مقابلہ چل رہا تھا ، میں چند نمبروں کی کمی کی وجہ سے انجینئرنگ یونیورسٹی میں داخلے سے محروم رہ گیا ۔ پریشانی کے عالم میں بازار جا رہا تھا کہ اچانک ایک دیوار پر نظر پڑی ، دیوار پر لکھا تھا سویڈن یونیورسٹی میں داخلے کے لیے آج ہی اپلائی کریں ۔ میں نے اشتہار سے نمبر اور ایڈریس نوٹ کیا اور اپنی اسناد لے کر کنسلٹنٹ صاحب کے آفس پہنچ گیا ۔ موصوف نے میرا میٹرک کا رزلٹ کارڈ دیکھ کر مجھے مسکرا کر مبارکباد دی کہ آپ تین ماہ بعد سویڈن یونیورسٹی میں ہوں گے۔میرا کیس اپلائی کیا گیا اور میں واقعی گوتے بورگ سویڈن یونیورسٹی کا سٹوڈنٹ بن گیا ۔

میں سویڈن تو نہ جا سکا البتہ قسمت مجھے مستقبل سنوارنے کے لیے ستمبر 2010 میں بارسلونا کی سر زمین پر لے آئی ۔ نئی دھرتی پر قدم رکھا تو سب سے پہلا ٹارگٹ یہ رکھا کہ مجھے اسپینش سیکھنی ہو گی ۔ ارد گرد سے پتہ چلاکہ ایک پاکستانی نوید نامی نوجوان ایک مسجد میں اسپینش سکھاتا ہے ، ایک دو دن بعد جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے اسی مسجد میں پہنچا ، نماز جمعہ کی ادائیگی سے پہلے مسجد میں ایک دبلا پتلا سا نوجوان مائیک پر آیا اور اعلان کیا کہ یکم اکتوبر کو اسپینش کورس کا آغاز ہو گا اور میں ہی اسپینش پڑھایا کرو ں گا ۔ دل میں خیال آیا کہ یہ بھائی کیا اسپینش سکھائیں گے جو خود ہمارے ہم عمر ہیں ، بہر حال یکم اکتوبر کو میں بھی باقی 25 نئے کلاس فیلوز کے ساتھ اسپینش کی کلاس میں تھا ۔

کلاس روم میں داخل ہوتے ہی نگاہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی تصویر پر پڑی ، وہ کلاس روم ادارہ منہاج القرآن کی لائیبریری تھا ، قادری صاحب کی شخصیت اور ادارہ منہاج القرآن سے میری اتنی واقفیت تو نہیں تھی لیکن پھر بھی اسپینش سیکھنے کے لیے میں نے کورس میں داخلہ لے لیا ۔کلاس شروع ہو گئی ، وہ میرے لیے صرف ایک کلاس ثابت نہیں ہوئی تھی ،بلکہ ساتھ ہی ایک خوشگوارزندگی کا آغاز بھی ثابت ہوئی ۔ اب وہ دبلا پتلا نوجوان ہمارے لیے استاد محترم کی حیثیت حاصل کر چکا تھا ۔

نویدصاحب نے اسپینش کے ساتھ ساتھ ہمیں جنرل نالج اور منہاج القرآن کے عظیم نیٹ ورک سے آگاہی بھی دی ، نوید صاحب اتنے کمال کے استاد تھے کہ میں اپنے آپ کو ایک خوش قسمت انسان سمجھ رہا تھا کہ مجھے اتنے عظیم استاد کی صحبت میسرآرہی ہے ، استاد محترم نے ہمیں منہاج القرآن کی خدمات سے بھی آگاہ کیا ، اور بتایا کہ ادارہ منہاج القرآن جہاں 100 سے زیادہ ممالک میں علم کی روشنی بانٹ رہا ہے وہیں پر پوری دنیا میں دکھی انسانیت کی فلاح کے لیے بھی کوشش کر رہا ہے ، وقت گزرتا گیا ، کلاس ختم ہو گئی ۔

نوید احمد اندلسی (اندلس اسپین کو عربی میں کہتے ہیں) صاحب نے 25 کلاسزمیں 1000 سے زائد طلباء کو اسپینش زبان سکھائی ، آپکے طلباء میں سے ہی کچھ اسپینش کے استاد بنے اوروہ اب اپنے استاد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے منہاج القرآن میں اسپینش کی کلاسز کروا رہے ہیں ۔ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے ادارے پاکستان کی طرح باہر کے ممالک میں بھی عوام کی خدمت کے لیے کوشاں ہیں ،

کلاس میں منہاج القرآن کی خدمات کا ذکر سنتے ہوئے پتہ چلا تھا کہ ، اس تحریک نے امت مسلمہ کو 1300 سے زائد کتب کا تحفہ بھی دیا ہے جن میں سے 500 کے قریب شائع ہو چکی ہیں ، دنیائے اسلام کی سب سے بڑی میلاد کانفرنس بھی اسی تحریک کے زیر انتظام مینار پاکستان کے گراو¿نڈ میں ہر سال ہوتی ہے ، حرمین شریفین کے بعد سب بڑا اعتکاف بھی اسی تحریک کے زیر اہتمام ہوتا ہے ، حرمین شریفین کے بعد جس واحد جگہ پر24 گھنٹے لگاتار درود پاک پڑھا جاتا ہے وہ بھی اسی تحریک کے مرکزی سیکرٹریٹ پر گوشہ درود کے نام سے موجود ہے ، نائن الیون کے بعد اسلام کو ایک پرامن دین کے طور پر پوری دنیا کے سامنے اسی تحریک نے پیش کیا ۔ اسی تحریک نے دہشتگردی کا مخالف بیانیہ 25 کتابوں کی شکل میں پیش کیا ، اور اس وقت علامہ قادری صاحب ہی وہ واحد سیاسی لیڈر ہیں جو انتخابی نظام کو شفاف کرنے کے ایجنڈا پر ہیں۔

وطن عزیز پاکستان کی زرخیز مٹی نے نوید احمداندلسی جیسے بہت زیادہ قیمتی ہیرے تراشے ہیں۔ لیکن خود ابھی تک ان ہیروں کی چمک سے محروم ہے،ہمارے وطن عزیز پاکستا ن میں جاری موجودہ کرپٹ انتخابی نظام نے ایسی حکومتیں پیدا کی ہیں جو ان ہیروں کی قدر نہیں جانتیں .

۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ