تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 20

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 20
تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 20

  

باغ کامراں کی سفید بارہ دری کے سرخ قدِ آدم چبوترے کے چاروں طرف مغل اور راجپوت سپاہیوں کا سخت پہرہ کھڑا تھا۔خواجہ سرا تک داخلے سے معذور تھے۔تمام وروں پرپردے پڑے تھے ۔اندر مہابت خاں خانِ کلاں نجابت خاں مرزا راجہ ،رستم خاں فیروز جنگ دارا کے جلوس کا انتظار کر رہے تھے۔پھر دارا راؤ چھتر سال راجہ راجر وپ راؤ رتن سنگھ ہاڑا ،سید جعفر اور رانا جگت کے ساتھ بر آمد ہوا۔

دارا نے بیٹھتے ہی ظلِ سبحانی کے فرمان کا مضمون بنا دیا۔مہابت خاں اپنی کرسی سے اٹھ کر تخت کے سامنے کھڑا ہوا ۔اعتماد شہنشاہی کے شکریے میں سلام کئے ۔دارا نے اپنی کمر سے تلوار کھولیاور نیابت کے نشان کے طور پرخان کی کمر سے باندھ دی۔خان نے کورنش ادا کی اور گزارش کی۔

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 19 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’غلام کی استدعا ہے کہ بارگاہ شاہ بلند اقبال اسی طرح برپار ہے۔نشان کھلے رہیں اور مورچے قائم رہیں۔صاحب عالم سپاہِ خاصہ کے ساتھ کوچ فرمائیں ۔مہابت خانی لشکر کے افواج شاہی کے مقامات پر مستعدہوتے ہی افواج شاہی قسطوں میں رخصت میں رخصت ہوں تاکہ غنیم کے اچانک حملوں سے فتوحاتِ سابقہ محفوظ رہیں ۔‘‘

دارا نے اس دوراندیش مشورے کی تائید کی اور دربار برخاست کردیا۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

چھوٹے چھوٹے راستے جو ہلکے رسالوں کے متحمل ہوسکتے تھے،منتخب ہوئے اوردوپہر ہوتے ہوئے دارا پانچ ہزار سواروں کے ساتھ بظاہر شکار کے لئے سوار ہوا اور ہاتھ پر باز بٹھا کر باگیں اٹھا دیں۔

شاہزادہ ایک ایک کوچ میں دو دو منزلیں لپیٹتا ہوا شاہ جہاں آباد کی حدود میں داخل ہوگیا۔سائے لمبے ہوچکے تھے ۔مغربی آسمان پر قر مزی بادلوں کی دھاریوں میں سرخ پوش سورج غروب ہوتے ہوئے رہ گیا تھا ۔جیسے جشن کی روشنیوں میں جگمگاتی جمنا میں ظلِ سبحان کا یاقوتی بجرہ کھڑا ہو۔دور قطب کی عظیم الشان عمارتیں افق کی گود میں سر رکھے کھڑی تھیں ۔مقامی امراء اس بارگاہ کے سامنے پیشوائی کو حاضر تھے جو ولی عہد کی آمد کی اطلاع ملتے ہی برپا کردی گئی تھی۔بارگاہ کے اندرونی درجے میں ایک غلام دارا کی نیم آستین میں تکمے لگارہا تھا،دوسرا پٹکا باندھ رہا تھا کہ راؤ چھتر سال ہاتھ باندھ کر سامنے آیا ۔دارا نے بائیں ابرو کے اشارے سے عرض و طلب کی اجازت دی ۔راؤ نے گزارش کی۔

’’صاحب عالم !جس شہر سے پورے قندھار کو روندا ڈالنے کے یوگ لشکر لے کر نکلے ہوں اس شہر میں چند ہزار سواروں کے ساتھ داخل ہونا راج نیتی کے خلاف ہے۔یدھ جاری ہے لیکن ہماری جھولی میں دجے کی کوئی ایسی پونجی نہیں جسے مہابلی (شاہ جہاں ) کے چرنوں میں رکھا جاسکے ۔رعایا کی بھوکی آنکھوں کو دکھلایا جاسکے۔اس لئے نویدن ہے کہ صاحب عالم رات چڑھے سوار ہوں اور ہم لشکرپھیلا کر صبح ہوتے ہوتے شہر میں داخل ہوں ۔رعایا سمجھے گی کہ صاحب کی فوجیں رات سے داخل ہو رہی ہیں اور ابھی تک داخل نہیں ہو چکیں ۔‘‘

دارا نے گردن موڑ کر راجہ راج روپ اور رانا جگت کو دیکھا۔دونوں نے ہاتھ جوڑ لئے اور ایک آواز میں بولے ۔

ؔ ’’راؤ کی رائے راج نیتی کے مطابق ہے۔‘‘

لیکن دارا جو سر سے پاؤں تک محبت ہی محبت تھااور غم سے پگھلا جاریا تھا،چند گھڑیوں کی مزید تاخیر کے لئے تیار نہ ہوسکا ۔آہستہ سے بولا۔

’’راؤ نے جو کچھ کہا ہے وہی ہمارے دماغ نے بھی ہم سے کہا تھا لیکن ہم دل کے ہاتھوں مجبور ہیں ۔سیاست اور محبت دو ستیلی بہنیں ہیں جن میں تم صلح نہیں کراسکتے ۔‘‘

اور تلوار کے قبضے پر ہاتھ رکھ دیا جو روانگی کا حکم تھا اور گھوڑے پر سوار ہوتے ہی ایڑلگا دی ۔تھوڑی دیر بعد شاہ جہاں آباد کے نیم روشن اور آباد بازار اس کے گھوڑے کی ٹاپوں سے گونجنے لگے۔قلعہ معلی کے قلعہ دار کو اتنی مہلت بھی نہ مل سکی کہ باقاعدہ سلام حاضر ہوتا۔لاہوری دروازے پر تھوڑے سے گرز برداروں اور خاص برداروں کو لے کر رکاب بوسی کی سعادت حاصل ہوسکی ۔وہ ہمیشہ کی طرح نوبت خاں پر اتر پڑا ۔دولت خانہ خاص کی طرف پاپیادہ چلا ۔روشن راستوں کے دونوں طرف سے خواجہ سراؤں ،چیلوں اور شمشیرزادوں کی مبارک بادیاں برس رہی تھیں ۔دیوانِ عام کے خاص باغ میں قدم رکھتے ہی مقرب خاں حاض ہوا۔قدم بوس ہو کر گزارش کی۔

’’ظلِ سبحانی برج میں تشریف فرما ہیں ۔‘‘

زنگی خواجہ سراؤں کی تلواریں ہٹاکر بادشاہ بیگم آگے بڑھیں اور دارا کی پیشوائی کی۔ایک فانوس کی مدہم روشنی میں سفید کشمیری چادر اوڑھے ظلِ سبحانی سورہے تھے۔اس نے کھڑے ہوکر سلام کئے ،پائے مبارک کو بوسہ دیااورخاموش کھڑا شہنشاہ کا سفید چہرہ دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ اتنی قلیل مدت میں وہ کتنے ضعیف ہوگئے ہیں ۔پھر خواجہ سرا فہیم نے گستاخی کی حد تک آکر گزارش کی۔ 

’’حمام تیار ہے۔‘‘

لیکن وہ اسی طرح کھڑا رہا۔ آخر بادشاہ بیگم نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ دیا۔ نگاہیں ملیں۔ بادشاہ بیگم اسے برج سے باہر لے گئیں اور حکم دیا۔

’’غسل کرو۔ دستر خوان پربیٹھو کہ صورت پہچانی جائے۔‘‘

وہ بادشاہ بیگم کے حسن کی بے ساکھیوں پر گھسٹتا ہوا اپنے محل کی طرف چلا گیا۔

***

قلعہ معلی سے مسجدوں، مسجدوں سے دیوان خانوں، دیوان خانوں سے بازاروں اوربازاروں سے ایک ایک چھت اور ایک ایک کان تک دارا کی نامراد واپسی کی خبریں حاشیوں کی خلعتیں پہن کر پھرنے لگیں۔ لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ شاہزادے کے رکاب میں وہ جلیل الشان منصب دار نہ تھے جن کے نقاروں کی دھمک سے بارہ بارہ کوس تک کی زمین دہل اٹھتی تھی۔ زرکار جھولوں، سنہری عماریوں اور جڑاؤ چھتروں والے وہ مشہور عالم ہاتھی نہ تھے جن کی ٹھوکریں بڑے بڑے سورما غداروں کے خون سے رنگین تھیں۔ فولاد کے عفریتوں کی طرح سینکڑوں خچروں اور بیلوں کے کندھوں پر وسوار وہ بھاری توپیں نہ تھیں جنہوں نے صدیوں پرانے پشتینی باغی دارالحکومتوں کو مٹی کے گھروندوں کی طرح توڑ پھوڑ کر پھینک دیا تھا۔ وہ طوغ و علم نہ تھے جن کی پرچھائیں کے سامنے بڑے بڑے نامی بادشاہ اور مہاراجے گھٹنوں کے بل گرپڑتے تھے۔ تخت و تاج کے سائے میں پلے ہوئے وہ آزمودہ کارامراء نہ تھے جن کے سینے شاہی گمغوں سے زرد، پیٹھ ڈھال اور زخم کی تہمت سے پاک اور کمر دوہرے خنجروں سے مزین ہواکرتی تھی۔ 

دارا کی سواری کا ان تمام متعلق اور منسوب خدم و حشم سے محروم ہوجانا کسی بھاری شکست کے مترادف تھا۔ ایسی شکست جو کبھی کسی ولی عہد کو نصیب نہ ہوئی۔

(جاری ہے )

مزید : کتابیں /دارا شکوہ