تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 19

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 19
تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 19

  

مشعلوں کے دریا چاروں طرف سے چلے اور بسنت کے قلعے کی مشرق دیوار کے سامنے پھیل گئے ۔کئی فرلانگ کے رقبے میں بارود کے حجروں اور سیسے کی چادروں کا ملبہ پڑا تھا۔دارا اپنے گھوڑے پر سوار اس جگہ کھڑا تھا جہاں سیاہ لاشوں کے چیتھڑے پڑے تھے اور اٹھتے ہوئے شعلوں پر ہزار وں آدمی پانی ڈال رہے تھے۔ساری فضا جلتی ہوئی لاشوں کی بو سے مسموم تھی لیکن دارانے اپنی ناک پر رومال تک نہ رکھا۔وہ اسی طرح کھڑا تھا جیسے اپے چیہتے بیٹے کی لاش پر کھڑا ہو۔اس کے چہرے کے خطوط لٹک گئے تھے۔آنکھوں سے وحشت ٹپک رہی تھی ۔بے جان سے ہاتھوں میں لگام تھی اور گھوڑا دم تک ہلانا بھول گیا تھا۔پھر اس نے داہنی رکاب کے پاسے کھڑے مہابت خاں اور مرزا راجہ اور فیروز جنگ کو غضب ناک نگاہ سے دیکھا اور پوری آواز سے گرجا۔

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 18 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’تحقیقات کی جائے اور اگر سلیمان شکوہ پر بھی جرم ثابت ہو تو عبرت ناک سزائیں دے کر سولی پر لٹکا دیا جائے ۔‘‘

اور بارگاہ کی طرف باگ اٹھا دی۔

مہابت خاں اور مرزا راجہ کے سرا پردہ خاص میں عدالتیں قائم ہوگئی تھیں اور بسنت کے قلعے کے ایک ایک ذمہ دار آدمی کی فہرست مکمل ہوگئی تھی۔سیّد جعفر اس خفیہ فہرست کی تکمیل کے بعد صبح ہوتے ہوتے ایک ایک من کے پاؤں اٹھاتا اپنے کوشک میں واپس آیا۔سامنے عنبر،رضاقلی ،فرہاد خاں اور حسین علی چہروں پر خوف کے تو بڑے چڑھائے کھڑے تھے۔پنشاخوں کی زرد روشنی میں جعفر ان کی ناک صورتوں کے نقوش پڑھتا رہا اور پھر ایک بھیانک خوف کی ٹھنڈک اس کی ہڈی میں تیر گئی ۔اس نے ان چاروں کو اپنے ساتھ لیا اور برج روشنیوں میں اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے اور تسبیح کی فیروزی دانے اگلیوں سے پھسل رہے تھے ۔جعفر نے ساتھیوں کو برج میں چھوڑا اور خود تہہ خانے کا دروازہ کھول کر نیچے اتر گیا۔فانوسوں کی تیش روشنی میں لالہ اپنے ریشم پوش تخت پر طلوع ہوتی ہوئی صبح کی میٹھی نیند میں غرض پڑی تھی ۔فرش پر کمسن خواجہ سرا کمبلوں میں لپٹے گٹھڑے بنے پڑے تھے ۔جعفر ایک ایک چیز کو دیکھتا ہوا سرنگ میں کھلنے والے دروازے کے سنگین پٹ کے قریب آیا ۔کھول کر دیکھا ۔قزلباشوں کا ایک دستہ سیاہ پگڑیوں کے شملوں میں منہ چھپائے کھڑا تھا۔انہیں انتظار کرنے اور مشعلیں بجھا دینے کا حکم دیا اور برج میں آکر عنبر ،رضا قلی ،فرہاد خاں اور حسین علی کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا ۔وہ لالہ کو کن اکھیوں سے دیکھتے ہوئے سرنگ کے دروازے کی طرف بڑھے۔ابھی چند قدم ہی چلے تھے کہ قزلباش بھیڑیوں کی طرح جھپٹے اور زہر میں بجھے خنجر دستوں تک سینوں میں اُتار دیئے ۔

دارا کے دست خاص سے لکھے ہوئے فرامین لے کر تین قاصد صبار فتار سمندروں پرسوار ہوئے اور کابل ،بلخ اور بدخشاں کے راستوں پر زخمی عقابوں کی طرح اڑنے لگے۔سرحدی دیہاتوں پر ہزاری منصب دار متعین ہوئے کہ جس قیمت پر اور جس قدر بارود اور سیسہ ممکن ہو ،فراہم کیا جاسکے ۔تمام بلند مقامات پر تیر انداز مورچہ باندھ کر بیٹھ گئے۔شمال سے جنوب تک میلوں میں پھیلا ہوا مغل لشکر سمٹ کر ایک جگہ آہنی دیوار بن کر کھڑا ہوگیا کہ مغل توپ خانے کی خاموشی سے فائدہ اٹھا کر غنیم اپنے آتش خانوں کے ساتھ دھاوا نہ کردے ۔بچاکھچا آتش گیر سامان آڑے وقت کے لئے محفوظ کردیا گیا۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک ایک دن ایک مہینے کی طرح کاٹا گیا ۔ایک ہفتہ ایک ایک سال کی طرح گزارا گیا۔لیکن سونے کے بھاؤ خرایدا ہوا سامانِ توپ خانہ اتنی مقدار میں بھی میسر نہ ہوسکا کہ ’’گڑھ بھنجن ‘‘اور عقدہ کشا جیسی بھاری توپیں سلامی کے لئے بھی داغی جاسکیں ۔کابل ،بلخ اور بدخشاں سے قاصد وں کی واپسی کا آسمان سے اترنے والے فرشتوں کی طرح انتظار ہوتا لیکن وہ کسی طرح آہی نہ چکتے ۔

دارا اپنے خاص سواروں کے ساتھ باغ کامراں سے برآمد ہوا۔اخوند کے قلعے کو جانے والے ٹیڑھے میڑھے راستے پر بڑھ رہا تھا کہ پہلو سے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آوازیں آئیں ۔دارا نے باگ کھینچ لی۔چند سوار دریافت حال کے لئے عقب سے نکلے ۔آنے والوں نے دارا کا طوغ دیکھتے ہی گھوڑوں کی پیٹھ چھوڑدی ۔زمین بوس ہوئے اور آگے بڑھے ۔خواص خان کو دیکھتے ہی دارا چونک پڑا اور حاضری کا سبب پوچھا۔خواص خاں نے پٹکے سے خریطہ زرّیں نکال کر پیش کردیا۔دارانے بوسہ دیا۔پیش قبض سے مہر توڑ ی اور مکتوب شہنشاہ کھولا۔مرقوم تھا۔

’’مہین پور خلافت!

مطلع کیا جاتا ہے کہ بادشاہ بیگم کے مزاج کی ناسازی سنگین صورت اختیار کر گئی ہے۔اس لئے تاکید کی جاتی ہے کہ مہم مہابت خاں کے ہاتھوں سونپ کر امرائے نامداراور راجگانِ جلاوت آثار کے ساتھ فوراًکوچ کرو کہ بادشاہ بیگم کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور مابدولت کو سکونِ قلب میسر ہو۔

(مہر برائے)ابوالمظفرشہاب الدین محمدشاہ جہاں غازی صاحب قرآنی ثانی‘‘

احتیاط کے پیش نظر خواص خاں کو ہم رکاب لیا ۔اخوند کے قلعے کی طرف چلتے ہوئے راؤچھتر سال کو حکم دیا کہ پوری رازداری کے ساتھ امرائے جلیل الشان کو طلب کیا جائے ۔میر سامان ملا فاضل کو حکم ہوا کہ ہزاری منصب داروں کے ساتھ اڑے اور دو منزلوں کے بعد قیام کا انتظام کرے۔(جاری ہے )

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 20 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /دارا شکوہ