اندازِ حکمرانی بدل گئے

اندازِ حکمرانی بدل گئے
اندازِ حکمرانی بدل گئے

  

میلہ اسپاں کا آج آخری دن تھا۔ ختم تو کل ہونا تھا ایک دن کی توسیع کر دی گئی تھی۔مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے جانور اونٹ گھوڑے بیل، گائیں اور چھوٹے بڑے جانور ہر نسل اور علاقہ سے تعلق رکھنے والے لائے جاتے، خریدے اور بیچے جاتے۔ گھڑ دوڑ ہوتی، نیزہ بازی کے مقابلے ہوتے۔رنگا رنگ پروگرام ورائٹی شو ہوتے ان دنوں عریانی، بے حیائی اور بے ہودگی کے مناظر نہیں ہوتے تھے۔ اب یہ میلہ مویشیاں شہر سے 8 میل دور جانب غرب لگا ہوا ہے۔

موجودہ کمرشل کالج جو اس سے پہلے گورنمنٹ ڈگری کالج بوائز تھا اور اس سے قبل تقسیم ملک سے قبل ہندوؤں کا ادارہ تھا۔ ہندو گئے تو یہ مہاجر کیمپ بن گیا۔ ڈاکٹر نذیر احمد شہید اس مہاجر کیمپ میں خدمات انجام دیتے تھے۔ دوا بھی دیتے اور مہاجر بھائیوں کی ضروریات کی فراہمی کے لئے شہریوں سے تعاون مانگ کر ضرورتیں پوری کرنے کی کوشش کرتے۔ ملتان کے ایمرسن کالج کے کلاس فیلو بھی تعاون کے لئے گئے۔ شہر ڈیرہ غازیخان کے مقامی لوگ بھی ساتھی بنتے گئے۔ بعد میں یہ ادارہ گورنمنٹ ڈگری کالج برائے طلبا کی شکل اختیار کر گیا۔ ان دنوں میلہ اسپاں یا میلہ مویشیاں کالج سے جنوب کی طرف موجودہ گاؤ شالہ ریلوے لائن ریلوے اسٹیشن انڈس کالونی،  غازیخان کالونی، دفتر محکمہ انہار، سرکٹ ہاؤس  آخر تک سارا میلہ مویشیاں ہی ہوتا تھا میں نے 1951ء میں سال اول میں کالج میں داخلہ لیا تھا۔ کالج سے جنوب میں میلہ ملحق ہی لگتا تھا۔

ہم طالب علم دوست میلہ دیکھنے گھوڑ سواری کرنے کا شوق پورا کرنے نکل جاتے تیسرے یا دوسرے سال گورنر جنرل پاکستان خواجہ ناظم الدین مرحوم اور گورنر پنجاب سردار عبدالرب نشتر مرحوم بھی میلہ کے دنوں یہاں تشریف لائے ان کی بڑی لمبی کھلی کار آہستہ آہستہ میلہ کی درمیانی کچی سڑک پر چل رہی تھی۔ وہ دونوں طرف مال مویشیوں کا نظارہ کرتے گزر رہے تھے۔ مجھے ڈاکٹر صاحب نے ہینڈ بل کا پلندہ دیا میلہ میں تقسیم کرنے کے لئے جن پر چھپا ہوا تھا ”ملک خدا کا ہے قانون بھی خدا کا ہونا چاہئے“ میں نے اپنے طلبا ساتھیوں کے ساتھ گورنر جنرل اور گورنر صاحب کی کار کے ساتھ لگ کر انہیں ہینڈ بل تھما دیئے اور کچھ کار میں پھینک دیئے۔ دونوں نے مسکرا کر لے لئے۔ کوئی ہٹو بچو اور آج کی طرح کا پروٹوکول نہیں تھا۔ آج کل کئی کئی گھنٹہ سڑکیں بلا ک کر دی جاتی ہیں۔ دوکاندار اور عام پبلک مصیبت میں آ جاتی ہے۔

ایمبولنسوں کو بھی راستہ نہیں ملتا۔ مریض ایمبولینس میں دم توڑ دیتے ہیں۔ بیورو کریسی کارکردگی دکھاتی، نمبر بناتی ہے عوام کی جان پر بن جاتی ہے۔ شام کو ڈاکٹر صاحب کو بتایا تو انہوں نے فرمایا یہ دونوں پاکستانی حکمران موجودہ وقت میں مثالی مسلمان اور مثالی پاکستانی ہیں مجھے تو ان کی وہاں میلہ میں جانے کی خبر نہیں تھی۔ خیر اب تو تم لوگوں نے ایک صحیح پیغام ان محب وطن اور محب اسلام حکمرانوں تک پہنچا دیا۔ بعض دفعہ اس قسم کی حرکات  رنجش اور بدمزگی کا سبب بھی بن جاتیں جن کو دیکھ کر ایمان تازہ ہوتا تھا ایسے لیڈر اب کہاں انتظامی افسران انتقامی کارروائی کر گزرتے ہیں۔ میں ڈاکٹر صاحب کی وجہ سے اور اپنے گھر میں جماعت اسلامی کی تربیت گاہیں منعقد ہونے اور خود کارکن کی حیثیت سے سکول کے آخری دو سال اور دوران کالج ڈاکٹر صاحب کی خواہشات کے مطابق تحریکی معاملات میں دلچسپی لیتا تھا۔ سیاسی  ذہن بن گیا تھا۔ دوسرے دوستوں میں سردار عبدالعزیز خان بزدار میرے سکول اور کالج ڈیرہ غازیخان پھر کراچی کے دوران اور پھر وکالت کے دوران بہت ہی عزیز دوست رہے عزیز خان کے والد بزرگوار انگریز دور میں رسالدار بارڈر ملٹری پولیس تھے۔ آزادی کے بعد بھی وہی رسالدار تھے۔ عزیز خان خود ایم اے ایل ایل بی تھے۔ ان کے ایک بھائی پولٹیکل تحصیلدار تھے۔

یہ خاندان بھی  بارتھی اندرپہاڑ موجودہ وزیر اعلیٰ کے گھر کے ساتھ ہی رہتا تھا، بزدار قبیلہ کے چیف سردار دوست محمد خان بزدار تھے۔ رسالدار  صاحب اور ان کا قافلہ ان کا خاندان ان کے برابر کی ٹکر کا تھا۔ عزیز خان جنرل ایوب خان کے دور میں صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑ چکے تھے۔ عزیز خان سردار عطا محمد خان کھوسہ سابق  ممبر صوبائی اسمبلی 1970ء میں ڈاکٹر صاحب قومی پر اور سردار عطا محمد خان کھوسہ جماعت کے ٹکٹ پر ایم پی اے بنے تھے۔ عزیز خان سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ سابق گورنر پنجاب چیف کھوسہ قبیلے کے پھوپھا تھے سردار امجد فاروق کھوسہ ایم این اے کے بھی پھوپھا تھے۔ وفاقی کونسل کے آخری دنوں میں جنرل ضیاء الحق شہید نے مزید ممبران لئے تو میری کوشش تھی کہ سردار عبدالعزیز خان ایڈووکیٹ سیاسی لیڈر ہیں، یہ صحیح نمائندہ ہوں گے انہیں لیا جائے۔ مگر صدر صاحب نے فائل مجھے دکھائی کہ مجھے سردار دوست محمد خان کے صاحبزادے سردار فتح محمد خان جو بارتھی ہائی سکول کے ٹیچر تھے ان کے نام کی سفارش ہے۔ صدر صاحب نے فرمایا سردار دوست محمد خان مرحوم نے آپ کے بھائی کا ساتھ دیا تھا اور انہیں کامیاب کرایا تھا۔ آپ اصرار نہ کریں۔ فتح محمد صاحب ہی ٹھیک رہیں گے۔ اگر چہ صدر صاحب عزیز خان کے بھتیجے ڈاکٹر عبدالرحیم خان بزدار کو دوست رکھتے تھے اور انہیں مشیر مقرر کیا ہوا تھا  امریکہ اور یہاں کے پڑھے ہوئے پی ایچ ڈی بنے ایک اخوانی جنرل کے داماد ہیں میرے مخلص دوست ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -