شیڈول چہارم، ای،سی،ایل اور بنک اکاؤنٹ والا فیصلہ ہوا احتیاط کی ضرورت

شیڈول چہارم، ای،سی،ایل اور بنک اکاؤنٹ والا فیصلہ ہوا احتیاط کی ضرورت

  

تجزیہ:چودھری خادم حسین

نیکٹا کے اجلاس میں فیصلہ ہوگیا کہ سندھ حکومت کی تجویز پر شیڈول چہارم میں شامل ہزاروں افراد کے نام ای،سی،ایل میں ڈال دیئے جائیں اور ان کو نئے بنک اکاؤنٹ بھی کھولنے کی اجازت نہ دی جائے، اب اس فیصلے پر عمل درآمد وزارت داخلہ نے کرنا ہے اور یہ فیصلہ دہشت گردی کے خاتمے کی مہم کے حوالے سے کیا گیا ہے، تاہم حالیہ دنوں میں بعض مذہبی حلقوں کی طرف سے اس شیڈول میں شامل حضرات کے ناموں پر اعتراض بھی ہوئے اور کہا گیا کہ کئی نام تعصب کی بنا پر شامل کئے گئے ہیں، اب یہ تو وزارت داخلہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ صورت حال کا تفصیلی جائیزہ لے کر اس پر عمل کرے، حق کی بات تو یہ ہے کہ اگر واقعی کوئی نام کسی مخاصمت یا حساب برابر کرنے کے لئے لیا گیا ہے تو پھر اسے نکال دینا فرض ہے، لیکن یہ بھی نہیں کہ جو پیا کو بھائے اسے تو مراعات دے دی جائیں اور جو اس معیار پر پورا نہ اترے اسے لٹکا دیا جائے، اس سلسلے میں ضروری ہے کہ ملک کی اہم انٹیلی جنس ایجنسیوں سے کلیرنس لی جائے اور ان کی اجازت ہی سے ایسے فیصلے کئے جائیں۔

جہاں تک دہشت گردی کا تعق ہے تو اس کی بہت سی جہتیں ہیں، اپریشن ضرب عضب ،اس سے پہلے اپریشن سوات اور کراچی میں جاری اپریشن کی وجہ سے وار دانوں میں کمی ضرور آئی لیکن دہشت گرد کمین گاہوں میں چھپ گئے اور ان کو جب بھی موقع ملتا ہے وہ کوئٹہ جیسی وارداتیں کر گزرتے ہیں چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں کراچی کا دورہ کیا اور کور ہیڈ کوارٹر بھی گئے جہاں ان کو بریفنگ بھی دی گئی، جنرل راحیل شریف نے بہت واضح طور پر کہا کہ اپریشن اس وقت تک جاری رہے جب تک مکمل کامیابی نہیں مل جاتی انہوں نے فورسز، حکومت اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو باہمی یگانگت سے کام کرنے کی بھی تلقین کی، کراچی میں رینجرز کا یہ دعویٰ ہے کہ اپریشن بلا امتیاز ہو رہا ہے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن ہوتا ہے، زندہ ثبوت یوں دیا گیا کہ پرانا کلفٹن سے اسلحہ برآمد کرلیا گیا اگرچہ مقدمہ نامعلوم ملزموں کے خلاف درج ہوا تاہم کہا یہ گیا کہ یہ اسلحہ نثار مورائی کا ہے جو قتل کے مقدمہ میں ضمانت پر ہے اور مبینہ طور پر اسے آصف علی زرداری کا فرنٹ میں کہا جاتا ہے تاہم مقدمہ میں تاحال اسے ملوث یا شامل نہیں کیا گیا، دوسری طرف عزیز آباد کے ایک مکان سے بلٹ پروف جیکٹیں برآمد کی گئی ہیں ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ ایم،کیو،ایم کے عسکری ونگ والوں کی ہیں، یوں اپریشن کراچی کو شفاف اور بلا امتیاز بنانے کی کوشش اپنی جگہ موجود ہے۔

دہشت گردی کے حوالے سے بار بار بھارتی ایجنسی ’’ را‘‘ کا نام آیا اور اس کا ایک حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو بھی گرفتار ہو چکا ہے اس سلسلے میں حکومت پر الزام ہے کہ بھارتی مداخلت کے ثبوت ہونے کے باوجود دنیا کو اصلی چہرہ نہیں دکھایا گیا، مخالف سیاسی جماعتوں کا الزام ہے کہ حکومت اپنی تمام تر کوشش کے باوجود کشمیر اور بھارتی مداخلت کے حوالے سے خارجی محاذ پر مطلوبہ کامیابی نہیں حاصل کرسکی اور اس کے لئے اب ایک کل وقتی وزیر خارجہ مقرر کرکے اس کے سپرد یہ کام کرنا چاہیے کہ عالمی سطح پر بھارت کا اصل چہرہ دکھایا جائے اور اب امریکہ میں صدارتی تبدیلی کے بعد یہ اور بھی ضروری سمجھا جا رہا ہے، اس پر غور ہی نہیں عمل کی ضرورت ہے، ویسے یہ کیسی دلچسپ بات ہے کہ ڈیمو کریٹ امیدوار ہلیری کلنٹن عوامی حمائت سے دو لاکھ سے بھی زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہو گئی ہیں لیکن ’’نظام مملکتی انتخاب‘‘ کے باعث وہ الپکٹورل ووٹ مطلوبہ تعداد میں نہیں لے سکیں ان کو 218ووٹ ملے، ضرورت 270کی تھی ٹرمپ 290لے گئے ہیں، بہر حال یہ ان کا نظام ہے، ٹرمپ کی جیت سے پورے یورپ میں بھی زلزلے کی کیفیت ہے اور نیٹو کوبھی فکر پڑ گئی ہے، ایسے میں اگر امریکہ کے اندر لوگ مایوس ہو کر باہر نکلے ہیں تو وہ حق بجا نب ہیں، کہ انہوں نے تو ووٹ دیئے اور ان کے ووٹوں کی اکثریت ہیلری کے حق میں ہے، یہ امریکی نظام کا اپنا مسئلہ ہے، احتجاج بڑھ رہا ہے، اس میں ایک ریاست کے اندر امریکہ سے علیٰحدگی والی لابی بھی سرگرم عمل ہوگئی ہے اس لئے امریکی اسٹیبلشمنٹ اپنے نئے صدر کو سوچ سمجھ کر ہی مشورے دے گی اور آگے چلائے گی، ہمارے لئے بہر حال لمحہ فکر یہ ہے اور ہمیں ابھی سے تمام امور پر غور کرنا ہوگا۔

ہمارے مسائل میں یوں بھی دہشت گردی کے علاوہ مہنگائی، صحت، بے روزگاری اور جرائم میں اضافے جیسے مسائل ہیں، اب ورلڈ بنک کے پاکستان میں نمائندے نے بہت خوش کن خبرد دی ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ برآمدات اور سرمایہ کاری میں کمی تشویش ناک ہے، یہ وزیر خزانہ اسحق ڈار کے سوچنے کی بات ہے کہ ان کے دعوؤں کی تصدیق ہوئی تو ساتھ ہی سرخ لکیر بھی دکھا دی گئی ہے۔

انتخابات سے قبل اور بعد میں یہ کہا جاتا رہا ہے کہ کوئی اکیلی جماعت مسائل حل نہیں کرسکتی، سب کو مل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہونا پڑے گا، افسوس یہ نہیں ہوا، ادھر تو جہ کی ضرورت ہے۔

مزید :

تجزیہ -