30 بچوں سے زیادتی کا اعتراف کرنیوالا شخص دراصل کس اہم ترین حکومتی عہدے پر فائز تھا؟ تہلکہ خیز انکشاف منظرعام پر

30 بچوں سے زیادتی کا اعتراف کرنیوالا شخص دراصل کس اہم ترین حکومتی عہدے پر فائز ...
30 بچوں سے زیادتی کا اعتراف کرنیوالا شخص دراصل کس اہم ترین حکومتی عہدے پر فائز تھا؟ تہلکہ خیز انکشاف منظرعام پر

  



راولپنڈی (ڈیلی پاکستا ن آن لائن) 30 بچوں سے زیادتی اور ایک بچے سے زیادتی لائیو نشر کرنیوالا ملزم بالآخر پکڑا گیا جس کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ مختلف ممالک میں سزا بھگتنے اور ڈی پورٹ ہونے کے بعد خیبرپختوںخوا حکومت میں 3 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر کنسلٹنٹ کے طورپر بھی کام کرتارہا۔

سینئر صحافی عمر قریشی نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ "ٹوئٹر" پر بتایا کہ بچوں سے متعلق ایک تنظیم کیساتھ برطانیہ میں کام کرنے کے بعد سہیل عزیز کو معصوم بچوں سے بدفعلی کا مجرم ٹھہرایا گیا اور چار سال کیلئے جیل بھیج دیا گیا، اپنی سزا مکمل کرنے کے بعد وہ پاکستان ڈی پورٹ کردیا گیا جہاں وہ خیبرپختونخوا حکومت کے پلاننگ ڈیپارٹمنٹ میں ماہانہ تین لاکھ روپے پر کنسلٹنٹ کی نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ 

انہوں نے مزید لکھا کہ سہیل ایاز ورکرز ویزے پر دو سال کے لیے برطانیہ گیا تھا جہاں وہ "سیو دی چلڈرن" کیساتھ کام کرتا رہا اور چار سال جیل کی سزا ہوئی  اور فاضل جج نے حکم دیا تھا کہ اسے پوری زندگی جنسی مجرم کے طورپر رجسٹرڈ کیا جائے اور  پھر سزا مکمل ہونے پر پاکستان ڈی پورٹ ہوا۔ 

یادرہے کہ راولپنڈی پولیس نے بچوں سے زیادتی کی ویڈیو بنانے والے عالمی گینگ کاسرغنہ کو گرفتار کیاہے ،ملزم سہیل ایاز پاکستان میں 30بچوں کو بدفعلی کا نشانہ بنانے کا اعتراف کر چکا ہے۔عمر قریشی نے اپنی ایک اور ٹوئیٹ میں بتایا کہ راولپنڈی سے پکڑے گئے ملزم کا تعلق عالمی گروہ سے بتایا جارہا ہے جس کے روابط برطانیہ ، رومانیہ ، اٹلی اور ناروے میں بھی ہیں، ملزم کی  مدد کرنیوالا نارویجن پولیس افسر بھی گرفتار کیا جا چکا ہے ۔ 

سٹی پولیس آفیسر راولپنڈی فیصل رانانے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ راولپنڈی میں بچوں سے زیادتی کی ویڈیو بنانے والے عالمی گینگ کاسرغنہ گرفتار کر لیا ہے،گرفتاری تھانہ روات کی حدود سے عمل میں لائی گئی ، ملزم پاکستان میں 30بچوں کو بدفعلی کا نشانہ بنانے کا اعتراف کر چکا ہے،گرفتارملزم برطانیہ کی جیل سے سزا کاٹ چکا ہے،ملزم نے بچوں تک رسائی کے لیے برطانیہ میں بچوں کے تحفظ کے ادارے میں ملازمت کی تھی ۔ پولیس کےمطابق سہیل ایاز عرف علی کو برطانیہ نے اسی جرم میں ڈی پورٹ کر دیا تھا،ملزم اٹلی میں بھی زیادتی مقدمات میں عدالتی ٹرائل بھگت چکا ہے۔

سی پی او کے نے مزید بتایا کہ ایک قہوہ بیچنے والے محنت کش کے بچے سے بھی ملزم نے زیادتی کی اور اس کی ویڈیو لائیو نشر کرتا رہا۔

مزید : جرم و انصاف