وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ آخری قسط

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ آخری قسط
وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ آخری قسط

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اکی پہلوان کندھا اترنے کے باوجود انوکی سے دوبارہ کشتی پر اصرارکرنے لگے تھے مگر اباجی نے انہیں سمجھایا اورکہا کہ ہم جھارا پہلوان کی انوکی سے کشتی کرائیں گے لہٰذا پروموٹرز نے انوکی اور جھارا کی کشتی طے کرا دی۔ یہ کشتی دو قوموں کے وقار کا سوال بن گئی تھی۔ لہٰذا مجھے اور جھارا کے زور محنت پر بہت توجہ دی جانے لگی۔

میں آپ کو بتاتا چلوں کہ جب کشتی کے دن رکھے جاتے ہیں تو پہلوان بیعانہ پکڑنے کے بعد دن رات ریاضت کرنے لگتے ہیں۔ ان کی محنت اور خوراک ڈبل ہو جاتی ہے۔ لوگوں اور گھر والوں سے بھی نہیں ملنے دیا جاتا۔ مہاوت اور خلیفہ ہر لمحہ ان کی نگرانی کرتے ہیں۔ ’’پہلوانی خوراک‘‘ پہلے سے بڑھ جاتی ہے۔ مجھے یاد ہے ہمیں رات دو بجے اٹھا دیاجاتا تھا جیسے ہی بستر سے اٹھتے اباجی کی آواز سنائی دیتی’’منڈیو۔۔۔وضو کرو اور تہجد پڑھ لو۔۔۔‘‘ ہم لوگ حوائج ضروریہ کے لئے ٹوائلٹ میں جاتے توایک مہاوت باہر کھڑا ہو جاتا۔ اگر ہمیں چند منٹ بھی زیادہ لگتے تو وہ آواز لگاتا ’’پہلوان جی خیر اے ناں ۔۔۔‘‘ ہم جلدی سے باہر آجاتے اور وضو کے بعد تہجد اداکرتے۔ نماز پڑھتے ہی ہمیں عرقیات مثلاً عرق گاؤ زبان اور عرق مشک بید پلایا جاتا۔ اس سے دل گردے اور دماغ کو تقویت ملتی اور بدن کے اندرونی اعضا کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ نماز کے بعد ہم سپاٹے اور ڈنڈ لگانے کی تیاری کرتے۔ سپاٹے اور ڈنڈ مختلف سیٹ بنا کر لگاتے تھے۔ ہر سیٹ میں ساٹھ ستر بار سپاٹے یا ڈنڈ ہوتے تھے۔ جب ایک سیٹ مکمل ہو جاتا تو لمحہ بھر کے لئے سانس لیتے۔ بھولو پہلوان نے یہ قاعدہ بنا رکھا تھا کہ جب سپاٹے اور ڈنڈ لگائے جائیں تو ایک مہاوت یا خلیفہ اسکی گنتی کرتا۔ خود کسی کو گنتی کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ ہم سپاٹے لگاتے ہوئے اللہ اللہ اللہ کا ورد کرتے جاتے۔ جب سپاٹے (بیٹھکیں) لگاتے تو پورے ماحول میں دس بارہ پہلوانوں کے ذکر سے ایک روح پرور ماحول کا سماں بندھ جاتا تھا۔ جو پہلوان تہجد کے وقت محنت کرتے ہوئے اللہ کا ورد کرتے وہ ولی اللہ بن جاتے تھے۔

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر87  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’محنت‘‘ کے دوران ہمیں ڈیڑھ دو ہزار سپاٹے اور اتنے ہی ڈنڈ پیلنے ہوتے تھے۔ جب ایک ہزار تک پہنچتے تو مہاوت تازہ مکھن کابڑا گولا بنا کر لاتا اورہمارے منہ میں ڈال دیتا۔’’لے پہلوان، اندر پھینک اور چل شروع ہو جا۔۔۔‘‘ مکھن کھانے سے اندر کی گرمی اور خشکی ختم ہو جاتی تھی۔ پہلوانی میں زور اورمحنت کے نتیجہ میں بہت زیادہ گرمی اور خشکی ہو جاتی ہے۔ لہٰذا پہلوان کو عرقیات ، مربّے اور سردائی استعمال کرائی جاتی ہے تاکہ اس کے اعضائے رئیسہ متاثر نہ ہوں۔

ڈنڈ سپاٹوں کے بعد ہم ریلوے اسٹیڈیم میں دوڑ لگاتے اور پھر واپس آکر اکھاڑہ کھودنا شروع کر دیتے۔ پورا اکھاڑہ کھودنے کے بعد اس میں سہاگہ پھیرتے تاکہ نرم مٹی برابر ہو جائے۔ سہاگہ کے دوران دو تین پہلوان بھی سہاگہ پر بیٹھ جاتے۔ اس مشقت سے کمر اور رانوں کا جو زور لگتا ہے اس سے پہلوان کی قوت مدافعت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ یہ مرحلہ مکمل ہونے کے بعد سبھی پہلوان ایک دوسرے کو ’’کھچیں‘‘ مارنے لگ جاتے اور اس کے بعد پھر ڈنڈ سپاٹوں کا دور شروع ہو جاتا۔ اس وقت پہلوان چُور چُور ہو جاتا اور پسینہ اس کے بدن سے پھوٹ نکلتا۔ اس کے بعد اسے پسینہ خشک کرنے کا موقع دیا جاتا اور سبھی زورکرنے والے پہلوان ایک دوسرے کو لتاڑنے لگتے۔ اس سے بدن میں نرمی پیدا ہو جاتی۔ جب یہ مرحلہ بھی مکمل ہو جاتا تو آخرمیں سردائی پلائی جاتی۔

سردائی میں بادام، دھنیا، کالی مرچ، زیرہ وغیرہ ہوتا تھا۔ اسے ٹھنڈیانی بھی کہتے ہیں۔ آپ اندازہ کریں کسی بھی رستم اور بڑے پہلوان کے لئے یہ معمول کی ریاضت ہوتی ہے لیکن جب اس کی کشتی ٹھہرا دی جاتی ہے تو یہ سارا کام ڈبل ہو جاتا ہے۔ مجھے اور جھاراپہلوان کو اس کڑی مشقت و نگرانی میں رہتے ہوئے تیار کیا گیا تھا۔ زور کے دوران میں اور جھارا بھی ایک دوسرے سے کشتی لڑتے تھے مگر وہ مجھ سے تگڑا تھا۔اس کے اندر سُرعت پُھرت اور جرأت بھولو پہلوان جیسی تھی۔ وہ قد آور اور فولادی جسم کا مالک تھا۔ خدا اسے جنت نصیب فرمائے۔ جب وہ انوکی کے لئے تیار ہو رہا تھا تو اس کی ریاضت دیکھ کر ہر کوئی عش عش کر اٹھتا اورگھروالے اس کے صدقے اتارتے رہتے۔

**

جھارا ایک دلیر پھرتیلا اور چست پہلوان بن کر سامنے آ رہا تھا۔ اچھا پہلوان اپنے سپوت کو دیکھتے تو بڑے مان سے کہتے ’’جھارا اپنے تایا پر گیا ہے‘‘ یہ حقیقت ہے جھارا کے بدن میں چستی اور لچک کوٹ کوٹ کر بھری تھی لیکن ابا جی بھولو پہلوان کی اپنی شان تھی۔ جھارا اپنے دور کا بے مثال پہلوان تھا لیکن اس کے باپ چچا جواس سے بھی زیادہ طاقتور اور رموز شناس تھے، وہ بھی ریاضت و کسرت اور مقام میں اپنے باپ امام بخش پہلوان اور تایا گاما پہلوان سے پیچھے تھے۔ میرے دادا امام بخش پہلوان رستم ہند کی ریاضت و کسرت دیکھ کر دنیا دنگ رہ جاتی تھی۔ دنیا میں دیسی کشتی کے صرف دوپہلوان ایسے گزرے ہیں جو کنواں گیڑھ کر پانی نکالتے اور کھیتوں کو سیراب کرتے تھے۔ اس دورمیں ٹنڈ والے کنویں ہوتے تھے جو بیل جوت کر چلائے جاتے تھے۔ امام بخش پہلوان اور صدیق گلگو رستم جنات پہلوان کو اللہ نے ایسی قوت عطا فرمائی تھی جو کسرت کیلئے کنویں گیڑھتے تھے۔ امام بخش پہلوان جب زور کرتے توآخر میں چالیس پہلوان اُن کے مقابل آ جاتے تھے۔ جہاں سے اپنے دور کے نامی گرامی پہلوان تھک کر اکھاڑے میں گر جاتے ہیں، امام بخش پہلوان کی مشقت کا آغازوہاں سے شروع ہوتا تھا۔ ساری مشقیں ورزشیں کرنے کے بعد وہ اکھاڑے میں کھڑے ہو جاتے۔ دراز قامت اور کھلے بدن کے مالک امام بخش پہلوان کی مونچھیں لمبی تھیں۔ وہ تاؤ دے کر چالیس پہلوانوں کی طرف مسکرا کر دیکھتے تو پہلوان ایک قطار کی صورت میں کھڑے ہو جاتے۔ ایک ایک پہلوان آگے بڑھتا اوربے لحاظ ہوکر میرے دادا کو داؤ مارنے کی کوشش کرتا۔ دادا اسے کسوٹا مارتے اور وہ زمین بوس ہو جاتا اور اس طرح وہ چالیس پہلوانوں کو پچھاڑ کر روزمرّہ کی کسرت پوری کرتے تھے۔ یہ چالیس پہلوان اتنے شاہ زور تھے کہ ہر ایک میں سے کم از کم دو تین ناصر بھولو تو نکلتے ہوں گے۔ اس بات پر تو میری دادی اپنے بیٹوں کو کہا کرتی تھی کہ تم جن سے کشتیاں لڑتے ہو ان سے تگڑے تو میرے شوہر کے مالشئے ہوا کرتے تھے۔

ہر دور کا اپنا پہلوان اور اس کی قوت کا ایک معیار ہوتا تھا۔ جھارا پہلوان بھی اپنے دور کا عظیم شاہ زور تھا۔ ویسے تو ہم دونوں اکھاڑے میں اکٹھے زور کرتے تھے مگر فری سٹائل کشتی کا اپنا مزاج ہوتا ہے۔ مجھے سال ٹھیک سے یاد نہیں۔ ہاں یہ یاد پڑتا ہے ان دنوں سیاچن گلیشیئر کا سانحہ رونما ہوا تھا اور پوری قوم کے نوجوانوں میں جذبہ حب الوطنی بیدار کیا جا رہا تھا۔ جاوید ہاشمی یوتھ کے وزیر مملکت تھے۔ انہوں نے نوجوانوں کو سرگرم کرنے کیلئے کشتیوں کا اعلان کیا تھا اور پھر ان کی فرمائش پر میری اور جھارا پہلوان کے درمیان فری سٹائل نمائشی کشتی رکھی گئی تھی۔ ہم دونوں نے خوب داؤ پیچ لگائے۔ میں جانتا تھا کہ جھارا مجھ سے تگڑا ہے اور اسے گرانا آسان نہیں تھا لیکن نمائشی کشتی شائقین کی دلچسپی بڑھانے کا باعث ہوتی ہے لہٰذا ہم دونوں نے یہ کشتی یوں لڑی کہ برابر رہے۔

مجھے یاد ہے کہ جھارا پہلوان اس وقت سولہ سترہ سال کا تھا جب انوکی پہلوان کیلئے اسے کندن بنا دیا گیا تھا۔ انوکی نے اکرم پہلوان کا کندھا توڑنے کے بعد بظاہر یہ کشتی جیت لی تھی لیکن ہمارے بزرگوں نے ٹھان لیا تھا کہ اس کا ہر حال میں مقابلہ کیا جائے۔ لہٰذا گوگا پہلوان نے انوکی پہلوان کو للکارا تھا۔ انوکی پہلوان پہلے تو مان گیا پھر ٹال مول کر کے تاریخیں بدلتا رہا۔ آخر اس نے گوگا پہلوان کے ساتھ کشتی لڑنے سے انکار کر دیا۔ پروموٹرز نے اسے بمشکل قائل کیا اور وہ جھارا پہلوان کیلئے مان گیا۔ جھارا پہلوان اور انوکی کے درمیان پانچ راؤنڈ تک مقابلہ رہا لیکن اس دوران انوکی کی ہمت جواب دے گئی اور اس نے جھارا پہلوان کا بازو بلند کر کے اس کی برتری تسلیم کر لی تھی۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ کشتی برابر تھی لیکن یہ کانٹے دار جوڑ تھی۔ جھارا پہلوان نے فری سٹائل کشتی لڑی تھی۔ انوکی کیلئے جھارا کے جارحانہ حملے برداشت کرنا ممکن نہیں تھا۔ اس نے جھارا کی قوت و چستی و دانائی کا ہر داؤ آزما کر امتحان لیا تھا اور بالآخر اس نے کھلے دل سے جھارا کی برتری کا اعلان کر دیا تھا۔

جھارا پہلوان کو فری سٹائل کشتی گوگا چاچا اور اکی چاچا کے علاوہ دوسرے پہلوانوں نے بھی سکھائی تھی۔ وہ دیسی فری سٹائل میں یکساں مہارت رکھتا تھا۔ گوگا چاچا بھولو برادران میں سب سے چھوٹے اور نہایت پھرتیلے پہلوان تھے۔ وہ ہم سے بہت زیادہ بڑے نہیں تھے۔ میرا اور جھارا سمیت دوسرے کزنوں کا بھی گوگا پہلوان سے دوستانہ تھا۔ ادب لحاظ بہت تھا۔ اس کے باوجود بے تکلفی تھی۔ معظم عرف گوگا پہلوان آخری سانس تک اکھاڑے میں رہے تھے۔ بدقسمتی سے وہ میری ریورس فلائنگ کک سینے پر لگنے سے جانبر نہ ہو سکے تھے۔ میرا ان کے ساتھ بڑا مزیدار جوڑ پڑتا تھا۔ لوگ تقاضا کرتے تھے کہ گوگا پہلوان اور ناصر بھولو کی کشتی کراؤ۔ میں آج تک اس لمحے کی قیمت ادا کر رہا ہوں حالانکہ اس میں میرا کوئی قصور نہیں تھا۔ یہ تو پہلوانی میں داؤ پیچ کا مسئلہ ہوتا ہے۔ چاچا گوگا کی ناگہانی موت سے ہم پھر سنبھل نہیں سکے، میرا تو پہلوانی سے دل ہی اچاٹ ہو گیا تھا۔ میں جس ریورس کک پر مان کرتا تھا، جب اس مہلک کک نے میرے چاچے کو مجھ سے چھین لیا تو ایک طرح سے مجھ پر قیامت ہی ڈھ گئی۔ لیکن ابا جی اور چچاؤں نے مجھے حوصلہ دیا۔ چاچا گوگا بھی اکثر کہا کرتے تھے ’’پپے تو نے دنیا فتح کرنی ہے، دیکھ لینا راہ سے مڑنا نہیں ہے‘‘۔ میں نے چچا سے عہد کیا تھا کہ ان کے فن کو لیکر آخری دم تک لڑوں گا۔

چچا گوگا سے ہماری بے تکلفی تھی اور ان کے دم سے ہی ہم موج میلہ کرلیتے اورفلمیں دیکھنے چلے جاتے تھے۔ ورنہ ہمیں رات کو کسی صورت باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ مہاوت ہماری نگرانی کرتے تھے ۔ ہم پروگرام بناتے ’’چچاسناہے شہر میں نئی فلم آئی ہے‘‘۔

’’اوئے سیدھی طرح کیوں نہیں کہتے فلم دیکھنی ہے ،بجارتاں کو بجھاتے ہو‘‘ چچا گوگا ہمارے دل کی بات پکڑ کر کہتے۔

’’ذرا ان کو سو لینے دو پھر نکلیں گے‘‘۔ رات کو ہم چاچا گوگا کے ساتھ سینما چلے جاتے۔ اس دور میں یہی ہماری عیاشی ہوتی تھی۔ جب ہمارے کشتیوں کے دن رکھے جاتے تھے تو پنجاب میں اوکاڑہ کے ویران جنگل میں آباد زمینوں پر ہمیں لے جایا جاتا اور وہاں اکھاڑہ کرایا جاتا۔ اب جہاں اوکاڑہ کا ڈی سی او آفس ہے۔ اس زمانے میں یہاں بیابانی تھی۔ ہم اکھاڑہ کرتے کرتے جب بہت بور ہو جاتے تو چچا گوگا کو پکڑ لیتے ’’چاچا فلم دیکھنی ہے‘‘۔

وہ موڈ میں ہوتے تو اونچی بول پڑتے’’پہلوان۔ سنا ہے تونے۔ منڈے پھر مچل رہے ہیں۔ کہتے ہیں فلم دیکھنی ہے‘‘۔ وہ میرے والد بھولو پہلوان کو سناتے تو وہ بھڑک اٹھتے اور بہت ناراض ہوتے۔ بعد میں ہم چچا سے شکوہ کرتے تو وہ ہنس دیتے۔

دراصل وہ بہت خوش مزاج اور زندہ دل انسان تھے۔ کئی بار رات کو اوکاڑہ کے جنگل سے ہم نکلتے اور راستے میں کوئی گدھا گاڑی مل جاتی تو ہم اس پر سوار ہو جاتے۔ ہم اس کے مالک کو پیسے دیتے اور اسے ہٹا کر خود گدھے کی لگام تھام لیتے۔ گدھا گاڑی پر شہر جاتے اور فلم دیکھ کر واپس لوٹ آتے۔ بس اس طرح کی تفریح کے سوا ہمیں کوئی کچھ اور نہیں سوجھتا تھا۔ لیکن چچا گوگا کی موت کے بعد ایسی رونقیں بھی زندگی سے روٹھ گئیں۔

جس روز گوگا پہلوان اس سانحہ کا شکار ہوئے اس روز ہم ڈیرہ غازی خان میں تھے۔ اس دور میں مختلف شہروں میں دنگل رکھے جاتے۔ اس میں میری اور گوگا پہلوان کی بھی کشتی تھی۔ باقی کشتیاں دیسی تھیں مگر ہماری کشتی فری سٹائل تھی۔

سیانے کہتے ہیں کہ منہ سے ہمیشہ اچھی بات نکالنی چاہئے اور بعض اوقات وہ بات پوری بھی ہو جاتی ہے۔ باقاعدہ دنگل سے پہلے ہم اکھاڑہ کرنے لگے تو گوگا پہلوان نے میرے والد سے کہا ’’پہلوان جی۔ آج میں نے پپے کو ایک بھی پوائنٹ نہیں لینے دینا ‘‘۔

’’لے‘‘۔ میں نے سنا تو بے ساختہ کہا ’’چھڈ پہلوان میں نے تو تمہیں سنھلنے بھی نہیں دینا‘‘۔

’اوجا کر کم کر‘‘۔ چچا گوگا جانگیہ رانوں پر جماتے ہوئے بولے ’’پتر ہمت ہے تو ذرا پوائنٹ لیکر دکھانا۔ میں تمہیں اڑا کر رکھ دوں گا‘‘۔ بھولو پہلوان، اچھا پہلوان اور دوسرے پہلوان ہماری باتیں سن کر ہنسنے لگے۔ ہم دونوں اکھاڑے میں اُترے۔ یہ اکھاڑہ عارضی طور پر بنایا گیا، مٹی بھی نرم نہیں تھی۔ باقاعدہ اکھاڑے کی مٹی روئی کی طرح نرم ہو جاتی ہے۔ پہلوان کا پاؤں اس میں اکھڑتا نہیں۔ اس اکھاڑے کی کھدائی کسی اناڑی نے کی تھی۔ موٹے موٹے مٹی کے ڈھیلے بنے ہوئے تھے۔ ہم لوگوں نے بھی احتیاط نہ کی اور اسی میں زور آزمائی کر رہے تھے۔ فری سٹائل کشتی اکھاڑے کا باقاعدہ رنگ ہوتا ہے۔ یہ کشتی دیسی کشتی سے مختلف ہوتی ہے۔ دیسی کشتی میں داؤ پیچ کے بعد مدمقابل کے شانے اکھاڑے میں لگانے ہوتے ہیں لیکن فری سٹائل کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ اس میں دیسی کشتی کے قوانین نہیں چلتے۔ اس میں درجنوں بار پہلوان کے شانے اکھاڑے میں لگتے ہیں، پوائنٹس میں برتری یا پھر مدمقابل خود شکست مان لے تو فیصلہ ہوتا ہے۔

میں اور چچا گوگا اکھاڑے میں اترے تو انہوں نے پاؤں اکھاڑے میں لگاتے ہی جھپکی دی پھر چلا کر کہا ’’لے سنبھل پترا‘‘۔ انہوں نے چشم زدن میں مجھے فلائنگ کک ماری۔ میں پیچھے کو گرا اور اٹھ کر میں نے فلائنگ کک مار دی۔ جواباً گوگا پہلوان کسی چیتے کی طرح اچھلے اور انہوں نے مجھے فلائنگ کک مار دی۔ اس بار میں نے قلابازی کھائی مگر میں نے بھی بل کھاتے بدن کو سنبھال کر لچک ماری اور پھرریورس فلائنگ کک مار دی۔ اس لمحہ اکھاڑے سے پہلوانوں نے نعرہ لگایا ’’واہ چیتا لگاں ایں‘‘ مگر جب میرے پاؤں گوگا پہلوان کے سینے ٹکرائے تو اچانک کراہ کی آواز گونجی اوروہ دھیمے سے بولے ’’ذرا آہستہ۔۔۔‘‘ میں نے بغور دیکھا ان کے چہرے پر کرب کی لہر ابھری تھی۔ اس دوران مسجد سے اذان گونجی تو کشتی روک دی گئی۔ گوگا پہلوان کے پاؤں ڈھیلوں پرلرزے اور پھر کنارے پر پہنچ کر گر گئے۔ سب لوگوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔

بھولو پہلوان بھاگے ’’کیا ہوا گوگے‘‘۔

میں نے لپک کر گوگے چاچے کا سر اٹھایا۔ ان کی آنکھیں کھلیں مگر خاموش تھیں۔ پسینے میں شرابور میرے دن میں جیسے کسی نے سرد صور پھونک دیا تھا۔

’’پہلوان۔ پہلوان۔ گوگے پتر‘‘۔ بھولو پہلوان، اچھا پہلوان گوگا پہلوان کو ہلا جلا کر آوازیں دے رہے تھے۔ بھاگم بھاگ شروع ہو گئی اور جب ہسپتال لیکر پہنچے تو ڈاکٹر نے جانکاہ خبر سنا دی۔

’’پہلوان جی کا ہارٹ فیل ہو گیا ہے‘‘۔ یہ خبر قیامت صغریٰ تھی۔، شاہ زورں کے دل بھائی کی ناگہانی موت پر لرز اٹھے۔ میں افسردہ، غمزدہ اور نڈھال۔ دل میں شرمندگی تھی،خود کو کوس رہا تھا’’۔ تو نے کیوں کک ماری چاچے کو‘‘۔ میرا دل رو رہا تھا۔ جھارا اور دوسرے پہلوان مجھے دلاسہ دے رہے تھے ’’یار حوصلہ کر اس میں تیری کیا غلطی ہے‘‘۔ واقعی اس میں میرا کوئی قصور نہیں تھا لیکن گوگا چاچا میری فلائنگ کک کی وجہ سے اللہ کو پیارے ہو گئے تھے۔ یہ خبر جہاں جہاں پہنچی وہاں وہاں ماتم ہوا۔ لوگ دور دور سے افسوس کرنے کیلئے آئے اور سبھی ایک بار اس پہلوان کو دیکھنا چاہتے تھے جس کی فلائنگ کک نے ایک عظیم شاہ زور کی جان لے لی تھی اور میں نے بھی لوگوں اور پھر اکھاڑے سے کنارہ کرلیاتھا ۔

ختم شد

مزید : طاقت کے طوفاں