حجاج کرام کو درپیش مسائل

حجاج کرام کو درپیش مسائل
حجاج کرام کو درپیش مسائل

  

ہم نے دیکھا ہے کہ فریضہ حج ادا کرنے جانے والوں کو کس شان سے الوداع کیا جاتا تھا ، اُنہیں پھولوں سے لاد دیا جاتا ، قومی ایئر پورٹس تک اُن کے ساتھ جانا فرض سمجھا جاتا تھا ، پھر جاتے جاتے’’ کن اکھیوں ‘‘سے اور کبھی با آواز بلند درِ مصطفی اور خانہ کعبہ میں اپنے لئے دعاؤں کا پیغام دیا جاتا ، حجاج مقدس جانے والوں کوالوداع کرنے کے بعد رشتہ دار جن بوجھل قدموں کے ساتھ واپس گھروں کو آتے وہ منظر قابل دید ہوتا تھا ، بوجھل اس لئے کہ ہم حجاج مقدس کیوں نہیں جا سکے ؟ ایئر پورٹ کا عملہ اور پاکستان کی قومی ایئر لائن کے ملازمین بھاگ بھاگ کر حجاج کرام کا سامان اُٹھاتے ، اگر کبھی حاجیوں کے سامان کا وزن ایئر لائن کے قوانین سے تجاوز کر جاتا تو بھی انتہائی محبت بھرے لہجے میں اُس وزن کو ’’ اکامو ڈیٹ ‘‘ کر لیا جاتا تھا ، ایئر پورٹ پر حجاج کو پانی پلانا اُن کے کھانے کا خیال رکھنا اور اُن کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو اِس کے لئے قومی ایئر لائن کا عملہ اسپیشل توجہ اور وقت دیا کرتا تھا ۔

پھر فریضہ حج کے دوران کبھی مواصلاتی رابطہ ہوتا تو حجاج کرام کو مدینہ اور مکہ سے کھجوریں ، آب زم زم ، نماز کے لئے ٹوپیاں ، جائے نماز اور تسبیح لانے کا کہا جاتا اور یہ بھی کہا جاتا کہ وہ چیزیں روضہ رسول ﷺ اور خانہ کعبہ کے ساتھ ٹچ کرکے لائی جائیں ، دوران پرواز قومی ایئر لائن کے اندر حجاج کرام کے لئے ہر طرح کی سہولیات موجود ہوتی تھیں خاص کر کھانا انتہائی مناسب ، لذیز اور تازہ ہوتا تھا ۔جہاز بھی نئے ہوتے تھے اور اُن پر سفر کرنے میں کسی قسم کا کوئی خطرہ محسوس نہیں کیا جاتا تھا ۔فریضہ حج اداکرکے جب حجاج کرام واپس پاکستان کے مختلف ایئر پورٹس پر پہنچتے تو کیا رونق کا سمان ہوتا تھا ، اللہ اکبر کے نعرے ، حجاج کرام کو گلے ملنا ، اُن کے ہاتھ چومنے ، درود پاک کا ورد اور خوشی خوشی گھروں کو واپسی بہت یاد آتے ہیں وہ لمحات ۔

لیکن اب وقت بدل گیا ہے ، پرانی رسومات مدھم ہو گئیں ہیں ، مواصلاتی نظام میں ترقی آگئی ہے، ساتھ ساتھ حجاج کرام کو الوداع کہنے والے بھی جلدی جلدی گھروں کو لوٹنا شروع ہو گئے ہیں ، الوداع اور استقبال کرتے وقت پہنائے جانے والے پھولوں کے ہار اور پتیاں بھی تعداد میں کم ہونا شروع ہو گئی ہیں ، مدینے اور مکہ سے تحائف ضرور لانے کے اصرار کرنے کا جذبہ بھی ماند پڑ گیا ہے ۔

اب ایک نئی روائت جنم لے چکی ہے کہ جو بھی فریضہ حج ادا کرکے واپس آئے گا وہ آب زم زم اور کھجوریں ضرور لائے گا جو ہمارے گھر پہنچ جائیں گی اور ہوتا بھی ایسا ہی ہے ۔

الوداع کرنے اور استقبال کی تیاریوں میں وقت ضائع نہیں کیا جاتا ، شائد وقت کی سوئیاں تیز چل پڑی ہیں ۔ ایک ماہ پہلے میں اپنے بچپن کے دوستوں اداکار نسیم وکی ، ناصر چنیوٹی اور جواد وسیم کو فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے لاہور ایئر پورٹ تک الوداع کرنے گیا ، یہ لوگ سعودیہ میں اپنی عبادات بھی اور ساتھ ساتھ ’’ ایمو ‘‘ پر آن لائن ہو کر ویڈیوبات چیت بھی کرتے رہے ، ہمیں کبھی خانہ کعبہ اور کبھی روضہ رسول ﷺ کے صحن کی زیارت بھی ہوتی رہی ، یوں لگتا تھا کہ ہم بھی مدینہ اور مکہ میں ہی ہیں ساتھ ساتھ مواصلاتی نظام کی اِس ترقی کو اپنے کارگر بھی جان رہے تھے ۔

ایک ماہ گزرتے پتا ہی نہیں چلا اور دو دن پہلے حجاج کرام واپس آگئے ہم نسیم وکی سمیت دوسرے اداکاروں کو لینے ایئر پورٹ پر گئے ، انہیں خوش آمدید کہا اور ساتھ لے کر گھروں کو روانہ ہو گئے ، بابرکت گفتگو کے بعد اِن موصوف اداکاروں نے ہمیں حج کے دوران پیش آنے والی مشکلات اور قومی ایئر لائن کی بے حسی پر مبنی کچھ ایسے واقعات سنائے کہ ’’ اللہ کی پناہ ‘‘ اداکاروں نے بتایا کہ جدہ سے واپسی کے لئے ہماری فلائٹ پانچ گھنٹے تاخیر کا شکار ہو گئی ، صبح پانچ بجے پہنچنے والی پرواز کے انتظار میں تمام رشتہ دار لاہور ایئر پورٹ پر پہنچ چکے تھے ، لیکن عین وقت پر اعلان ہوا کہ پرواز تاخیر کا شکار ہے ، اب دوسرے شہروں سے آنے والے رشتہ دارواپس اپنے شہروں کو نہیں جا سکتے تھے انہوں نے ایئر پورٹ پر رکنے میں ہی غنیمت جانی ، ہم جہاز میں سوا رہوئے تو قومی ایئر لائن کا عملہ ہمارے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف ہو گیا ، کچھ دیر بعد ہمیں جہاز کے پچھلے حصے میں بلایا گیا تاکہ سیلفیاں بنائی جا سکیں ، ہم نے بھی جہاز کے پچھلے حصے کو کشت زعفران بنائے رکھا اور ہلکی پھلکی مزاحیہ گفتگو کرتے رہے ، اچانک نسیم وکی نے عملے سے سوال کیا کہ جہاز تاخیر کا شکار کیوں ہوا ؟ جواب ملا خراب تھا ٹھیک کرتے رہے لیکن مکمل ٹھیک نہ ہو سکا ہم نے پسنجرز کے معاملات کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا اور اللہ کا نام لے کر جہاز اُڑا لیا جائے ، یہ سننا تھا کہ تمام فنکاروں کو مزاح بھول گیا اور وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنا شروع ہو گئے ، پوچھا گیا کہ جہاز میں کیا خرابی تھی تو جواب ملا کہ فضاء میں بارود اور ادویات چھڑکنے کے باوجود پرندے جہاز سے ٹکرا جاتے ہیں، ایک فنکار نے جواب دیا کہ پرندے جہاز کی طرف اپنا کھانا کھانے آتے ہیں کیونکہ جو کھانا جہاز میں دیا جاتا ہے وہ کم از کم انسانوں کے کھانے والا نہیں ہوتا ، کیونکہ تمام حاجیوں نے کچھ ہی دیر پہلا کھانا واپس کیا تھا ، کھانا کیا تھا بس چاول کی آدھی پلیٹ اُس پر ایک طرف دال اور دوسری طرف چھپی ہوئی دو تین بوٹیاں وہ اس ڈر سے سہمی ہوئیں کہ ہمیں کوئی کھا ہی نہ لے ، قومی ایئر لائن کا عملہ اس رویے کے ساتھ کھانا تقسیم کرتا ہے کہ جیسے پسنجر نے اُس کھانے کے پیسے نہیں دیئے بلکہ وہ ایئر لائن کی طرف سے فری دیا جا رہا ہے ، وکی بھائی نے بتایا کہ قومی ایئر لائن کے عملے نے ہمیں بتایا تھا کہ ہمارے تمام طیارے تقریباً خراب ہیں اگر یہی طیارے کسی دوسری ایئر لائن کے پاس ہوں تو تباہ ہو جائیں کیونکہ وہ پرواز سے پہلے دُعا نہیں کرتے ، کسی حاجی کے سامان کا وزن اگر دو کلو زیادہ ہو جائے تو اُسے ڈانٹ بھی پلائی جاتی ہے اور اُس وزن کے پیسے بھی لئے جاتے ہیں ، نسیم وکی ، ناصر چنیوٹی اور دوسرے اداکاروں نے اُمید کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہم نئی حکومت اور وزیر اعظم پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ قومی ایئر لائن کو عالمی معیار کے مطابق بنائیں ، عملے کو اور کسی سے نہیں تو کم از کم حجاج کرام کے ساتھ رویوں کی درستگی کے احکامات صادر فرمائیں اور فریضہ حج پر جانے والوں کی مشکلات کو ختم کرنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دیں لیکن شرط یہ ہے کہ وہ ایسی کمیٹی ہو جو وزیر اعظم پاکستان کو اصل حقائق سے آگاہ کرے نہ کہ حقائق کو مسخ کیا جائے کیونکہ حجاج کرام جب فریضہ حج کے لئے جاتے ہیں تو وہ سب سے زیادہ وطن عزیز کی ترقی کے لئے دعائیں کرتے ہیں اور موجودہ حکومت بھی پاکستان کو ترقی یافتہ ہی تو دیکھنا چاہتی ہے ۔

مزید : رائے /کالم