میانوالی اور سرائیکی صوبہ

میانوالی اور سرائیکی صوبہ

صوبہ جاتی کمیشن کی میانوالی کو سرائیکی صوبے میں شامل کئے جانے کی تجویز نہایت ہی مضحکہ خیز ہے،جن اصحاب نے یہ تجویز دی ہے، انہیں زمینی حقائق کا کوئی ادراک نہیں، اگرچہ میانوالی سے بہت سی آوازیں اس تجویز کے خلاف اٹھائی گئی ہیں،لیکن مناسب معلوم ہوتا ہے کہ میانوالی کی اصل پوزیشن واضح کردی جائے۔اول: میانوالی سرائیکی علاقے کا حصہ کسی طور پر بھی نہیں بنتا۔ میانوالی کی زبان سرائیکی نہیں، ہند کو ہے۔ زبانوں میں چندے مماثلت ہونا ساری دنیا میں ہے، مثلاً انگریزی کے نام پر بولی جانے والی زبانیں امریکہ، آسٹریلیا اور برطانیہ میں ایک دوسرے سے کافی مختلف ہیں،لیکن اس سے بھی زیادہ پاکستانی بولیوں پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ صوبہ پنجاب میں ہی وسطی اور شمالی پنجاب میں بولی جانے والی پنجابی اور پوٹھوہاری میں مماثلت ہونے کے باوجود دونوں زبانوں پر اپنے اپنے علاقوں کی چھاپ ہے۔لاہور ہی کی مثال لے لی جائے کہ اندرون شہراور بیرون شہر کی زبانوں میں کافی فرق ہے۔ اسی طرح یوسف زئی علاقے اور جنوبی وزیرستان میں بسنے والے برکی قبیلے کی پشتوزبانوں میں اتنا اختلاف ہے کہ دونوں علاقوں کے لوگ ایک دوسرے کی زبان سمجھنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں،اسی طرح میانوالی کی ہندکو اور سرائیکی کا مزاج یکسر مختلف ہے۔سرائیکی خصوصاً جنوبی علاقوں کی سرائیکی شیریں ہونے کے ساتھ ساتھ تابعدارانہ حد تک صلح پسندی کا رنگ رکھتی ہے اور میانوالی کی ہندکو چونکہ اپنی آن پر مرمٹنے والے جنگجو لوگوں کی زبان ہے ،لہٰذا اس زبان میں انہی لوگوں کا مزاج منعکس ہوتا ہے۔دوئم: میانوالی کے لوگوں کے مزاج پر خیبرپختونخوا کے مزاج کی گہری چھاپ ہے، بلکہ میانوالی کے شمال میں پشتو بولنے والے قبائل بھی آباد ہیں۔ میانوالی کے ہند کو اور پشتو بولنے والے لوگوں میں کچھ تعداد ایسی ہے،جو ہندکو اور پشتو دونوں زبانیں بول لیتے ہیں۔سوئم:اگر تاریخ پر نگاہ دوڑائی جائے تو ایک صدی سے کچھ سال ہی زیادہ عرصہ گزرا ہے، جب میانوالی ضلع بنوں کی کچھی تحصیل کہلاتی تھی،جب 1901ءمیں انگریز نے صوبوں کی حد بندی کی تو میانوالی کو بھکر سے ملا کر پنجاب کا حصہ بنادیا گیا ، اب بھی خان عبدالغفار خان اور ان کے وُرثا میانوالی کو ان کے مجوزہ پختونستان میں شامل کرنے کی بات کرتے ہیں۔بڑی تعجب خیز بات ہے کہ سرائیکی صوبہ بنانے والے اپنا علاقہ وسیع و عریض بنانے کی خاطر میانوالی کو سرائیکی صوبے کا حصہ گرداننے کو عار محسوس نہیں کرتے۔یوں لگتا ہے کہ میانوالی ایسا خطہ ہے، جس پر حق جتانے کی تمنا کئی دلوں میں بستی ہے۔چہارم:اتنا عرصہ پنجاب کے دوسرے علاقوں سے اختلاط کی بناءپر میانوالی کے لوگ کئی حوالوں سے اپنی موجودہ آئینی پوزیشن تبدیل کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ عرصہ دراز سے صوبہ پنجاب کا حصہ ہونے کے باوجود میانوالی کا علاقہ بہت پسماندہ ہے، یہاں کی تعلیمی سہولتیں پنجاب کے ترقی یافتہ علاقوں کے کسی طور پربھی برابر نہیں ہیں، اسی طرح یہاں کے نوجوان ملازمت اور زندگی میں ترقی کی راہیں اپنے لئے مسدود پاتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ سندھ میں رورل، اربن کوٹہ کی طرح میانوالی کا بھی ملازمت وغیرہ میں کوٹہ مختص ہو،جس کے لئے میانوالی کے لوگوں کو جدوجہد کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ میانوالی جو پہلے ہی پسماندہ علاقہ ہے، اس کو مزید پسماندگی کے اندھیروں میں نہ دھکیلا جائے۔حال ہی میں میانوالی میں دانش سکول بن جانے کی وجہ سے صورت حال میں کچھ تبدیلی آنے کی امید بندھی ہے ،جس کا افتتاح نہایت ہی فعال وزیراعلیٰ نے 7فروری کو کردیا ہے، لیکن یہ ناکافی ہے۔لاہور اور شمالی پنجاب علم و ادب کا گہوارہ ہے اور اس میں ہائر ایجوکیشن کے سرچشمے ہیں، لہٰذا میانوالی کے لوگ ان سے دور ہونا گوار انہیں کریں گے۔ میانوالی جو معدنیات سے مالا مال ہے کو پنجاب میں ہر قسم کی ترقی کے پورے مواقع میسر ہونے چاہئیں۔ میانوالی کے ساتھ ایک ناانصافی یہ ہورہی ہے کہ نیوکلیئر پاور پلانٹ چشمہ بیراج میں مقامی لوگوں کی ملازمتوں کے حوالے سے ان کے حق کے مطابق انہیں حصہ نہیں مل رہا۔ مرکزی حکومت اپنی موجودہ پالیسی تبدیل کرکے اس بات کو یقینی بنائے کہ اس پلانٹ میں میانوالی کے ہی لوگ بھرتی ہوں۔چاہ میانہ میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے قائم کردہ ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ اور اسی نوع کے مزید ٹیکنیکل ادارے میانوالی کے بچوں کو ٹیکنیکل تعلیم کی سہولت مہیا کر رہے ہیں، لیکن وہاں سے فارغ التحصیل طلباءبے روزگار ہیں، جس کی وجہ سے کثیر تعداد میں بے روزگار بچے غیر قانونی راستوں پر چل پڑتے ہیں۔پنجم :محل وقوع کے اعتبار سے میانوالی لاہور سے 4:30 گھنٹے اور اسلام آباد سے 3:00گھنٹے سے بھی کم مسافت پر ہے ۔ میانوالی سے بہاولپور 10گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ میانوالی کو بہاولپور سے منسلک کرنا اس اعتبار سے نہایت افسوسناک اور ظلم کے مترادف ہے۔ کون کافر چاہے گا کہ وہ برصغیر کی عظیم ترین درسگاہوں کے مرکز اور پاکستان کے تاریخی ورثے کے حامل قدیم ترین شہر لاہور یا پاکستان کے خوبصورت پہاڑوں کی گود میں بسائے جانے والے دلفریب دارالخلافے کے ساتھ عملاً اپنا ناتا توڑ کر جنوبی پنجاب کے ریگزاروں میں کھو جائے۔سرائیکی علاقے سے ہمیں کوئی پُرخاش نہیں ہے، لیکن اپنی بے پناہ محرومیوں کے باوجود ہم اپنی موجودہ آئینی پوزیشن سے زیادہ ناخوش نہیں ہیں۔خدا کرے کہ اہل ِ بہاولپور کو اس کی پرانی پوزیشن بحال کرنے میں زود یا بدیر کامیابی نصیب ہو جائے، لیکن ہماری موجودہ ہیئت کو کسی صورت تبدیل نہ کیا جائے۔خدا نہ کرے کہ میانوالی کو سرائیکی علاقے میں شامل کرنے کی تجویز زور پکڑ سکے، لیکن فرض کریں اگر ایسی صورت پیدا ہو جائے تو ہم میانوالی کے لوگوں کا پُر زور مطالبہ ہوگا کہ اس قضیئے پر ریفرنڈم کرالیا جائے۔یقین واثق ہے کہ یہاں کے غیرت مند لوگ یک زبان ہو کر سرائیکی صوبے میں شامل کئے جانے کی تجویز کے خلاف ببانگ دہل ووٹ ڈالیں گے....    ٭

مزید : کالم