نئے ججوں کے تقررکیلئے بھجوائی گئی فہرست جوڈیشل کمیشن سے واپس لے لی

نئے ججوں کے تقررکیلئے بھجوائی گئی فہرست جوڈیشل کمیشن سے واپس لے لی

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے لاہورہائی کورٹ میں نئے ججوں کے تقررکے لئے بھجوائی گئی مجوزہ ناموں کی فہرست جوڈیشل کمیشن سے واپس لے لی،گزشتہ روز نئے ججوں کے تقررکے لئے چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس گلزار احمدکی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن کااجلاس طلب کیاگیاتھا  ذرائع کے مطابق اس سے قبل سیکروٹنی کمیٹی نے 16میں سے 6ناموں پراتفاق کیاتاہم چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ نے اس سے اختلاف کیااور جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں اپنی تمام سفارشات واپس لے لیں ذرائع کے مطابق چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ کا کہناہے کہ جوڈیشل کمشن سے نام مسترد ہونے کے بعد 10افراد کا مستقبل خراب ہوسکتا تھا اس لئے انہوں نے پوری لسٹ واپس لینے کافیصلہ کیا معلوم ہواہے کہ نئے ججوں کے تقررکے حوالے سے غیر رسمی فہرست کی تدوین کے وقت ہی لاہورہائی کورٹ کے چیف جسٹس اورپنجاب سے تعلق رکھنے والے سپریم کورٹ کے بعض ججوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا تھا، تازہ ترین صورتحال کے پیش نظر چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ نے مکمل لسٹ ہی واپس لے لی یہ تیسراموقع ہے کہ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہونے کے باجود لاہورہائی کورٹ میں نئے ججوں کا تقررعمل میں نہیں آسکا لاہورہائی کورٹ میں ججوں کی کل60نشستیں ہیں جن میں سے20اس وقت خالی ہیں،لاہورہائی کورٹ میں نئے ججوں کا تقررآخری مرتبہ اکتوبر 2018ء کو عمل میں آیا تھا جس کے بعد 3چیف جسٹس صاحبان مامون رشید شیخ،سردارمحمد شمیم خان اور محمد انوارالحق کے ادوار میں کسی نئے جج کاتقررنہیں ہوسکاتھا۔

فہرست واپس

مزید :

صفحہ آخر -