آج کے بت

آج کے بت
آج کے بت

حضرت ابراہیم ؑکا زمانہ آج سے چار ہزار برس قبل کا ہے ۔ یہ وہ دور تھا جب ایک خدا کی عبادت کا تصور ختم ہو چکا تھا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم ؑ ؑنے اللہ تعالیٰ کے حکم پر اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام  کو حرمِ مکہ کے پاس بسایا تاکہ ایک خدا کی عبادت کی رسم دوبارہ قائم ہوجائے ۔ اس موقع پر جو دلنواز دعا آپ نے فرمائی اس کا ایک جملہ اس طرح قرآنِ مجید میں نقل ہوا ہے کہ اے میرے رب مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔ پروردگار! ان بتوں نے بہتوں کو گمراہ کرڈالا ہے ، (ابراہیم 35-36:14)۔

عجیب بات ہے کہ چار ہزار برس بعد انسانیت ایک دفعہ پھر خدا فراموشی کے دور میں داخل ہو چکی ہے ۔ پہلی فراموشی عبادتِ رب کی تھی اور موجودہ فراموشی ملاقاتِ رب یعنی قیامت کے دن خدا کے حضور پیشی کی ہے ۔ پہلے مٹی کے بتوں (Idols) نے انسانوں کو اپنی طرف کھینچ کر خدا سے دور کیا تھا اور اب آج American ،Indian اور Pakistan Idols جیسے میڈیا شوز انسانوں کو اپنی طرف کھینچ کر خدا سے دور کر رہے ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ آج کا میڈیا کئی پہلوؤں سے ایک ’’بت‘‘ بن چکا ہے ، جس کی ’’پرستش‘‘ ہر گھر میں صبح و شام کی جاتی ہے ۔ یہ بت دنیا اور اس کی رنگینیوں ، اس کی حسیناؤں ، اس کے جھمیلوں ، اس کی کہانیوں ، اور اس کے مقابلوں میں انسانوں کو اس طرح الجھاتا ہے کہ انسان خداو آخرت کو بھول جاتا ہے ۔ ایسے میں کوئی بندۂ مومن اپنی اولاد کو اگر خدا پرست بنانا چاہے تو اس کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو اس ’’بت‘‘ کی پرستش سے دور رکھنے کے لیے عملی اقدامات بھی کرے اور پروردگار سے بھی وہی دعا کرتا رہے جو ابراہیم علیہ السلام نے کی تھی کہ اے میرے رب مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔ پروردگار ان بتوں نے بہتوں کو گمراہ کرڈالا ہے ۔ یہی اس دور میں بندگی رب کی رسم باقی رکھنے کا واحد طریقہ ہے ۔

۔۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...