خواجہ سعد رفیق کی ایک اور کامیابی

خواجہ سعد رفیق کی ایک اور کامیابی
خواجہ سعد رفیق کی ایک اور کامیابی

  

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما جناب خواجہ سعد رفیق ایک اور کامیابی حاصل کر لی ،، جناب خواجہ سعد رفیق سپریم کورٹ میں اپنی رکنیت کی بحالی کے لئے سرخرو ہوئے ، سپریم کورٹ نے جناب خواجہ سعد رفیق کی دائر شدہ درخواست جو انھوں نے الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف دی تھی، پرحکم امتناعی دے دیا اور عبوری طورپر ان کی قومی اسمبلی کی رکنیت بحال کردی۔

دوستو خواجہ سعد رفیق کے خلاف الیکشن ٹریبونل کے فیصلہ کا چرچا ہر خاص و عام کی زبان پر تھا اور ہر محفل میں بھی موضوع گفتگو الیکشن ٹریبونل کا وہ فیصلہ تھا جو، سعد رفیق کے خلاف آیا زیر بحث تھا ،، این اے ایک سو پچیس میں الیکشن ٹربیونل نے دوبارہ انتخابات کروانے کے احکامات صاد ر فرما دئیے تھے جناب سعد رفیق نے فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا جس میں انکا کہنا تھا کہ سات پولنگ اسٹیشنزمیں بے ظابطگیوں پر پورے حلقے میں انتخابات کا حکم نہیں دیا جا سکتا ، جناب خواجہ سعد رفیق نے پریس کانفرنس بھی کی اور اپنی آواز عوام تک پہنچائی ۔جبکہ پی ٹی آئی کے رہنما عارف علوی نے بھی اس بات کا اقرار کیا ہے کہ این اے ایک سو پچیس میں دھاندلی ثابت نہیں کر سکے۔ ساری باتوں سے قطع نظر اگر دیکھا جائے تو کنٹو نمنٹ بورڈ کے انتخابی نتائج بھی اس بات کا منہ بولتا ثنوت ہیں کہ عوام نے ن لیگی نمائندوں کو ہی بے دریغ و بلا جھجک ووٹ ڈالے ۔

پندرہ سیٹوں کی واضح اکثریت سے لاہوریوں نے نواز شریف پر ایک دفعہ پھر اعتماد کا اظہار کر دیا۔ بہت سے لیگی کارکن تو کہہ رہے ہیں کہ جناب خواجہ سعد رفیق دوبارہ الیکشن لڑیں تو بھی کامیابی ان کے قدم چومے گی ۔ اگر بات کریں دھاندلی کی تو ملتان میں ہونے والے ضمنی انتخابات پر نظر ڈالیں جہاں انتخابی وقت ختم ہونے سے پہلے ہی جناب ہاشمی کی ہار کا اعلان شروع ہو گیا جناب ہاشمی کے حلقہ انتخابات میں پو لنگ کا وقت پانج بجے ختم ہونا تھا لیکن ساڑھے چار بجے ہی پہلے پولنگ اسٹیشن کا نتیجہ آگیا اور تو اور اگر کراچی کے ضمنی انتخابات کو دیکھا جائے تو وہاں پریزائڈنگ افسر جعلی ووٹ بھگتاتا پکڑا گیا ، جسے موقع پر رینجرز نے تین ماہ کی سزا سنائی تھی۔

بہت سے دوست بھی کہتے ہیں کہ جناب خواجہ سعد رفیق کو دوبارہ انتخاب لڑنا چاہئے ، لیکن جناب خواجہ سعد رفیق نے الیکشن دوبارہ لڑنے کی بجائے سپریم کورٹ میں جانے کو ترجیح دی تھی اور سپریم کورٹ کی طرف سے جو فیصلہ آیا اس نے لیگی کارکنوں کو خوشی سے ناچنے پر مجبور کر دیا۔ معزز عدالت سپریم کورٹ نے الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ معطل کر کے جناب خواجہ سعد رفیق کی اسمبلی رکنیت بحال کر دی ، کہا جا رہا ہے کہ اس فیصلے سے جناب خواجہ سعد رفیق سرخرو ہو ئے ، اب دیکھنا تو یہ بھی ہے کہ خواجہ سعد رفیق کی بحالی پر حکومت مخالف جماعتیں کس قسم کے رد عمل کا اظہار کر ینگی کچھ کہا نہیں جا سکتا ، فی الوقت اسی خوشی کی خبر کے ساتھ ہی آپ سے جازت چاہتے ہیں ، ملتے ہیں دوستو جلد آپ سے ایک بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا۔

مزید : کالم