جسٹس جاوید اقبال کی بد عنوانی کے خاتمہ کیلئے کامیاب حکمت عملی

جسٹس جاوید اقبال کی بد عنوانی کے خاتمہ کیلئے کامیاب حکمت عملی

بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑہے جو نہ صرف معاشی اور سماجی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے بلکہ اس کی وجہ سے رشوت اور بدعنوانی سے کمائی ہوئی رقم چند لوگوں کے ہاتھوں میں چلی جاتی ہے، حقدار کو اس کا حق نہیں ملتا او ریوں مجموعی طور پر پورے ملک کے نظام کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہی وجہ ہے کہ جوقومیں کرپشن پر قابو پا لیتی ہیں وہ تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔

قومی احتساب بیورو کے قیام کا بنیادی مقصد ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لئے نہ صرف کاوشیں کرنا ہے تاکہ بدعنوان افراد کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جاسکے ۔ ملک سے کرپشن کے خاتمے اور معاشرے کو بدعنوانی سے پاک کرنے کے لیے شعور اجاگر کرنے کے لیے نیب نے ایک جامع حکمت عملی اپنائی ہے جس کو بد عنوانی کے خلاف مؤثر ترین حکمت عملی کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ قومی احتساب بیورو نیشنل اکاؤنیٹبیلٹی آرڈیننس 1999 کے تحت کام کر رہا ہے جس کا دائرہ کار پورے پاکستان اور فاٹا تک ہے اور یہ ملک کے تمام افراد پر لاگو ہے۔ قومی احتساب بیورو کا صد رمقام اسلام آباد اور اس کے علاقائی دفاتر راولپنڈی، لاہور، کراچی، پشاور، ملتان، سکھر، کوئٹہ اور گلگت بلتستان میں کام کر رہے ہیں۔

قومی احتساب بیورو کے موجودہ چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے گزشتہ سال 11 اکتوبر2017 کو چیئرمین نیب کی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔ چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب نے گزشتہ گیارہ ماہ میں476 افراد کو گرفتار کیا، 216 افراد کے خلاف شکایات کی جانچ پڑتال ، 239 افراد کے خلاف انکوائری اور 79 افراد کے خلاف انوسٹی گیشنزشروع کی گئیں جبکہ 340 بدعنوانی کے ریفرنس مختلف احتساب عدالتوں میں دائر کئے گئے اور 72 افراد کو مختلف احتساب عدالتوں سے قانون کے مطابق سزا دلوائی گئی۔ اس کے علاوہ نیب نے گزشتہ 11 ماہ میں موجودہ چیئرمین کے دور میں تقریباََ 2410.250 ملین روپے بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں نہ صرف جمع کروائے بلکہ مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیوں متاثرین اور سرکاری محکموں کی ڈوبی ہوئی رقوم قومی جذبے کے تحت واپس کرائیں جس کو ہاؤسنگ سوسائٹیوں متاثرین اور سرکاری محکموں سمیت معاشرے کے تما م طبقوں نے سراہا۔قومی احتساب بیورو کے موجودہ چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے نہ صر ف ہر ماہ کی آخری جمعرات کو عوام کی بدعنوانی سے متعلق شکایات کی ذاتی طور پر سنتے ہیں وہاں انہوں نے نیب کے تمام علاقائی بیوروز میں علیحدہ شکایت سیل قائم کئے ہیں اب شکایت کنندگان کو نہ صرف ان کی شکایات کی وصولی کے بارے میں اگاہ کیاجاتاہے بلکہ تمام شکایات کمپیوٹرائزڈ بھی کی جاتی ہیں۔

قومی احتساب بیورو کو اپنے قیام سے ابتک3 لاکھ94 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 13 ہزار اکیاسی شکایات کی جانچ پڑتال،8ہزارسو چھیانوے انکوائریاں، 4 ہزار ایک سو انویسٹی گیشنز، 3 ہزار تین سو چھیاسی بد عنوانی کے ریفرنسز متعلقہ احتساب عدالتوں میں دائر کیے گئے۔ جن میں سے ابھی تک 12 سو انیس بد عنوانی کے ریفرنسز متعلقہ احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن کی مکمل رقم 895.279بلین روپے ہے۔ قومی احتساب بیورو نے بد عنوانی کے بارہ سودس ریفرنسز کی جلد سماعت کیلئے متعلقہ احتساب عدالتوں میں درخواستیں دائر کررہا ہے۔اس کے علاوہ نیب نے اپنے قیام سے ابتک 297 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کروائے ہیں۔ اس میں سے ایک روپیہ بھی نیب کے افسران کو نہیں ملا بلکہ ساری کی ساری رقم متاثرین اور متعلقہ سرکاری محکموں کو واپس کی گئی ہے جو کہ نیب کے افسران اور اہلکاروں کی انتھک محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

قومی احتساب بیورو نے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی ہدایت پر نیب کے افسران کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے اور اسے مزید بہتر بنانے کیلئے جامع معیاری گریڈنگ سسٹم شروع کیا گیا ہے ۔ اس گریڈنگ سسٹم کے تحت نیب کے تمام علاقائی بیوروز کی کارکردگی کا سالانہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہیں نہ صرف ان کی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہ کیا جاتاہے بلکہ ان خامیوں کو دور کرنے کی ہدایت بھی کی جاتی ہے۔ نیب نے ایک موثر مانیٹرنگ اینڈ ایلیویشن نظام بنایا ہے جس کے تحت تمام شکایات کوجلد نمٹانے کیلئے انفراسٹرکچراورکام کرنے کے طریقہ کار میں جہاں بہتری لائی وہاں شکایات کی تصدیق سے انکوائری اور انکوائری سے لے کر انویسٹی گیشن اوراحتساب عدالت میں قانون کے مطابق ریفرنس دائر کرنے کے لئے دس ماہ کا عرصہ مقرر کیا ہے۔

قومی احتساب بیور و کا مجموعی طور پر سزا دلوانے کی شرح تقریباََ77 فیصد ہے۔ جو کہ ایک مثالی کامیابی ہے۔ نیب جہاں معاشرے کے دیگر طبقوں کے ساتھ مل کر ملک سے بد عنوانی کے خاتمے کے لیے کاوشیں کر رہا ہے وہاں نیب نے نوجوانوں کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ملک بھرکے کالجوں اور یونیورسٹیوں کی سطح پر تقریباََِ 50ہزار سوسائٹیاں بنائی ہیں جن کی بدولت نوجوانوں میں نہ صر ف بد عنوانی کے مضر اثرات کے بارے میں شعور اجاگر کیا جارہا ہے وہاں نوجوان بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ملک بھر میں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نیب کی آگاہی اور تدارک کی مہم کے تحت بھرپور کردار ادا کررہے ہیں ۔

قومی احتساب بیورو کے موجودہ چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے اپنی تعیناتی سے قومی احتساب بیورو کی کامیابی کے سفر کو زمین سے آسمان تک پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی آپ ایک اچھی شہرت رکھنے والے بہترین صلاحیتوں کے حامل چیئرمین ہیں۔ آپ میرٹ، غیر جانبداری، شواہد اور شفافیت کی بنیاد پر کسی بھی بدعنوانی کی درخواست پر بلاتفریق کاروائی کرتے ہیں۔ نیب نہ تو کسی سے انتقامی کاروائی پر یقین رکھتا ہے بلکہ موجودہ چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے سختی سے ہدایت کی ہے کہ نیب میں آنے والے ہر شخص کی عزت نفس کا خیال کیا جائے اور قانون کے مطابق ملزمان سے تحقیقات کی جائیں یہی وجہ ہے کہ قومی احتساب بیورو پر پلڈاٹ کی رپورٹ کے مطابق عوام کا اعتماد42 فیصد ہے، جبکہ دوسرے تحقیقاتی اداروں پر 30 فیصد ہے۔ مزید برآں ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل کے مطابق پاکستان کا کرپشن پرسپشن انڈیکس 175ممالک میں سے 116 تک پہنچ گیاہے جو پاکستان نے 20 سالوں میں قومی احتساب بیورو کی کاوشوں کی بدولت پہلی دفعہ حاصل کیا ہے۔

قومی احتساب بیورو نے اپنے قیا م سے جو نمایاں کامیابیا ں حاصل کیں ہیں وہ نیب افسران کی انتھک محنت اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے موجودہ چیئرمین جسٹس جاوید اقبال ٹیم ورک پر یقین رکھتے ہیں۔آپ اپنے فرائض کو ہمیشہ میرٹ اور ایمانداری کے ساتھ سرانجام دیتے ہیں اور اس کا درس وہ اپنے تمام افسران اور اہلکاروں کو بھی دیتے ہیں۔ وہ کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کو اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تعیناتی سے اب تک حکومت اور اپوزیشن کی تفریق کےئے بغیر میرٹ، ایمانداری اور کسی پریشر کو خاطر میں لائے بغیر کرپٹ عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی ہے وہ نہ کسی کے ساتھ نرمی برتتے ہیں اور نہ ہی کسی کے ساتھ زیادتی پر یقین رکھتے ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے موجودہ چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی شاندار قیادت میں نیب نے اپنی کامیاب انسداد بدعنوانی کی حکمت عملی کے تحت پاکستان سے بد عنوانی کے خاتمہ کے لئے جس طرح منظم اور مربوط انداز میں بھرپور کوشش کی ہیں ان کے انتہائی مثبت نتائج قوم کے سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

قومی احتساب بیورو کاملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کا سفر کٹھن ضرور ہے مگر نیب کے موجودہ چیئرمین جسٹس جاوید اقبال ناامید نہیں ہیں۔ آپ کا اﷲ تعالیٰ اور اﷲ تعالیٰ کے رسولﷺ پر پختہ ایمان اوریقین ہے جس کی وجہ سے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کے افسران اپنی کامیاب انسداد بدعنوانی کی حکمت عملی کے تحت ملک سے بد عنوانی کے خاتمہ کے لئے اپنی بھر پور کوشیش کر رہے ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ نیب کی بدعنوانی کے خاتمے کیلئے کاوشوں کی بدولت ملک سے بدعنوانی کے مکمل خاتمے میں مدد ملے گی او ر ہمارا پیارا ملک ترقی اور خوشحالی کی منزل پر رواں دواں ہوگا۔ آمین!

مزید : رائے /کالم