حکومت میں ہلچل

حکومت میں ہلچل

  



اتوار کے روز حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے وفاقی کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کردیا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ حکومت کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ پارٹی کنوینر و وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اپنی وزارت چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ڈیڑھ سال تک ایم کیو ایم پاکستان سے کئے گئے معاہدے کے ایک نکتہ پر بھی عمل نہ ہونے پر بحیثیت کنوینر ایم کیو ایم اس بات کو مناسب نہیں سمجھتا کہ سندھ کے شہری علاقوں کے لیے کچھ بھی نہ کرنے کے باوجود وزیر رہوں۔ دلچسپ بات ہے کہ کراچی کے مسائل حل نہ کروا سکنے پر استعفیٰ دینے والے وزیر کے پاس قلمدان انفارمیشن ٹیکنالوجی کا تھا۔ اس موقع پر پارٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان، ڈپٹی کنوینر نسرین جلیل اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سمیت نمایاں رہنما موجود تھے۔ خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا پی ٹی آئی کے ساتھ ہونے والے میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ پراسکی روح کے مطابق عمل چاہتے ہیں، اس معاملے میں حکومت کی جانب سے سنجیدگی نہیں دکھائی جارہی اور نہ ہی وعدے کے مطابق ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز جاری کیے گئے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ پی ٹی آئی کی حکومت کو گرنے نہیں دیں گے اور نہ ہی اس کی حمایت کا فیصلہ واپس لیا گیا ہے۔ اس پریس کانفرنس میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ فروغ نسیم کابینہ میں ایم کیو ایم کے کوٹے میں شامل نہیں۔ خالد مقبول صدیقی نے شکوہ کیا کہ فروغ نسیم کو وزیر بناتے ہوئے ایم کیو ایم سے نہیں پوچھا گیا بلکہ معاہدے کے مطابق ایم کیو ایم کی ایک وزارت باقی تھی جو بار بار یقین دہانی کے باوجود نہیں دی گئی۔

ایم کیو ایم کی جانب سے کابینہ سے علیحدگی کے اعلان کے بعد حکومتی صفوں میں قدرتی طور پر افراتفری مچ گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے فوری طور پر گورنر سندھ عمران اسماعیل کو ایم کیو ایم رہنماؤں سے رابطہ کر کے ان کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کروانے کی ہدایت دی۔ ساتھ ہی وزیراعظم نے ایم کیو ایم سے مذاکرات کے لیے پرویز خٹک، جہانگیر ترین اور اسد عمر پر مشتمل کمیٹی بھی بنادی۔ ایم کیو ایم اور حکومت کے درمیان اختلافات اس 'دھماکے دارانداز' میں سامنے آنے پر اپوزیشن جماعتوں کے لیے اپنی خوشی چھپانا مشکل نظر آیا۔ سندھ کے وزیر اطلاعات سعید غنی نے خالد مقبول صدیقی کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے فقرہ چست کیا کہ یہ فیصلہ بہت پہلے ہی کر لینا چاہیے تھا۔ مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ بھی پیچھے نہ رہے، اس پیشرفت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا اگلے تین سے چھ ماہ میں جو ہونے جارہا ہے یہ اس کی جانب اہم قدم ہوسکتا ہے۔

پاکستان کی سیاست میں ایک ہی بات یقینی ہے، وہ یہ کہ یہاں ہر وقت غیر یقینی کے بادل چھائے رہتے ہیں۔ بے حد ذوق و شوق سے انتخابات کروائے جاتے ہیں، حکومت قائم ہوتی ہے اور اگلے ہی دن اتنے ہی ذوق و شوق سے اس کے خاتمے کی چہ میگوئیاں شروع کردی جاتی ہیں۔ موجودہ حکومت کا معاملہ تو اس لیے بھی زیادہ نازک ہے کہ حکمران جماعت کے پاس بذات خود تو سادہ اکثریت بھی موجود نہیں۔ قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت کے لیے 172 نشستیں درکار ہیں جبکہ تحریک انصاف نے عام انتخابات میں 149 سیٹیں حاصل کیں، اس وقت اس کے ارکان اسمبلی کی کل تعداد 156 ہے۔ وزیراعظم عمران خان 176 ووٹ لے کر منتخب ہوئے تھے۔ اس وقت اتحادی جماعتوں کو ملا کر حکومت کے پاس کل 184 نشستیں ہیں۔ اتحادیوں میں مسلم لیگ ق 5، ایم کیو ایم 7، بلوچستان عوامی پارٹی 5، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) 4 اور جی ڈی اے 3 نشستوں کے ساتھ نمایاں ہے۔ ان اعداد سے واضح ہے کہ ایوان میں حکومتی پوزیشن خاصی کمزور ہے اور چھوٹی جماعتوں کا وزن بے حد زیادہ۔ یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم کی ایک پریس کانفرنس کے بعد پورا دن حکومتی کیمپ میں افراتفری کی سی صورتحال رہی اور اہم رہنماؤں کے ذمہ ایم کیو ایم کو فوری منانے کا ٹاسک لگادیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کے زیادہ تر اتحادیوں کو 'مخصوص حلقوں ' کا نمائندہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ تحریک انصاف کا اب تک اپنے اتحادیوں کے ساتھ رویہ دیکھ کر تاثر یہی ملتا ہے جیسے انہیں دل سے قبول نہ کیا گیا ہو۔ روکھے پن کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ حکومتی ذمہ داران کے خیال میں ان کے اتحادیوں کے پاس کوئی اور آپشن موجود نہیں، شور مچاتے بھی رہیں تب بھی اس ہی تنخواہ پر کام کرنا ہوگا جو مقرر کر دی جائے۔ تاہم ہماری جمہوریت اور سیاست کی 'خوبصورتی' یہ ہے کہ اس میں آئے دن نئے آپشنز پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ قومی اسمبلی اور پاکستانی سیاست میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات کے بعد کم از کم تاثر کی حد تک تو یقینا بہت سی چیزیں تبدیل ہوگئی ہیں، جو دروازے ہمیشہ کے لیے بند تصور کیے جارہے تھے، تاثر پیدا ہوا ہے کہ ضرورت پڑنے پر انہیں کھولا بھی جاسکتا ہے۔ خصوصاً اپوزیشن جماعتوں کے رہنما اخباری بیانات اور نجی محفلوں میں آنے والے چند ماہ میں بڑی تبدیلیوں کی پیشگوئیاں کرتے نظر آرہے ہیں۔ رانا ثناء اللہ نے بھی ایم کیو ایم کی ’ہل چل‘ کو ذومعنی قرار دیا ہے، ممکن ہے یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیئے اپوزیشن جماعتوں کا صرف ایک حربہ ہو۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم نے موقع بھانپ کر وہ تمام ارمان پورے کروانے کی ٹھانی ہے جو گزشتہ ڈیڑھ برس سے اْن کے دل میں مچل رہے تھے۔ موجودہ حکومت نے آج تک اپنے اتحادیوں کی فریادوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکالا ہے تاہم اب مزید ایسا کرنا ممکن نظر نہیں آرہا۔ توقع یہی ہے کہ اس ہنگامے میں ایم کیو ایم اپنی اہمیت منوانے میں کامیاب ہوجائے گی۔ حکومت کے لیے پریشانی کی بات یہ ہے کہ اس کی حمایت کرنے والے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے بھی موجودہ حکومت کی حمایت جاری رکھنے یا نہ رکھنے پر غور کے لیے پارٹی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ ق کے سرکردہ رہنما چودھری پرویز الہٰی بھی گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف ایشوز پر حکومتی بیانیئے سے متفق نظر نہیں آتے، ساتھ ہی ان کو بھی حکومت کی جانب سے وعدہ خلافیوں کی شکایت ہے۔ ممکن ہے ان سے وزارتوں کی جس تعداد کا وعدہ کیا گیا تھا، اگلے چند روز میں وہ بھی پوری کرنا پڑجائے۔

بظاہر نظر آتا ہے کہ حکومت کے لیے اپنے رویے میں لچک لائے بغیر نظام چلانا ممکن نہیں۔ اتحادیوں کی ایک لمبی فہرست ہے اور سب ہی اپنے اپنے سٹیٹس سے ناخوش نظر آتے ہیں۔ گزشتہ ڈیڑھ برس سیاسی دھینگا مشتی میں گزر گیا، اپوزیشن کی سنی گئی نہ اتحادیوں پر توجہ دی گئی، تاہم پورے پانچ برس شاید اس طرح نہ گزرپائیں۔چند تجزیہ کار اور سیاستدان تو ان ہاؤس تبدیلی کی سرگوشیاں بھی کررہے ہیں تاہم ایسی کوئی صورت قابل عمل نظر نہیں آتی۔ اس تبدیلی کے لیے تمام اپوزیشن جماعتوں کو ایک پیج پر آنا ہوگا اور اس کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت عددی اعتبار سے موجودہ نظام سے بھی زیادہ کمزور ہوگی۔ ان حالات میں سب سے بہتر آپشن یہی ہے کہ پارلیمنٹ میں موجود بڑی جماعتیں بنیادی نکات پر اتفاق کرلیں۔ ہر وقت ایک دوسرے کو ذچ کرنے کی بجائے اکٹھے کام کرنے کی کوشش کریں، منظور کی جانے والی حالیہ قانون سازی میں جس حسن اتفاق کا عملی مظاہرہ کیا گیا، اگر پارلیمان میں وقتا فوقتا نظر آتا رہے تو حکومت اور اپوزیشن دونوں کی مشکلات کم ہو جائیں گی۔ ان حالات میں حکومت کی ذمہ داری سب سے بڑھ کر ہے۔ اگر سیاسی درجہ حرارت قابو میں رکھا جائے اور حزب اختلاف کے ساتھ معاملہ فہمی سے کام لیا جائے تو بے یقینی کی کیفیت میں کمی ہوسکتی ہے اور روز روز اتحادیوں کو منانے پر وقت صرف کرنے کی بجائے حقیقی مسائل خصوصاً معیشیت پر توجہ دی جاسکتی ہے۔

مزید : رائے /اداریہ