سی پیک کا جیو سٹرٹیجک پس منظر

سی پیک کا جیو سٹرٹیجک پس منظر

مئی 2019کے آخری ہفتے میں چین کے نائب صدر وانگ کشن نے پاکستان کا تاریخی دورہ کیا۔ ان کے اس دورے کے دوران پاکستان کے اپنے آہنی برادر ملک چین کے ساتھ دوستی کے 68سال مکمل ہوئے۔ حکومت ِ پاکستان کی طرف سے صدرِ پاکستان نے معزز مہمان وانگ کشن کو نشانِ پاکستان کے تمغے سے نوازا۔ چین کے نائب صدر وانگ کشن سی پیک منصوبوں اور اوبور کی جیو سٹرٹیجک جہتوں کا جائزہ لینے پاکستان آئے تھے۔ سی پیک کے تحت اقتصادی زون اور زرعی منصوبے کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ حالیہ امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کے پس منظر میں اس کی اہمیت کا جائزہ لینا بھی دورے کے مقاصد میں شامل تھا۔ امریکہ ایران جنگ کی صورت میں امریکہ ہر صورت میں فتحیاب ہونا چاہے گا۔

سی پیک کے منصوبوں کی ترقی اور اس کی رفتار کا جائزہ لینا جناب وانگ کشن کے دورے کا بنیادی مقصد تھا۔ انہوں نے یہ دورہ چین کے اعلیٰ ترین سفارت کاروں اور افسروں کے ہمراہ کیا۔ اب تک پاکستان اور چین سی پیک کی اہمیت سے آگاہ ہو چکے ہیں۔ یہ زمینی راستہ بہت ہی آسان اور مفید ثابت ہو گا۔ اگر خدانخواستہ امریکہ اور ایران کے مابین جنگ چھڑ جاتی ہے تو گوادر چین اورپاکستان کی اہم ترین بندرگاہ بن جائے گا۔ اس بات کا اعادہ جناب وانگ کشن اور عمران خان کے درمیان ہونے والی میٹنگوں میں بھی کیا گیا۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ تعلقاتِ عامہ، جیو سٹرٹیجک تعلقات میں جناب نائب صدر کا فیصلہ حتمی سمجھا جائے گا۔ دوسرے ممالک سے ہٹ کے چین میں مرکزی سیاسی پارٹی کے عہدیداروں کی حیثیت سب سے بڑھ کر ہے۔جناب وزیراعظم پاکستان اور نائب صدر چین کے درمیاں بہت سے مشترکہ مفاداتی معاہدوں پر دستخط کئے گئے، جن میں زراعت، لائیو سٹاک، آسمانی مصیبتوں میں ضروری سامان کی امداد کے تبادلے کے معاہدے شامل ہیں۔ چینی مشینری انجینئرنگ کارپوریشن اور لسبیلہ یونیورسٹی کے مابین بھی بہت سے معاہدے طے پائے۔ ان میں 660کلو واٹ ٹرانسمیشن لائنز بھی ہیں جو کہ مٹیاری سے لاہور تک ہو ں گی۔ دوسرے منصوبوں کے ساتھ ساتھ دفاعی منصوبہ جات بھی سر فہرست رہے۔

اس وقت دنیا کی جیو پولیٹیکل صورت حال کو دو لفظوں میں بیان کیا جا سکتا ہے، وہ دو الفاظ ہیں مقابلہ اور تصادم۔ امدادِ باہمی کی گفتگو کے دوران چینی سفارت کاروں نے دفاع کے وسائل کو بھی سامنے رکھا۔ مئی کے پہلے ہفتے میں ہی دہشت گردوں نے گوادر میں ایک فائیو سٹار ہوٹل پر حملہ کیا جسے بڑے سلیقے سے ناکام بنا دیا گا۔ اس حملہ کا مقصد چین کے منصوبہ سازوں اور کارکنوں کو دہشت زدہ کرنا تھا۔ اسی طرح بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں گڑ بڑ پھیلانے والے دھڑوں کے پیچھے بھی ہندوستان کی ایجنسی را کا ہاتھ ہے۔ سی پیک ایک ایسا منصوبہ ہے جسے ہندوستان اور امریکہ مل کر ناکام بنانا چاہتے ہیں۔ ایسے میں چین کے نائب صدر کا دورہ ان قوتوں کے لئے ایک واضح اشارہ تھاکہ ہم اس منصوبے کو ہر قیمت پر کامیاب بنائیں گے۔ پاکستانی فوج نے اعلان کیا کہ وہ ایک ڈویژن فوج اور 15000افراد پر مشتمل ایک سیکیورٹی فورس بنائیں گے،جو کہ سی پیک اور اوبور کے منصوبوں کی حفاظت کرے گی۔ پاکستان اور چین فیصلہ کر چکے ہیں کہ ان منصوبوں کو کہیں بھی کمزور نہیں پڑنے دیں گے۔ چینی نائب صدر کا دورہءِ پاکستان ایک اور سمت میں بھی اشارہ ہے کہ چین کی صدی شروع ہونے والی ہے۔

سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ 2019ء کے نئے عہد میں داخل ہو چکے ہیں۔ امریکہ نے چین کے ساتھ جارحانہ اقتصادی مقابلے کی تجویز پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے۔ امریکہ نے چین کی بہت سی اشیاء کو بلیک لسٹ کر دیا ہے اور چین سے در آمد پہ ایکسپورٹ ڈیوٹی بڑھا دی ہے۔

اس امر نے چین کو بھی ایسی پالیسی اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ امریکہ کی اس حرکت سے روس اور چین اقتصادی طور پر اور قریب آگئے ہیں۔ نتیجتاًہمیں امریکی اقتصادیات ڈوبتی ہوئی اور چینی اقتصادیات اُبھرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو اسے اس تلخ حقیقت کا سامنا کرنا پڑے گا کہ ایران کے پاس عراق سے تین گنا بڑی فوج ہے۔امریکی اقتصادیات ابھی عراق اور افغانستان جنگ کے نقصانات سے باہر نہیں نکلی۔ امریکہ کی ایران کے ساتھ جنگ چین کے لئے ایک سنہری موقع ہو گا۔ اگر جنگ چھڑ جاتی ہے تو چین اور ایران بڑی آسانی سے زمینی راستہ جو کہ سی پیک اور اوبور نے مہیا کیا ہے، کے راستے تجارت اور فوجی امداد برقرار رکھ سکتے ہیں۔ یہ زمینی راستہ سمندری اور فضائی راستوں سے کہیں زیادہ محفوظ اور مستحکم ہو گا۔ اس راستے کے ذریعے چین اور ایران کے باہمی راستے سے امریکہ کے لئے یہ جنگ بہت مہنگی اور مہلک ثابت ہو گی۔پاکستان کی فوجی،جیو سٹرٹیجک، تجارتی اور دفاعی اہمیت اس علاقے میں بہت بڑھ جائے گی۔ سی پیک جو پہلے صرف ایک اقتصادی رابطہ کار تھا، موجودہ صورت حال میں چینی نائب صدر کے دورے سے پاکستان کی جیو سٹرٹیجک اہمیت بہت بڑھ جائے گی۔ پاکستان کو آنے والے بین الاقوامی حالات کے لئے تیار رہنا چاہئے۔چین اور پاکستان درست سمت میں گامزن ہیں اور دونوں سی پیک کی کامیابی چاہتے ہیں۔سی پیک اور اس زمینی راستے کی وجہ سے پاکستان جنوب مشرقی ایشیاء میں بہت اہمیت کا حامل ملک بن چکا ہے۔

مزید : رائے /کالم