ترقی کیلے فنی تعلیم کو نصاب کا لازمی حصہ بناناضروری ہے،ولی اللہ خان

ترقی کیلے فنی تعلیم کو نصاب کا لازمی حصہ بناناضروری ہے،ولی اللہ خان

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ہمارے ملک میں ایک بہت بڑی تعداد ایسے نوجوانوں کی ہے جو کسی بھی وجہ سے یا تو تعلیم حاصل نا کرسکے۔حالانکہ فنی تربیت کے ذریعے انکوملک کی معیشت میں اپنا کردار ادا کرنے کہ قابل بنایاجاسکتا ہے۔ جبکہ آج کے دور میں تعلیم کے ساتھ فنی تعلیم کو نصاب کا لازمی حصہ بنایا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ولی اللہ خان نے ایس ایم ای فاؤنڈیشن کے ممبران سے ملاقات کے درمیاں کیا۔ انہوں نے کہا فنی تعلیم کو بنیادی تعلیم کا حصہ بنانے والے ممالک میں معاشی ترقی کی رفتار بہت زیادہ ہے۔ جرمنی 78 فیصد ، کوریا ، ہنگری اور فن لینڈ سو فیصد فنی تعلیم کو لازمی قرار دے چکے ہیں۔ چین اور جاپان بھی فنی تعلیم کو لازم قرار دے کر اقوام عالم میں نمایاں مقام حاصل کرچکے ہیں۔اس کے برعکس پاکستان میں فنی تعلیم کی شرح صرف چار سے چھ فیصد جبکہ ہمارے ملک میں فنی تعلیم پر دسترس رکھنے والے نوجوانوں کی تعداد بہت کم ہے۔ فنی تربیت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگا یا جاسکتا ہے کہ آج اعلی تعلیم حاصل کرنے کہ بعد انٹرنشپ حاصل کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ جبکہ تعلیم میں کمی کی صورت میں فنی تربیت ہی نوجوانوں کو روزگار حاصل کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ فنی تربیت انسان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے اسے باعزت روزگار کمانے کے قابل بناتی ہے تاکہ وہ معاشی طور پر خوشحال زندگی بسر کر سکے۔ایک لوہار سے لے کر انجینئرنگ ،زراعت اور صنعت کی عملی تعلیم تک اس کی کئی اقسام ہیں۔یہی وہ فنون ہیں جو مختلف شعبوں میں کئی مصنوعات بنانے میں استعما ل ہوتے ہیں۔اس لیے اس شعبہ پر توجہ دینے سے نہ صرف اندرونِ ملک روزگار کے مواقع بڑھ سکتے ہیں بلکہ اس کے فروغ سے ہم بیش قیمت زرِمبادلہ بھی حاصل کر سکتے ہیں جو ہمارے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ایس ایم ای فاؤنڈیشن ملک سے غربت اور بیروزگاری کے خاتمے کہ عزم کے ساتھ میدان میں آئی ہے۔ ہم نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کرکے انکو اس قابل بنانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ہمارا نعرہ ہے خود مختار نوجوان روشن پاکستان۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر