دو سگی بہنوں کے قتل کی المناک داستان

دو سگی بہنوں کے قتل کی المناک داستان

  

حکومت نے چند یوم قبل جہاں اعلیٰ سطح پر انتظامی تبدیلیاں کیں وہاں مختلف اضلاع کے ڈی پی اوز اور ڈی سی اوز تبدیل کئے بلاشبہ مگر عوام کے بنیادی مسائل میں امن و امان کی صورتِ حال سرفہرست ہے قانون نافذ کرنے والے ادارے محکمہ پولیس کی کارکردگی بلاشبہ زوال پذیر تھی،بالخصوص کمسن بچوں کے ساتھ بداخلاقی اور پھر انہیں موت کے گھاٹ اتار دیناایک ایسا فعل ہے جسے سن کر ہر ذی الشعور پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے پاکستانی معاشرے بالخصوص پنجاب میں ایسے واقعات کا تسلسل سے ہونا حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ تھاپولیس افسران اور انکا ماتحت عملہ ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اختیار کئے ہوئے تھے مجبورا کمزور طبقہ سب اچھا کر نعرہ لگا کر درباریوں کا کردار ادا کرتے رہے ہیں، جس سے افسران بالا یہ تصور کرتے تھے کہ انکا کوئی ثانی نہیں، حکومت پنجاب نے صوبے کے انتہائی اہم سیاسی اور کرائم کے بے تاج بادشاہ ضلع گجرات میں کرائم کی شرح میں خوفناک حدتک اضافہ ہو رہا تھا، حکومت پنجاب نے ضلع گجرات میں برطانیہ میں تربیت حاصل کرنے والے کرائم فائٹر عمر فاروق سلامت کو گجرات کا چارج دیا، عمر فاروق سلامت انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہیں معمولی سے معمولی جرائم پر وہ بے چین ہو جاتے ہیں اور خود ہی عوام کی داد رسی کے لئے ان کی دہلیز تک پہنچ جاتے ہیں اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتے جب تک مجرمان کیفر کردار تک نہیں پہنچتے گجرات میں ایسے پولیس افسران کی بھی کوئی کمی نہیں جو دنوں میں لکھ سے کروڑ پتی بن گئے، سیاسی ڈیروں کا طواف کرنے والوں کی سیٹ پکی تصور کرتے ہیں۔

چند یوم قبل تھانہ دولت نگر میں ایک دلخراش واقعہ رونما ہوا کہ اسے بیان کرتے ہوئے بھی جسم پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے اس تھانہ کے ایک گاؤں ماجرہ میں دو سگی بہنوں کو قتل کرنے والے سفاک ملزم حمزہ بٹ کو ڈی پی او عمر فاروق سلامت کی کاوشوں سے دولت نگر تھانہ کے ایس ایچ او عبد الرحمان ڈوگہ نے بیرون ملک فرار ہونے سے قبل گرفتار کر لیا دو سگی بہنوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کی خبر گجرات میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی، ملزم کی گرفتاری ڈی پی او کے لئے ایک چیلنج بن گئی ملزم مذکورہ کے خلاف نوجوان دوشیزاؤں کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا،صفیہ بی بی نے مقدمہ درج کراتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا خاوند بیمار اور معذو رہے وہ حسب معمول گھریلو کام کاج میں مشغول تھی اور اس کی بیٹی عائشہ شبیر جو دوکان سے سودا سلف لینے گئی اور کافی دیر تک واپس نہ آئی اسے تشویش لاحق ہوئی وہ اپنی بیٹی کو تلاش کرنے کے لئے گھر سے نکلی تو باہر سے گلی میں اسے خلیل اختر ولد محمد شریف قوم گجر‘ مہندی خاں ولد احمد خاں ملے جنہوں نے اس کے پوچھنے پر بتایا کہ کچھ دیر قبل انہوں نے اس کی بیٹی عائشہ بشیر کو حمزہ منور کے ساتھ گاؤں سے مشرق کی جانب جاتے ہوئے دیکھا ہے شام تقریبا پانچ بجے جب میں اور دیگر افراد بچی کو تلاش کرتے ہوئے ایک کھیت کے قریب سے گزرے تو اس کی بیٹی عائشہ بشیر کے شور وغل کی آواز سنائی دی حمزہ منور اس وقت اس کی بیٹی کے منہ میں زبردستی پلاسٹک کی بوتل ڈالے ہوئے دیکھا اور ہمیں دیکھ کر وہ موقع سے بھاگ گیا میری بیٹی مجھ سے لپٹ کر رونے لگی اور بتایا کہ حمزہ منور نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے اور اسے بعد میں اسے زہریلی گولیاں کھلا دی گئیں ان کے دیکھتے ہی عائشہ شبیر کی حالت خراب ہونے لگی اور ہم اسے علاج کے لئے عزیز بھٹی شہید ہسپتال لے آئے، جہاں وہ دم توڑ گئی ملزم حمزہ منور نے مقتولہ کی بہن رابعہ شبیر کو بھی زیادتی کا نشانہ بنایا اور زہردیکر موت کے گھاٹ اتاردیا اس طرح ایک ہی گھر کی دو نوجوان بیٹیاں ظلم و بربریت بھی بھینٹ چڑھ گئیں ملزم کی گرفتاری کے بعد ڈی پی او عمر فاروق سلامت مقتولی لڑکیوں کے گھر اچانک پہنچ گئے اور انہیں احساس تحفظ دلایا۔ ان کے طرز عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ اب جرائم پیشہ افراد کے لئے دھرتی تنگ کر دی جائے گی‘ تو دوسری طرف فرائض سے غفلت برتنے والے پولیس افسران کو ضلع بدر بھی کر دیا جائے گا پی آر او برانچ کے سربراہ اسد گجر‘ اور پی ایس او عمران سوہی جیسے بلند کردار افسران ہی ضلع میں رہ سکیں گے چندیوم قبل کالوپورہ کی رہائشی دومعصوم بچوں کی ماں ردا نواز کو گھریلو تنازعہ پر سسرالیوں نے بیدردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار کر اس کی نعش پھندا دے کر پنکھے سے لٹکا دی اور اسکی موت کو خود کشی قرار دینے کی کوشش کی جو ناکام ہوئی پولیس نے مقتولہ کے شوہر رئیس اسلم اور نفیس اسلم پسران محمد اسلم ان کی والدہ نصرت اسلم کے خلاف تھانہ کنجاہ میں مقدمہ درج کر لیا گیا، مگر مظلوم خاندان انصاف کا منتظر ہے تھانہ دولت نگر کے علاقے میں ایک اور دلخراش واقعہ جس میں معصوم بچی ناز ولی کو اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا گیا بچے کی نعش برساتی نالے سے برآمد کی گئی ایس ایچ او دولت نگر عبد الرحمان ڈوگہ نے بچے کے قاتلوں کو گرفتار کرلیا گجرات میں تعینات ہونے والے نئے ڈی پی او عمر فاروق سلامت کے لئے بچوں سے بداخلاقی، خواتین پر گھریلو تشدد اور قتل وغارت گری کی روک تھام ایک بڑا چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لئے وہ انتہائی پرعزم ہیں باور کیا جارہا ہے کہ وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت بگڑے ہوئے معاشرے کو راہ راست پر لے آئیں گے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -