اشفاق احمد کی بطور براڈ کاسٹر قومی خدمات 

 اشفاق احمد کی بطور براڈ کاسٹر قومی خدمات 
 اشفاق احمد کی بطور براڈ کاسٹر قومی خدمات 

  

خواتین و حضرات قیام پاکستان کے بعد بھی اس کی تعمیر اور ترقی کے لئے ملک کے بہت سے سپوتوں نے کام کیا اور اس کے نظریے کی حفاظت کے لیے روپے پیسے، محنت، علم اور قلم سے اس کی آبیاری کرتے رہے۔ ابلاغ عامہ نے خصوصی طور پر نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریے کی وکالت اور فروغ کا کا ذمہ تا دم تحریر اٹھائے رکھا ہے۔ اخبارات میں دیگر نشریاتی ادارے اس سلسلے میں اہم خدمات انجام دیتے آئے ہیں۔ بعض شخصیات نے اس مہم میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ان  میں ایک بڑا نام اشفاق احمد کا ہے جو اپنی ذات میں ایک مکمل نشریاتی ادارہ تھے۔ وہ ادیب، افسانہ نگار، ناول نگار، ڈرامہ نگار، صدا کار اور دانشور کی حیثیت سے نصف صدی تک ریڈیو، ٹیلی ویژن اور ادبی دنیا پر حکمرانی کرتے رہے، ان کی تحریروں کا نمایاں موضوع اخلاقیات، وطن سے محبت اور نیکی کا پرچار رہا تاہم اس کے لیے جو اسلوب اور ذرائع اور طرز تحریر اپنایا گیا وہ نہ صرف نیا، انوکھا، دلچسپ تھا بلکہ لوگوں کے لیے بہت پرکشش بھی تھا اگر کہا جائے کہ انہوں نے واعظ کو جدیدیت کی شکل دی تو غلط نہ ہوگا۔

اشفاق احمد کی بطور براڈ کاسٹر قومی خدمات سب سے زیادہ قابل تحسین ہیں ریڈیو سے انہیں خاص لگاؤ تھا ریڈیو کے لئے لکھنے کا جو فن اشفاق احمد کے پاس تھا وہ کسی اور کے حصے میں نہ آسکا ریڈیو ڈرامہ اور فیچر پروگرام کے وہ استاد مانے جاتے ہیں۔ ایک ”تلقین شاہ“ کی مثال دینا ہی کافی ہے چالیس سال کے طویل عرصہ پر محیظ یہ فیچر پروگرام ریڈیو پاکستان لاہور سے ہر ہفتے باقاعدگی سے چلتا رہا اور ان کی وفات تک جاری رہا اس پروگرام کو وہ نہ صرف لکھتے تھے بلکہ اس کے اصل ہیرو اور روح رواں کردار ”تلقین شاہ“ کا کردار بھی خود ادا کرتے تھے، وہ ایک طویل عرصہ تک اسے خود پروڈیوس بھی کرتے رہے۔”تلقین شاہ“ نے بطور پاکستان کی آواز جو خدمات انجام دی ہیں شاید ہی کسی اور پروگرام کے حصے میں آئی ہوں۔ یہ اشفاق احمد کی قومی خدمات کی معراج تھی گو انہوں نے پاکستان کے حوالے سے لاتعداد کھیل لکھے تاہم تلقین شاہ ایک شاہکار ہے جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ ”تلقین شاہ“ کا موضوع پاکستان تھا پاکستان کی سیاست، خارجہ پالیسی، معیشت، معاشرتی ترقی، ادب تاریخ نظریات، اخلاقیات، عالمی مسائل، مسلمانوں کی پسماندگی کے اسباب، قوموں کے عروج و زوال، عالمی سیاست و معیشت، غربت علاقائی کشمکش،پاک بھارت تعلقات،کشمیر فلسطین مذہب اور سائنسی ترقی۔…… الغرص کوئی ایسا شعبہ، ایشو، شخصیات اور علاقائی، قومی اور عالمی مسئلہ نہ تھا جو اس میں ایک خوبصورت، دلکش اور پرکشش ڈرامائی انداز میں Discuss نہ ہوتا۔ ”تلقین شاہ“ نے پاکستان کے نظریات کو نشریاتی دفاع سے مضبوط اور مقبول کیا۔ ہر دور میں ہر حکومت میں ہر حالت میں پاکستان کے داخلی علاقائی اور عالمی خلفشار کو نہایت خوبصورت طریقے سے عوام اور دنیا کے سامنے رکھا اور اس کی وضاحت اور وکالت کی۔ اشفاق صاحب نے تلقین شاہ کے کردار میں تمام تر برائیوں، کوتاہیوں اور منفی رویوں کواپنی ذات پر لے لیا اور اس کے ذریعے اصلاح کی راہیں بھی نکالیں، بالخصوص کشمیر کے موضوع کو اشفاق صاحب نے ”تلقین شاہ“ میں تسلسل سے پیش کیا اور اس مسئلے کو اپنے پروگرام کے حوالے سے ہمیشہ زندہ رکھا۔ پروگرام میں کشمیر کو ایک گلدان کے سمبل کے طور پر پیش کیا گیا، ایک گلدان جو اس پڑوسی کی ملکیت ہے جس کو اس نے اپنے گھر میں زبردستی سجا رکھا ہے اور واپسی کے لئے ہر مرتبہ نت نئے حیلے بہانوں سے انکار کردیتا ہے۔ یہ پڑوسی ہاشمی صاحب ہے یوں اشفاق صاحب نے پاکستان کو ہاشمی صاحب کے کردار اور کشمیر کو گلدان کی شکل میں پیش کیا۔ تلقین شاہ کے معاون کرداروں میں ہدایت اللہ، زہرہ، سلیمان، رقیہ، ببن میاں وغیرہ مستقل کردار تھے۔ ”تلقین شاہ“ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تشریح، حمایت اور وکالت کا ایک اہم ذریعہ تھا۔ بالخصوص پاک بھارت جنگ 1965ء اور 1971 میں یہ پروگرام حکومت پاکستان اور مسلمانوں کی نمائندہ آواز رہا اگر ہمارے فوجی جوان سرحدوں کی حفاظت میں جان کی بازی لگا رہے تھے تو تلقین شاہ ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کا امین تھا۔ 1971 ء کی جنگ میں ”تلقین شاہ“ از خود سرحدوں پر پہنچ گیا اور اس کے عنوان اور کرداروں نے ایک نیا روپ دھار لیا۔ اشفاق احمد دادو لوہار بن گئے اور پروگرام یوں شروع ہوتا ”دادو لوہار ولد ٹہکا لوہار، سکنہ کوٹری لوہاراں حال مقیم پل کنجڑی…… آپ سے مخاطب ہے“۔

”تلقین شاہ“ پاکستان بلکہ خطے میں سب سے طویل عرصہ تک چلنے والا ریڈیو پروگرام ہے۔ اشفاق احمد نے اسے کمال فنکاری سے ادا کیا، لکھا اور پیش کیا۔ ان کی ذات براڈ کاسٹنگ کے شعبہ کی ایک جامع اور ماہر ترین مثال تھی جو بیک وقت نشریات کے ہر شعبے کو سمجھتی تھی اور اس پر مہارت رکھتی تھی۔ اشفاق صاحب نے ”تلقین شاہ“ کے ذریعے جو قومی خدمت ایک طویل عرصہ تک کی ہے اس کی مثال شاید ہی کوئی دوسرا شخص دے سکے گا۔ ریڈیو یوں بھی از خود ملکی خدمات میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور اس شعبے میں اشفاق صاحب کی حیثیت ایک رہنما کی سی تھی۔ ریڈیو پاکستان کے لئے ”تلقین شاہ“ پاکستان کے مختلف ایشوز پر اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوتا رہا ہے۔

یہاں بھی ان کے ڈراموں کے موضوعات میں ملک سے محبت، اخلاقیات اور عالم گیر سچائی فرنٹ پر نظر آتی ہے۔ یوم پاکستان، قیام پاکستان، پیدائش قائداعظم اور دیگر اہم قومی دنوں، امور واقعات اور معاملات پر اشفاق صاحب نے بڑے مؤثر طریقے سے حب الوطنی کے جذبات سے بھرپور ڈرامے پیش کئے۔ ان میں ان کا ”برگ آرزو“ اور ننگے پاؤں طویل دورانیے کے کھیل شاہکار حیثیت کے حامل ہیں۔ 

”فہمیدہ کی کہانی۔ استانی راحت کی زبانی“ کھیل میں بے جا نمود و نمائش، شوبازی اور دکھاوے کو جس پر اثر انداز میں دکھایا گیا ہے اس کی مثال ملنا محال ہے۔ اشفاق صاحب کی زندگی کے آخری پانچ سات سالوں نے ایک نئے اشفاق احمد کو دریافت کیا۔ یہ ایک دانشور اشفاق احمد تھے۔ اپنے ٹی وی پروگرام ”زاویہ“ میں قومی اور ذاتی اہمیت کے موضوعات کو ذاتی تجربات اور واقعات سے جس پرکشش طریقے سے سجاتے تھے اس سے ایک گل و گلزار کھل اٹھتا تھا۔

خواتین و حضرات، راقم کا بھی اشفاق احمد سے تعلق رہا ہے، جو خط و کتابت کے ذریعے قائم تھا۔ 1981-83ء میں ان کے میرے نام لکھے خطوط آج بھی میرا قیمتی خزانہ ہیں۔ تلقین شاہ پروگرام پر میرے تبصرے اور رائے کے جواب میں وہ مجھے خط لکھا کرتے تھے اور مختلف نکات کی وضاحت کرتے، میرے علم و شعور میں اضافہ کرتے انہوں نے میرے نام اپنے ایک خط 25 نومبر1982ء میں تلقین شاہ پروگرام کے مقاصد کو ایک جملہ میں یوں بیان کیا، ”تلقین شاہ کوئی مزاحیہ پروگرام نہیں بلکہ ایک غور طلب تھیس ہے۔ اسے قہقہ مار کر ہاتھ بجا کے سننے کے لئے نہیں لکھا جاتا“۔

خواتین و حضرات اشفاق احمد کو ہم ایک افسانہ نگار کی حیثیت سے تو خوب جانتے ہیں مگر ان کی تحریروں کے موضوعات کواگر دیکھیں تو ان میں زندگی کے تمام موضوعات پر چھایا ہوا ہے۔ یوں اگر ہم ایسی شخصیات کا ذکر کریں جنہوں نے پاکستان کی بھرپور خدمت کی ہے تو ان میں اشفاق احمد ایک نمایاں شخصیت کے طور پر نظر آتے ہیں جنہوں نے بطور لکھاری اور براڈ کاسٹر قوم کی غیر معمولی خدمت کی ہے۔ ایک تلقین شاہ ہی اس کی کامیاب مثال ہے۔ 7 ستمبر 2004ء وہ ہم سے جدا ہوگئے اور تلقین شاہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگیا۔ 

آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے

مزید :

رائے -کالم -