بوگس ڈگری ہولڈرز

بوگس ڈگری ہولڈرز

جن لوگوں نے اقتدار پاکستان حاصل کرنے کے لئے بوگس ڈگریاں حاصل کی ہیں، ان سب نے پاکستان اور پاکستانی قوم کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ اور فریب کیا ہے۔وہ کسی صورت میں بھی نرمی کے حقدار نہ ہیں۔ایسے لوگوں کو جرم ثابت ہونے پر زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے اور اس کے ساتھ ہی وہ بھاری جرمانہ بھی ادا کریں۔ان کی دھوکے سے حاصل کردہ تمام جائیدادوں کو بھی ضبط کرلی جائے۔آئندہ ایسے لوگوں کو کم از کم 10سال کے لئے انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دے دیا جائے۔ان پڑھ ہوتے ہوئے وہ لوگ اپنے آپ کو پڑھا لکھا ثابت کرنا چاہتے ہیں،تاکہ وہ پاکستان کے اقتدار میں شریک ہو سکیں، ان لوگوں نے اقتدار کی خاطر اتنا بڑا جھوٹ بولا ہے کہ وہ ڈگری ہولڈرز ہیں، اگر واقعی یہ لوگ بڑے لوگوں میں شامل ہونے کی دلی خواہش رکھتے ہیں تو ان کو باقاعدہ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونا چاہیے تھا، اب بھی یہ سارے لوگ تعلیمی اداروں سے علم کی روشنی سے منور ہوسکتے ہیں۔اسی لئے میری خواہش اور مطالبہ ہے کہ پاکستانی جیلوں میں بھی ”درس گاہیں“ کھولی جائیں، تاکہ سارے جرائم پیشہ لوگ بھی ہر قسم کی تعلیم حاصل کرسکیں۔بھرپور اور مکمل تعلیم حاصل کرنے کے بعد ان لوگوں کو قومی سطح پر معاف کرنے کا سوچا جا سکتاہے۔شرط یہ ہوگی کہ وہ اپنے کئے ہوئے گناہوں کی قوم سے دل سے معافی مانگیں گے اور ساتھ ہی وہ آئندہ کے لئے پاکستان کے اچھے اور ایماندار شہری ہونے کا اعلان بھی کریں گے۔

آپ ذرا پاکستان کی پیدائش کے فوراً بعد کی تاریخ کا مطالعہ بھی کریں۔ہندوﺅں اور سکھوں کی کھربوں روپے مالیت کی جائیدادوں کو حاصل کرنے کے لئے بعض لوگوں نے بوگس کلیم داخل کئے اور بعد میں دیکھتے ہی دیکھتے وہ گاﺅں اور شہروں میں قیمتی اراضیات، مکانوں اور دکانوں کے مالک بن گئے ۔اس کے ساتھ ساتھ وہ لوگ جو واقعی تقسیم برصغیر سے قبل بڑی بڑی جائیدادوں کے مالک تھے، وہ ان جائیدادوں کا کوئی بھی متبادل پاکستان میں حاصل نہ کر سکے۔اس طرح وہ غربت اور مفلسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے تھے۔اسی طرح کے کاروبار میں جعل سازی اور دھوکے بازی کا ایک بڑا عنصر موجود تھا۔ افسوس جن مقاصد کے لئے پاکستان معرض وجود میں آیا تھا، وہ مقاصد آج تک حاصل نہ کئے جا سکے ۔پاکستان کے بنانے کا پس منظر یہ تھا کہ مسلمانوں کو ہندوﺅں اور سکھوں کی معاشی غلامی سے نجات دلائی جائے اور ان کے لئے موجودہ دور کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے ترقی کے تمام دروازے کھول دیئے جائیں۔بہت حد تک بدقسمتی سے اس منشور پر آج تک عمل نہ کیا جا سکا ہے۔ان گنت لوگ ایسے موجود ہیں ،جن کے پاس اپنی رہائش موجود نہ ہے۔ آپ کو سرزمینِ پاکستان پر لاکھوں جُھگی نشین کھلے آسمان کے نیچے زندگی بسر کرتے ہوئے نظر آئیں گے ۔بے شمار لوگ بے روزگار ہیں، قوم کے لاکھوں انتہائی ذہین بچے زیور تعلیم سے آراستہ نہ ہورہے ہیں۔یہ قانون موجود ہے کہ قوم کے ہر بچے کو تعلیم دی جائے گی، مگر ابھی تک ایسا نہ کیا جا سکا ہے۔

اب بھی وقت ہے کہ ہم خوابِ غفلت سے بیدار ہو جائیں اور اندھیروں میں پھنسے ہوئے اپنے ہم وطنوں کی عملی امداد کے لئے کمربستہ ہو جائیں۔لاکھوں وہ بچے جنہوں نے ابھی تک درسگاہوں کا منہ تک نہ دیکھا ہے، ان کو ہنگامی بنیادوں پر تعلیم کے حصول کے لئے تیار کیا جائے اور ان کو مفت تعلیم دینے کا انتظام کیا جاناضروری ہوگیا ہے۔مفلس اور غریب لوگوں کے بچوں کو معقول وظائف دیئے جائیں۔مالی امداد سے غریب لوگ یقینی طور پر اپنے بچوں کو سکولوں میں بھیجنے کے لئے تیار ہو جائیں گے، اسی سے ہمارے ملک سے جہالت کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔آج تو ہمارے دماغوں پر جہالت کے تالے لگے ہوئے ہیں،جو خودبخود تعلیم کی طاقت سے کھلتے چلے جائیں گے۔تعلیم سے ہی ہمارا شمار بھی دنیا کی طاقت ور اور روشن دماغ اور مہذب قوموں میں ہو جائے گا۔ہزاروں قوم کے بچوں کو بازاروں اور گلیوں میں بے مقصد پھرتے ہوئے دیکھ کر ہم سب کو دلی دکھ ہوتا ہے۔میری تو دعا اور خواہش ہے کہ پاکستان میں جگہ جگہ ہزاروں سرسید احمد خان پیدا ہو جائیں، بامقصد تعلیم ہی سے ہم اپنی قوم کی حفاظت ،خوشحالی اور ترقی کے اسباب پیدا کرسکیں گے،جب ہمارے وطن میں بامقصد تعلیم عام ہوگی تو اس وقت خود بخود ہر قسم کی شدت پسندی اور بے راہ روی کے تمام راستے بند ہوتے چلے جائیں گے۔دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں، جن سے ہم بے شمار اچھے سبق سیکھ سکتے ہیں۔اللہ صرف اور صرف ان کی مدد کرتا ہے، جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔بغیر تعلیم حاصل کئے اور بغیر محنت کئے ہم کبھی بھی اپنے ملک و قوم کی قسمت نہ بدل سکیں گے ،جو بھی کام ہم نیک نیتی اور ایمانداری سے کریں گے، وہی کام اچھا اور پھل دینے والا کام ہوگا۔کب تک ہم اپنی قوم ملک اور اپنے آپ سے لگاتار دھوکے اور فریب کرتے رہیں گے۔یہ سب کے سب دھوکے ایک روز ضرور سامنے آ جائیں گے۔

بلاشبہ بوگس ڈگری ہولڈرز نے ہماری قوم اور ملک پر نہ مٹنے والا داغ لگا دیا ہے، اگر جعل سازی سے کچھ ہمارے لوگ پارلیمنٹ کے اراکین بن سکتے ہیں تو اسی طرح کیا یہ ممکن نہ ہے کہ بوگس میڈیکل اور انجینئرنگ ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد ملک میں وہ باقاعدہ ڈاکٹر اور انجینئر نہ بن جائیں گے۔خدانخواستہ اگر ایسے ہوتا ہے تو پھر کون ہمیں مختلف بیماریوں کا علاج کرکے موت کے منہ سے بچا سکے گا، اسی طرح ہمارے بے شمار تعمیراتی کئے ہوئے کام بے معنی ہوجائیں گے۔ بوگس انجینئرز کے ہاتھوں سے ڈیزائن کی ہوئی اور بنائی ہوئی قومی عمارتیں کسی بھی آندھی یا طوفان میں زمین بوس نہ ہو جائیں گی؟ ایسے ہونے کا امکان موجود رہتا ہے ۔کوئٹہ کی 1935ءاور حالیہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں زلزلہ کی تباہ کاریاں ہمارے دل و دماغ میں زندہ موجودہیں۔جاپان دنیا کا ایک سرفہرست ملک ہے،جہاں تباہ کن زلزلے آتے رہتے ہیں۔جاپان نے کمال مہارت اور سائنس اور ٹیکنالوجی کی امداد سے بہت حد تک زلزلے کی تباہی سے بچنے کا انتظام کررکھا ہے۔اس میدان میں ہم جاپان سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔جاپانی لوگ ہر وقت قدرتی آفات سے مقابلہ کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ان کا دماغ،محنت اور ہر قسم کا کام کرنے کی صلاحیت بلاشبہ سارے جہاں میں اپنی مثال آپ ہے۔یہ بات ایک حقیقت ہے کہ جاپان میں ایک ذرہ برابر بھی ”لوہا“تلاش کے باوجود نہ مل سکے گا، مگر لوہے کا بنا ہوا سامان ایک ”سوئی“ سے ہوائی جہاز تک باہر سے درآمد کئے ہوئے ”لوہے“ سے تیار ہوتا ہے اور ”مِیڈاِن جاپان“ کے نام پر دنیا کے کونے کونے میں یہ سارا سامان فروخت ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج کا جاپان دوسری جنگ عظیم کی تباہی و بربادی کے باوجود دنیا کا ایک انتہائی ترقی یافتہ ملک بن چکا ہوا ہے۔ہر گھر اور ہر دکان پر جاپان کی بنی ہوئی اشیاءکے نظارے آپ دیکھ سکیں گے۔

اگر ہماری طرح جاپان یا کسی اور ترقی یافتہ ملک میں بھی بوگس ڈگریاں پائی جاتی تو جاپان کا حال بھی دنیا کے تیسرے درجہ کی قوموں جیسا ہوتا۔ ذرا دل ،دماغ سے سوچیں کہ ہم لوگ کیوں پسماندہ ہیں اور مفلسی کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں۔اس کا جواب صرف یہی ہوگا کہ ہم آج بھی ”دقیا نوشی“ خیالات کا شکار بنے ہوئے ہیں۔دھوکے اور جعل سازی کی بدولت حاصل کی ہوئی ڈگریوںکی بنیاد پر اپنا”قد کاٹھ“ اونچا ظاہر کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔اس ”مائنڈسیٹ“ کو ہمیں چھوڑنا ہوگا۔ہمیں ایمانداری، دیانت داری اور علم و دانش کا”مائنڈ سیٹ“ قائم کرنا پڑے گا۔     ٭

مزید : کالم