اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔ قسط نمبر 7

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔ قسط نمبر 7
اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔ قسط نمبر 7

  

مولانا ابو الکلام آزاد ’’غبارِ خاطر ‘‘ میں صاحب مآشہ الامرا کے حوالے سے اورنگ زیب کی ازخودرفتگی کا ایک واقعہ لکھا ہے ، فرماتے ہیں :

’’برہان پور کے حوالی میں ایک بستی زین آبادی کے نام سے بس گئی تھی اسی زین آباد کی رہنے والی ایک مغنیہ تھی جو زین آبادی کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس کے نغمہ و حُسن کی تیرا فگینوں نے اورنگ زیب کو زمانہ شہزادگی میں زخمی کیا، صاحب مآثر الامراء نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کیا خُوب شعر کہا ہے ؂

عجب گیرندہ دامے بودور عاشق ربائی ہا

نگاہِ آشنائے یار پیش ازآشنائے ہا

اورنگ زیب کے اس معاشقہ کی داستان بڑی ہی دلچسپ ہے ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ اولوالعزمیوں کی طلب نے اُسے لوہے اور پتھر کا بنا دیا تھا لیکن ایک زمانہ میں گوشت و پوست کا آدمی بھی رہ چکا تھا اور کہہ سکتا تھا کہ

گزر چکی ہے فصلِ بہار ہم پر بھی

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔ قسط نمبر 6پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ابھی تھوڑی دیر ہوئی ہم یمین الدولہ کے داماد میر خلیل خان زمان کا تذکرہ کر رہے تھے ۔ اس خان زمان کی بیوی اورنگ زیب کی خالہ ہوتی تھی، ایک دن اورنگ زیب برہان پور کے باغ آہو خانہ میں چہل قدمی کر رہا تھا اور خان زمان کی بیوی یعنی اُس کی خالہ بھی اپنی خواصوں کے ساتھ سیر کے لئے آئی ہوئی تھی۔ خواصوں میں ایک خواص زین آبادی تھی جو نغمہ سنجی میں سحرکار اور شیوہ دلربائی ورعنائی میں اپنا جواب نہیں رکھتی تھی۔

سیرو تفریح کرتے ہوئے یہ پورا مجمع ایک درخت کے سایہ میں سے گزرا ، جس کی شاخوں میں آم لٹک رہے تھے ۔جونہی مجمع درخت کے نیچے پہنچا زین آبادی نے نہ تو شہزادہ کی موجودگی کا کچھ پاس لحاظ کیا نہ اُس کی خالہ کا۔ بے باکانہ اُچھلی اور ایک شاخ بلند سے ایک پھل توڑ لیا، خان زمان کی بیوی پر یہ شوخی گراں گزری اور اس نے ملامت کی تو زین آبادی نے ایک غلط انداز نظر شہزادہ پر ڈالی اور پشتو از سنبھالتے ہوئے آگے نکل گئی ۔

یہ ایک غلط انداز نظر کچھ ایسی قیامت کی تھی کی اس نے شہزادہ کا کام تمام کر دیا اور صبرو قرار نے خدا حافظ کہا ؂

بالا بلند عشوہ گر سرونازمن

کوتاہ کرو قصہ زہد درازمن

صاحب مآثر الامراء لکھا ہے کہ ’’بکمال ابرام و سماجت زین آبادی را ازخالہ محترمہ خود گرفتہ ، باآں ہمہ زہد خشک و نفقہ بخت ، شیفتہ و دلدادہ اوشد ، قدح شراب رست خود پر کردہ می داد گویند ، روزے زین آبادی ہم قدح بادہ پر کردہ بہ دست شہزادہ دادو تکلیف شرب نمود‘‘ یعنی بڑی منت و سماجت کر کے اپنی خالہ سے زین آبادی کو حاصل کیا اور باوجود اس زہد خشک اور خالص نفقہ کے جس کے لئے اس عہد میں بھی مشہور ہوچکا تھا اس نے عشق و شیفتگی میں اس درجہ بے قابو ہوگیا کہ اپنے ہاتھ سے شراب کا پیالہ بھر بھر کر پیش کرتا اور عالم نشہ و سرور کی رعنائیاں دیکھتا، کہتے ہیں کہ ایک دن زین آبادی نے اپنے ہاتھ سے جام لبریز اورنگ زیب کو دیا ، اور اصرار کیا کہ لوں سے لگائے ، دیکھے عرنی کا ایک شعر کیا موقع سے یاد آگیا ہے اور کیا چسپاں ہوا ہے۔

ساقی نوئی و سادہ دلی بیں کی شیخ شہر

باور نمے کند کہ ملک مے گسارشد

شہزاد نے ہر چند عجزو نیاز کے ساتھ التجائیں کیں کہ میرے عشق و دل باختگی کا امتحان اس جام کے پینے پر قوف نہ رکھو:

مے حاجت نیست مستیم را درچشمِ توتا خمارباقیست

لیکن اس عیار کو رحم نہ آیا۔

ہنوز ایمان و دل بسیار غارت کردنی دارد

مسلمانی بیآ موزآں دوچشم نا مسلماں را

نا چار شہزادے نے ارادہ کیا کہ پیالہ منہ سے لگائے، گویا و لقدہمت بہ وھم بھا کی پوری روئداد پیش آگئی۔

عشقش خبرز عالم مدہوش آورد اہل صلاح رابقدح نوش آورد

لیکن جونہی اس فسوں ساز نے دیکھا کہ شہزادہ بے بس ہو کر پینے کے لئے آمادہ ہوگیا ہے ۔فوراً پیالہ اس کے لبوں سے کھینچ لیا اور کہا ۔

غرض امتحانِ عشق بودنہ کہ تلخ کامی شما

اس جور دیگر است کہ آزاد عاشقاں چنداں نمے کند کہ بہ آزاد خوکنند

رفتہ رفتہ معاملہ یہاں تک پہنچا کہ شاہجہاں تک خبریں پہنچنے لگیں اور وقائع نویسوں کے فردوں میں بھی اس کی تفصیلات آنے لگیں۔ داراشکوہ نے اس حکایت کو اپنی شکایت و غمازی کا دست مایہ بنایا۔ وہ باپ کو بار بار توجہ دلاتا۔ ’’بینیدایں مزور ریائی چہ صلاح و تقویٰ ساختہ است؟‘‘

ہافیضی نے کیا خوب کہا ہے ؂

چہ دست می بری اسے تیغ عشق گرداداشت ببر زمانِ ملامت گرزلیخارا

نہیں معلوم اس قضیہ کا غنچہ کیونکر گل کرتا لیکن قضا وقدر نے خود ہی فیصلہ کر دیا یعنی عین عروج شباب میں زین آبادی کا انتقال ہوگیا اورنگ آباد کے بڑے تالاب کے کنارے اس کا مقبرہ آج تک موجود ہے۔

اورنگ زیب کے بعد سلطنت کا آفتاب گہن میں آگیا، تمام ملک میں عالمگیری پینٹ اُکھڑ گیا ، شمشیر و سناں طاقِ نسیاں پر چلے گئے اور اُن کی جگہ طاؤس و رباب نے لے لی ، ہر کوئی عیاشیوں میں ڈوبا ہوا تھا ہر کہیں طوائف الملو کی کا دور دورہ تھا۔ ہر کسی کی آنکھ کا پانی مرچکا تھا ، ہرگھر میں وضع داریوں نے دانت نکوس دیئے تھے۔ القصہ تمام ملک لہوو لعب کا ایک عبرت ناک مرقع تھا۔ غلام قادر روہیلہ نے شاہ عالم کی بیٹیوں اور بہوؤں کو ننگے بند ناچنے پر مجبور کیا۔ وہ ناچنے لگیں اور خود خنجر کھول کر بظاہر غافل ہوگیا ، وہ ناچ چکیں تو خنجر اُٹھا یا اور کہا ، غیرت تیمور کے گھر سے واقعی رخصت ہوچکی ہے۔

محمد شاہ نے نادر شاہ درانی کی مدارات کے لئے نوربائی ڈومنی کو گوایا۔ نادرشاہ اس کے نورانی گلے سے بڑا ہی خوش ہوا، انعام دیا ، لیکن ساتھ ہی کہا:

نور بائی روے ہند سیاہ کن ۔ بیاکہ بہ ایرانت بریم

نوربائی کارنگ فق ہوگیا لیکن پھر سنبھل گئی اور یہ غزل گائی ؂

من شمع جانگدازم تو صبح دلربائی سوزم گرت نہ بینم میرم چورُخ نمائی

نزدیکت این چلیم دور آنچناں کہ گفتم نے تاب و صل دارم ، نے طاقت جدائی

نادرشاہ اس برجستہ و برمحل غزل سے بہت محظوظ ہوا اور اپنے ارادہ سے باز رہا ، الغرض ان خوش جمالوں سے بادشاہوں کی تاریخ بھری پڑی ہے اور جن عورتوں کی ہم فاحشہ کہتے ہیں وہ اصلاً ان بادشاہوں ہی کی تنور کی سوختہ ہیں۔

****

ہندوستان کے مسلمان بادشاہوں میں سب سے پہلا چکلہ محمد تغلق نے اپنی راجدھانی دولت آباد کے نزدیک طرب آباد کے نام سے قائم کیا۔ ہر روز عصر کے وقت چکلہ کا چودھری وسطی بُرج میں آبیٹھتا۔ تمام رنڈیاں اور گویے باری باری مجرا بجا لاتے ، پھر جب سورج ڈوب جاتا تو بازار سجتا ، خریدار آتے، اسی میں صبح ہو جاتی ۔ امیرشمس الدین تبریزی سب سے بڑا درباری گویا تھا جس کے ماتحت دربار کی بیسیوں رنڈیوں کے کوٹھوں میں اکثر و بیشتر مکانی قرب رہا ۔تمام چکلے ملک یا صوبے کی راجدھانی کے اُس حصے سے ملحق ہوتے جہاں قلعہ ہوتا یا امرا سلطنت کے محل ، مثلاً شہنشاہ اکبر نے آگرہ میں فتح پور سیکری کے پاس رنڈیوں کے لئے شیطان پورہ آباد کیا تھا۔ دہلی میں چاندنی چوک اور قلعہ معلی سے ملحق چاوڑی بازار تھا۔ لکھنؤ کا چکلہ واجد علی شاہ کی عمارتوں کے نزدیکی راستہ پر ہے۔ خود لاہو ر کو دیکھئے، شاہی قلعہ اور لاہور کے چکلے میں چند ہی قدم کا فاصلہ ہے۔ اب امتدادِ زمانہ سے لاہور کی ہیت کذائی کافی زیر و زبر ہوچکی ہے لیکن شہر کی جغرافیائی بناوت سے اس کے آثاراب بھی مل جاتے ہیں۔ قلعہ کی پیٹھ پر بارو دخانہ تھا اس کے آگے موتی بازار ، نشیبی سمت پر شاہ عالمی دروازہ ، اور دائیں کو مُڑ کے چکلہ جو آج بھی بازار چوک چکلہ کہلاتا ہے۔ چوک چکلہ سے لوہاری دروازہ کو نکل آئیے تو انار نکلی بازار ہے۔ اس فرضی طوائف ہی سے جہانگیر کے عشق کی داستان منسوب کی جاتی ہے۔

قریب نصف صدی پہلے انارکلی میں طوائفیں بیٹھا کرتی تھیں ، لاہور میونسپلٹٰ کی تجویز پر اُن کو اُٹھا دیا گیا اُس وقت سے ہیرا منڈی کا علاقہ ان کے لئے مخصوص ہے۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پرھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید :

کتابیں -اس بازار میں -