اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔ قسط نمبر 6

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔ قسط نمبر 6
اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔ قسط نمبر 6

  

ان لونڈیوں کو امورِ سلطنت میں جو دخل رہا وہ مخفی نہیں ، ان کے کارناموں سے تاریخ بھری پڑی ہے ۔ یزید بن عبدالملک کا عشق حبابہ کے ساتھ رشید بن عبدالملک کا عشق ذات الخال کے ساتھ تاریخی شہرت رکھتا ہے، ہارون الرشید کی ماں خیرزاں خود کنیز تھی ، مقتدر کی ماں بھی کنیز تھی اور ملکی سیاسیات پر ان کا جواثر تھا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔

جہاں کہیں مسلمان بادشاہتوں کے ’’ڈھچر ‘‘ گئے ان کے ساتھ لونڈیوں کا ادارہ بھی گیا ، جب خلافت ملکی حدوں میں بٹتی گئی تو یہ بھی ان کے ساتھ تقسیم ہوتی گئیں۔ خلیفہ عبدالرحمن اندلسی کی کنیزیں خاص شہرت رکھتی تھیں بالخصوص قصرِ لبنا کی کنیزیں جو بڑی ہی نامور تھیں۔

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔ قسط نمبر 5پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

فاطمہ خلیفہ کی خفیہ تحریریں لکھتی اُس کو شعرو انشا میں اتنی دستگاہ تھی کہ کوئی مرد بھی اس کے مرتبہ کو نہ پہنچ سکا۔ خدیجہ نے شعرو غنامیں نام پیدا کیا۔ مریم نے خاندان اشبیلہ کی لڑکیوں کو شعرو انشا کی تعلیم دی ، رقیہ نے شعرو حکایت میں وہ کمال پیدا کیا کہ خلیفہ عبدالرحمن نے اس کو آزاد کر دیا۔ جب عبدالرحمن انتقال کر گیا تو اُس نے مشرق کا سفر کیا ہر جگہ کے علماء نے اُس کی آؤ بھگت کی۔

ان لونڈیوں نے شعرو غنا میں ایجادیں کیں ، انہی کی بدولت اُمرائے سلطنت قتل کئے گئے ۔ مامون الرشید نے علی ابن ہشام سے اس کی ایک خوش جمال کنیز کو طلب کیا ، علی نے انکار کیا مامون الرشید نے برہم ہوکر ابن ہشام کو قتل کروا ڈالا۔

ہارون الرشید نے رات کی تنہائی میں کسی کنیز سے چھیڑ چھاڑ کرنی چاہی تواُس نے صبح پڑ تال دیا۔ صبح ہوئی تو ہارون نے بلوالیا وہ حاضر ہوگئی ۔ہارون نے وعدہ شب یاد دلایا ، کنیز نے کہا۔۔۔۔

کلام الیل یمحوہ النھاو

چراغ حسن حسرت نے اُردو میں ترجمہ کیا ہے۔۔۔

رات کی بات کا مذکور ہی کیا

چھوڑیئے رات گئی بات گئی

ہارون مُسکرا کر نکل گیا ، تمام ملکی شعرا سے کہا کہ وہ اس مصرع پر گرہ لگائیں ابو نواس سب میں بازی لے گیا ، اُس نے تضمین کے مصرعوں میں ہارون الرشید کی دراز دستی کا پورا واقعہ بیان کردیا۔

یہ واقعہ ہے کہ مسلمان فرمانروا نے (اِلّا ماشا اللہ ) جواری کے جواز سے بڑا فائدہ اُٹھایا ہے۔ ان کے محلوں میں سیکڑوں عورتیں اس طرح رہی ہیں جیسے سونے کے قید خانے میں ہوں، ان کی ازدواجی زندگی اصلاً یا معناً اسارقی زندگی سے مختلف نہ تھی ہر شاہی دور اور ہر شاہی محل میں قریب قریب یہی ہوتا رہا ہے۔

میڈم کلی برزلی نے جو ایک ترک وزیر کی اہلیہ تھی ، ایک کتاب لکھی ہے ’’حرم کے تین سال ‘‘ اس میں سلطان عبدالمجید کی حرم کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کی بیگمیں راستہ چلنے والوں کو جھروکوں سے بُلایا کرتی تھیں ، اُن سے متمتع ہوچکتیں تو افشائے راز کے خوف سے مروا دیتیں۔

ایک دفعہ خلیفہ محمد علی کو بیٹی نازلی خانم کے شوہر نے کسی کنیز سے ہاتھ دھلوانے کے لئے کہا ۔ ہاتھ دھو چکا تو کنیز سے کہا’’ بس بس پیاری ! ‘‘یہ سننا تھا کہ نازلی خانم کو تاؤ آگیا اورلونڈی کے قتل کا حکم دے دیا، اس کی کھوپڑی میں چاول بھر کر تنور میں پکوائے ، جب خاوند خاصہ پر بیٹھا تو اُس کے سامنے رکابی رکھ کر کہا ’’ اپنی پیاری کا بھی ایک لقمہ کھا کر دیکھو‘‘ شوہر نے سُنا تو جھڑک اُٹھا اور محل سے نکل گیا۔

مغلوں کا ہندوستان میں ورُود ۔۔۔ ایک مورخ کے الفاظ میں ۔۔۔ اسلام کے دور انحطاط کی یادگار ہے۔ اُن کا اسلام کی بنیادوں سے کچھ گہرا تعلق نہ تھا ، جب انہیں ہندوستان میں سلطنت کا سکول ملا تو اُن کا جسمانی عیش اپنے پیشتروؤں سے منزلوں آگے نکل گیا۔ اُن کے عشرت کدوں کی دھاک بیٹھ گئی ، ان کے گر دو پیش عجمی اور ہندی حُسن ہوگیا ، وہ ذہانت جس سے عربی لونڈیاں کا شہرہ تھا عجمیوں میں بھی سرایت کر گئی ۔ ہمایوں شکست کھا کر ایران پہنچا تو اُس کا غم غلط کرنے کے لئے دارائے ایران نے ایک مجلس نشاط منعقد کی ، تمام گویے مدعو کئے گئے ، ایک مغنیہ نے غزل چھیڑی:۔

ہمایوں منزلے کاں خانہ راما ہے چنیں باشند

مارک کشورے کاں عرصہ راشا ہے جنیں باشند

زرنج وراحت گیتی مشوخنداں ‘ مربخاں دل

کہ آمین جہاں گا ہے چناں گاہے جنیں باشند

ہمایوں کا دل بھر آیا اور اُس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ، شاہ نے دیکھا تو مغنیہ کو مجلس سے اُٹھوا دیا لیکن اس برجستہ ذہانت کی تحسین کئے بغیر نہ رہ سکا ‘ جب ہمایوں نے دہلی کو دوبارہ فتح کیا تو اس مغنیہ کو بُلا بھیجا، پتہ چلا کہ وہ انتقال کر چکی ہے ‘ شہنشاہ اکبر کی داستان ہائے نشاط سے تاریخ بھری پڑی ہے ، وہ پہلا بادشاہ تھا جس نے مینا بازار لگوایا ‘ مینا بازار کا تصور ترکستان سے مستعار تھا۔ ہر مہینے کی تیسری تاریخ کو قلعہ معلی میں بازار لگتا ۔ اس کو خوش روز بھی کہتے تھے ۔ تمام اہتمام اُمرائے سلطنت کی عورتوں کے سپرد ہوتا۔ خواجہ سرا ، قلماقنیاں اور اُردبیگنیاں ادھر اُدھر گھوڑے دوڑائے پھرتیں ، مالنیں چمن آرائی کرتیں ، جہانگیر نے بزمانہ شہزاد گی مینا بازار ہی میں نواب زین خاں بہادر کی بیٹی صاحب جمال کو دل دیا تھا ۔مینا بازار کے انگوری پارک سے گزر رہا تھا ، ایک خادمہ نے عرض کیا ’’ صاحب عالم ! آپ کو بادشاہ سلامت یاد فرماتے ہیں‘‘ شہزادے کے ہاتھ میں کبوتروں کا جوڑا تھا ، صاحب جمال سامنے سے آہی تھیں ، اس سے کہا ’’لو ذرا ہمارے کبوتر تھامنا ، ہم ابھی آتے ہیں ‘‘ واپس آئے تو صاحب جمال کے ہاتھ میں ایک ہی کبوتر تھا ، پوچھا:

’’دوسرے کبوتر کوکیا ہوا ؟‘‘

’’صاحب عالم وہ تو اُڑ گیا ۔‘‘

’’کیسے؟‘‘

صاحب جمال نے دوسرا کبوتر بھی چھوڑ دیا اور کہا ۔

صاحب عالم ۔۔ ’’یوں ۔‘‘

اس ’’یوں ‘‘ پر جہانگیر لٹو ہوگیا بالآخر صاحب جمال اس کے عقد میں آگئی ۔ لاہور کے سیکریٹریٹ میں انار کلی کا جو مقبرہ ہے وہ دراصل اسی صاحب جمال کا ہے بعض افسانہ نگاروں نے کبوتر کے واقعہ کو نور جہاں سے منسوب کیا ہے جو غلط ہے ، اسی طرح انار کلی کا تمام واقعہ بھی فرضی ہے۔

ایک روز جہانگیز کسی ایرانی شہزادے سے اس شرط پر شطرنج کھیل رہا تھا کہ جو ہارے کنیز دے۔ اتفاق سے جہانگیز ہار گیا، تمام کنیزیں اکٹھی کی گئیں ، سب حُسن وجمال میں ایک دوسرے پر فائق تھیں ۔ جہان نام کی ایک کنیز کو بڑے تردد کے بعد چُن لیا گیا۔ جہان کو بچھڑناگوارا نہ تھا۔ عرض کیا:

تو بادشادہ جہانی جہاں زدست مدہ کہ بادشاہ جہاں را جہاں بکار آید

بادشاہ رُک گیا ۔ حیات نام کی ایک دوسری لونڈی کو منتخب کیا تو اُس نے ارتجالاً عرض کیا:

جہاں خوش است و لیکن حیات می باید اگر حیات نہ باشد جہاں چہ کار آید

جہانگیر نے ایک تیسری کنیز دلآرام کو تجویز کیا وہ خود شطرنج کی ماہرہ تھی۔ عرض کی، صاحب عالم مجھے ایک دفعہ بساط کیا دیجئے پھر کوئی فیصلہ فرمائیے گا ۔ درخواست منظور کر لی گئی ۔ دلآرام نے غور کیا اور شاہ سے کہا

شاہا دروزخ بدہ و دل آرام رامدہ

پیل و پیادہ پیش کُن واسپ کشت مات

جہانگیر بازی جیت گیا۔ دل آرام کو اعزاز و انعام سے نوازا۔ آج تک یہ شعر شائستہ کھلاڑیوں کے نوکِ زبان ہے۔

جہانگیر کی ایک بیوی راجہ اودے سنگھ کی بیٹی مان متی تھی۔ شاہجہان اسی کے پیٹ سے تھا۔ تمام محل میں مان متی کے گانے کا شہرہ تھا جہانگیز خود موسیقی کی نوک پلک سے واقف تھا اور اُس نے اپنی بہت سے خو اصوں کو موسیقی کی تعلیم و تربیت کے لئے اسی کے سپرد کر رکھا تھا۔ اسی زمانے میں بزرگی کشمیری نام کی ایک طوائف کا بڑا نام تھا ، ایک دن اُس کی صحبت میں بہت سے اہلِ عجم بیٹھے تھے کہ ایک عرب بھی جا پہنچا۔ عجمیوں کو شرارت سُوجھی اور یہ رُباعی لکھ کر اُس کے پاس بھیج دی۔

اے شیوہ کفرودیں بہم ساختہ غم رابو جود عجم ساختہ

آثار بزرگی ست ازجنبیت پیدا گہ باعرب و گہ باعجم ساختہ

بزرگی میں بھی شعر کا ملکہ تھا جواب میں لکھا ،

روزے کی نہادیم دریں دہر قدم را

گفتیم صلائیست عرب راوعجم را

’’گفتیم صلائیست عرب و اوعجم را ‘‘ پر غور کیجئے ، ایک طوائف کا کاروباری سیرت بہ تمام و کمال نظر آئے گی۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید :

کتابیں -اس بازار میں -