اے پی سی دسمبر میں آخری لانگ مارچ کا اعلان کریگی،میاں افتخار

اے پی سی دسمبر میں آخری لانگ مارچ کا اعلان کریگی،میاں افتخار

  

پبی (نما ئندہ پاکستان)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکریٹری اور رہبر کمیٹی کے رکن میاں افتخار حسین نی کہا ہے کہ اپوزیشن عید کے بعدمولانا فضل الرحمن کی قیادت میں آل پارٹی کانفرنس میں حکومت کے خلاف دسمبرکے آکر میں لانگ مارچ کا اعلان کریگی۔ اور لانگ مارچ کھٹ پتلی حکومت کے خاتمے تک جاری رہیگی۔نئے  اور آزادانہ انتخابات کا مطالبہ کیا جائیگا۔سفارتی سطح پر پاکستان کشمیر کے معاملے پر تنہا رہ گیا ہے۔مہنگائی اور کشمیر میں ہونے والے ظلم کے خاتمے کے لئے اس حکومت کا خاتمہ لازمی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ میاں افتخار حسین نے کہا عیدالاضحی کے بعد مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں آل پارٹی کانفرنس پلائی جائیگی۔ جس میں حکومت کے خلاف لانگ مارچ کو حتمی شکل دی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ اپوزیشن جماعتوں کا آخری آپشن ہوگا جو حکومت کے خاتمے تک جاری رہیگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت احتساب کے نام پر سیاسی انتقام لے رہی ہے۔ عید سے قبل مریم نواز اور فریال تالپور کوگرفتا ر کرنا اور نیب کا سیاسی انتقامی  احتساب کا آغاز کرنا۔اور اب تو ایسا لگتا ہے نیب نے جتنے افراد کو گرفتار کرنا تھا کرلیا۔اب نیب کیا کریگا۔اس سے تو بہتر ہے کہ حکومت اب پورے ملک کو جیل بناکر تمام عوام کو مجرم ٹھہرا کر اس میں قید کرلیں۔میڈیا پر پابندی ہے۔ اندازہ اس بات سے کریں کہ بارش اور طوفان سے پورے ملک میں عوام جان بحق ہوگئے مگر میڈیا پر صرف سندھ کے سیلاب کا واویلا مچایا جارہا ہے۔کہ سندھ کی حکومت ناکام ہے۔کیوں کہ وہاں اپوزیشن کی حکومت ہے۔کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لئے پارلیمنٹ سے تمام سیاسی جماعتوں کے ممبران پر مشتمل وفد تشکیل دی جائے۔ اور وہ تمام دنیا میں کشمیر کا مسئلہ اجاگر کریں۔ عالمی سطح پراقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور دوست ممالک کے تعاون سے مودی سرکار پریشر ڈالنا چاہئے۔ عدالتوں سے عوام مطمئن نہیں ہے۔ آج اس ملک پر عمران خان کی شکل میں مارشل لاء ہے۔ 14اگست کی آزادی اس لئے ملی تھی کہ سیاسی رہنماؤں کو جیل میں ڈالا جائے۔12 اگست کو سانحہ بابڑہ کی یاد میں ہم نے عید نہیں منائی۔ ہم اس دن عید منائیں گے جب ہمیں حقیقی آزادی ملے گی۔ کونسا لیڈر جو آپ نے گرفتار نہیں کیا کونسا لیڈر ہے جس کو آپ نے نیب کا سوالنامہ نہیں دکھا یا۔ اتنی ڈرپوک حکومت پاکستان کی تاریخ میں ہم نے نہیں دیکھی۔ اپنے سایے سے بھی ڈرتی ہے۔کیونکہ حکومت کی اندرونی اور بیرونی تمام پالیسیاں ناکام ہیں۔  آئی ایم ایف سے معاہدہ کرکے قوم کو بیچ دیا گیا۔مہنگائی اور کشمیر مسئلے سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے حکومت اپوزیشن لیڈروں کو گرفتار کر رہی ہیں۔ میں میڈیا کے ذریعے حکومت کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ایک حقیقی عید اس ملک میں آنے والی ہے۔جو لوگ بھی ظلم کر رہے ہیں ظلم کا خاتمہ ہوگا۔جو لوگ آج اپوزیشن کو سیاسی انتقام میں جیلوں میں ڈال رہے ہیں۔ تو جب آپ کی باری آئیگی جو ایک دن بھی جیل برداشت نہیں کرسکتے تو پھر آپکا کیا ہوگا۔ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے پاکستان کا وفادار دوست چین بھی ناراض کردیا۔ کیونکہ امریکہ سی پیک کے حق میں نہیں۔ سی پیک کو امریکہ کے کہنے پر کام روکا۔جس پر چین ناراض ہے۔ مودی نے خاموش سفارتکاری کرتے ہوئے امریکہ کو اعتماد میں لیا۔انہوں نے چین کو اعتماد میں لیا۔ لداخ پر چین بھارت کے خلاف ہے مگر کشمیر کے معاملے پر نہیں۔ پاکستان ساری دنیا میں تنہا ہوکر رہ گیا ہے۔ پاکستان کی بقا کے لئے ہر محاذ پر لڑنے کے لئے تیار ہیں۔جس طرح کشمیر کی جانب پاکستان کے لئے امن چاہئیے۔ اس طرح افغانستان کا امن بھی پاکستان کے لئے ضروری ہے۔ ہم ہر گز اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ افغانستان میں دوبارہ جنگ جاری ہو۔افغانستان میں امن نہیں ہوگا تو پاکستان میں بھی امن نہیں ہوگا۔ کشمیر میں جنگ پر اگر ہمیں دکھ ہوتا ہے تو افغانستان میں جنگ پر بھی ہمیں دکھ ہوتا ہے۔ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کشمیر کا مسئلہ حالت نزع کو پہنچ چکا ہے۔وہ نزع ختم ہو جائیگا۔ افغانستان میں امن مسئلے کو ہر صورت میں کامیاب بنانا ہوگا۔اگر ایسا نہیں ہوا تو پاکستان کی مشکلات بڑھے گی اور اس کی ذمہ دار موجودہ اسٹیبلشمنٹ اور کھٹ پتلی حکومت ہوگی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -