ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 38

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 38
ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 38

  

 سچ کی تلاش

جیساکہ عرض کیا کہ میری رہائش عبد الشکور صاحب کے ساتھ رہی۔ان کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں تھیں ۔ان کی اہلیہ کا بھی ماشاء اللہ دینی ذوق تھا۔عبدالشکور صاحب نے پردے کے حوالے سے ان کا نقطہ نظر میرے سامنے رکھا تو میں نے عرض کیا کہ ہمارا کام یہ نہیں ہے کہ جوخواتین چہرہ کا پردہ کرتی ہیں یا کرنا چاہتی ہیں ، ان کا پردہ اتروائیں ۔میں نے انھیں بتایا کہ میری اہلیہ خود چہرے کا پردہ کرتی اور برقعہ پہن کر باہر نکلتی ہیں ۔

پردہ دیگر فقہی مسائل کی طرح ایک فقہی مسئلہ ہے جس پر اہل علم کی الگ الگ آراء اول دن سے رہی ہیں اور آج تک ہیں ۔ کچھ لوگ اسے لازمی قرار دیتے ہیں اور کچھ کے نزدیک اس حکم کا تعلق عام خواتین سے نہیں بلکہ صرف ازواج مطہرات سے تھا۔میں اپنے ذوق کے لحاظ سے ایک قدامت پسند شخص ہوں ، اس لیے ذاتی رجحان پہلی رائے کی طرف ہے ۔ مگر جب میں دین سمجھتا ہوں تو کبھی ذوق اور رجحان کو بیچ میں نہیں آنے دیتا۔ ایسا کرنا ایک جرم ہے ۔اس لیے قرآن و حدیث کے واضح دلائل کی روشنی میں دوسری رائے ہی کو درست سمجھتا ہوں ۔

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 37  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

تاہم اصل بات یہ ہے کہ جو شخص جس رائے کو درست سمجھتا ہے اس پر عمل کر لے ۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ چیز ثانوی ہے کہ کس نے کیا عمل کیا۔ زیادہ اہم بات جس پر اصل سوال ہو گا وہ یہ ہے کہ اپنے تعصبات اور ذاتی پسند و ناپسند سے بلند ہوکر سچ بات کو دیانت داری سے تلاش کرنے کی کوشش کی تھی یا نہیں ۔پھر اس کے بعد اگلاسوال یہ ہو گا کہ جس بات کو دیانت داری سے درست سمجھا تھا ا س پر عمل کیا یا نہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے پہلی چیز میں نے کم ہی کسی مذہبی آدمی یا عورت کا مسئلہ بنتے ہوئے دیکھی ہے ۔ لوگ اپنے تعصبات کے مطابق زندگی گزارتے ہیں ۔ انھیں سچ سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ اس کے بعد کوئی شخص بڑ ے سے بڑ ا عمل لے کر بھی اللہ کے حضور پہنچ جائے اللہ تعالیٰ یہ عمل اس کے منہ پر کھینچ کر ماریں گے ۔ اس لیے کہ یہ عمل اللہ کے لیے نہیں کیا گیا۔ بلکہ اپنے تعصبات کے تحت کیا گیا ہے ۔ اپنے تعصبات کے تحت تو لوگ یہودی بھی ہوتے ہیں اور عیسائی بھی۔ بتوں کو بھینٹ بھی چڑ ھاتے ہیں ۔صیہونیت کے اور مسیحی مشنری کام بھی کرتے ہیں ۔ ان تعصبات کی خدا کے ہاں کوئی وقعت نہیں ۔ خدا کو وہ لوگ چاہئیں جن کی دلچسپی حق میں ہو۔ حق کی تلاش ان کا مسئلہ ہو۔ اور پھر حق کے سامنے ان کا سرجھک جائے ۔

سردی کا حملہ 

عبدالشکور صاحب نے اپنے گھر میں بہت خیال سے رکھا۔ ان کے گھر میں رہتے ہوئے اجنبیت کا احساس نہیں ہوا۔گرچہ سردی کا احساس ہوا۔مگر اس کی وجہ بھی میری غلطی تھی۔ مجھے عبدالشکور صاحب نے اپنی اہلیہ کی اس نصیحت سے مطلع کیا کہ مجھے ایک اور کمبل لے لینا چاہیے ۔ مگر میں نے اس پیشکش کو قبول کرنا ضروری نہیں سمجھا۔کیونکہ رات کو سوتے وقت زیادہ ٹھنڈ نہ تھی۔مگر ملبورن میں موسم مستقل ابرآلود رہتا تھا اور تیز ہوا چلتی رہتی تھی۔نتیجتاً رات کو ٹھنڈ بڑ ھ گئی اور ٹھنڈ کی وجہ سے میں صبح تین بجے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس سے قبل بھی میری نیند پوری نہیں ہورہی تھی۔مجھے محسوس ہواکہ مجھے ٹھنڈ لگ چکی ہے ۔ اللہ نے کرم کیا کہ صبح ناشتے پر جو دعوت تھی اس میں ایک خاتون ڈاکٹر موجودتھیں ۔انھوں نے اپنی گفتگو سے مجھے مطمئن کر دیا کہ کوئی خاص مسئلہ نہیں ہے ۔عام پیراسٹامول سے ٹھیک ہوجائے گا۔ میرے خیال میں ڈاکٹر کو ایسا ہی ہونا چاہیے ۔ شفا تو اللہ ہی دیتا ہے ۔ ڈاکٹر کو لوگوں کو اطمینان دلانا چاہیے ۔ ان لوگوں نے مجھے آرام کے لیے ایک کمرے میں لٹادیا ۔میرے معدے نے بھی شاید اس وقت تک کام کرنا چھوڑ دیا تھا ۔ کیونکہ طاہر صاحب کی ایک اور پرتکلف دعوت اور متعدد ڈشوں میں سے کچھ کھانے کا دل نہیں چاہا۔ دوپہر میں جمعہ کے بعد پھر باربی کیو تھا۔ وہاں بھی کسی چیز کا دل نہیں چاہا۔

طاقتور انسان کمزور انسان اور خدا

اس پورے سفر میں نیندکا پورا نہ ہونا، مسلسل سفر، بے آرامی، کھانے پینے کی بے ترتیبی اور سردی جیسی چیزوں نے مجھے ڈسٹرب رکھا۔ لیکن اللہ کی یہ بڑ ی عنایت رہی کہ میں بیمار نہیں پڑ ا۔ کوئی پروگرام کینسل نہیں ہوا۔ بلکہ میں نے اسی حال میں بہت سارا ٹورازم بھی کر لیا۔ جس کی روداد آپ جگہ جگہ اس سفرنامے میں پڑ ھیں گے ۔

برسبین کے سفر میں جب ڈاکٹر ذوالفقار صاحب میرے ساتھ تھے تو ان سے یہ بات زیر بحث آئی۔میں نے ان سے عرض کیا کہ میں روٹین کی زندگی کا عادی ہوں اور روٹین بگڑ ے تو مجھے مشقت ہوجاتی ہے ۔ یہ بلاشبہ ایک کمزوری ہے ۔

تاہم مجھے اس کمزوری سے ہمیشہ ایک فائدہ ہوتا ہے ۔ فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ایک عاجز اور کمزور انسان کے لیے یہ بڑ ا آسان ہوتا ہے کہ وہ خدا کے مقابلے میں اپنے عجز کو دریافت کرے ۔ جبکہ ایک طاقت ور انسان کے لیے یہ ایک مشکل کام ہوتا ہے ۔ جبکہ حقیقت میں خدا کے سامنے ایک طاقتور شخص بھی اتنا ہی کمزور ہے جتنا ایک کمزور آدمی۔ مگرایک طاقتور شخص ہر چیز کا کریڈٹ اپنے آپ کو دینے کا عادی ہوجاتا ہے ۔جبکہ ایک کمزور انسان جب اپنے عجز کو دریافت کر کے خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو جواب میں خدا بھی متوجہ ہوجاتا ہے ۔ جب خدا متوجہ ہوجائے تو پھر معجزے وجود میں آتے ہیں ۔ 

 (جاری ہے)

مزید :

سیرناتمام -