سانحہ پی آئی سی لیکن دراصل اس ہنگامے سے قبل پولیس نے مقدمہ درج ہونے کے باوجود ڈاکٹروں کو گرفتار کیوں نہ کیا؟ ممکنہ وجوہات سامنے آگئیں

سانحہ پی آئی سی لیکن دراصل اس ہنگامے سے قبل پولیس نے مقدمہ درج ہونے کے ...
سانحہ پی آئی سی لیکن دراصل اس ہنگامے سے قبل پولیس نے مقدمہ درج ہونے کے باوجود ڈاکٹروں کو گرفتار کیوں نہ کیا؟ ممکنہ وجوہات سامنے آگئیں

  



لاہور (ویب ڈیسک) صوبائی دارلحکومت میں واقع دل کے ہسپتال ’’ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی‘‘ میں ہنگامہ آرائی کے بعد سے تمام سروسز تاحال معمول پر نہ آسکیں، لیکن اس سانحے سے قبل مقدمہ درج ہونے کے باوجود پولیس نے ڈاکٹروں کو حراست میں کیوں نہ لیا تھا ؟ اب سینئر صحافی دو ممکنہ وجوہات سامنے لے آئے ہیں۔ 

روزنامہ پاکستان میں کالم نویس نسیم شاہد نے لکھا کہ ’ خوشی ہوئی کہ وکلاء کی سینئر قیادت پھول لے کر پی آئی سی گئی۔ کاش یہ کام بہت پہلے کیا گیا ہوتا۔ اس وقت جب لاوا پک رہا تھا اور نظر آ رہا تھا کہ پانی نہ ڈالا گیا تو بہت کچھ جل جائے گا…… مَیں نے کل ایک وکیل رہنما سے کہا کہ جب پنجاب کارڈیالوجی میں چند ڈاکٹروں نے دو تین وکلاء پر تشدد کیا تھا تو وکلاء قیادت اگر اس موقع سے فائدہ اٹھاتی اور دل بڑا کرکے ڈاکٹروں کو معاف کر دیتی تو وکیلوں پر لگنے والے کئی داغ دھل جاتے…… مگر ایسا نہ کیا گیا اور انتقام کی آگ بھڑکائی گئی۔ آج یہ عالم ہے کہ کہیں سے بھی اس واقعہ میں ملوث وکیلوں کو حمایت نہیں مل رہی، ہر طرف سے مذمت اور لعن طعن کا سلسلہ جاری ہے۔ عام طور پر وکیلوں کے ہر عمل کو عدلیہ کی سپورٹ ملتی رہی ہے، مگر اس بار ”جرم“ اس قدر سنگین ہے کہ کوئی بھی ریلیف دے کر قوم کے غیض و غضب کو آواز نہیں دینا چاہتا۔ اب بھی عمومی مطالبہ یہی ہے کہ معاملے کو معافی تلافی یا صلح صفائی پر نمٹانے کی بجائے قانون کی بنیاد پر نمٹایا جائے۔ جنہوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا ہے، معصوم جانوں کے ضیاع کا باعث بنے ہیں، ایک سرکاری ہسپتال میں توڑ پھوڑ کر کے کروڑوں روپے کا نقصان کیا ہے، انہیں قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ ایک اچھی مثال قائم ہو سکے۔

لاہور کا واقعہ ایک مرتبہ پھر اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کر گیا ہے کہ ہماری حکومتیں، ہمارے نجی ادارے، تنظیمیں اور سرکاری ایجنسیاں، معاملے کی سنگینی کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں اور اسے رائی سے پہاڑ بننے دیتے ہیں، جب وہ پہاڑ بن جاتا ہے تو بے بسی کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ عجب ماجرا ہے کہ کسی واقعہ پر کئی کئی دن ہڑتالیں ہوتی ہیں، سڑکیں بند رہتی ہیں، حالات خرابی کی طرف جاتے ہیں، لیکن تدارک کرنے والے لمبی تان کر سوئے رہتے ہیں، شاید وہ اس بات کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں کہ انہیں بآسانی متوجہ نہیں کیا جا سکتا۔ اب اس واقعہ کو ہی لیجئے، جو بعد ازاں پی آئی سی کی تباہی کا باعث بنا۔ دو تین وکلاء کسی سلسلے میں پنجاب کارڈیالوجی ہسپتال گئے،اس دوران ان کی ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر سے توتکار ہو گئی، بات مار کٹائی تک پہنچ گئی۔ اس کی خبر وکلاء برادری کو ملی تو فوری ردعمل میں ہڑتال کر دی گئی اور سڑک بند کر کے مقدمے کا اندراج کرکے ڈاکٹروں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔

آئی جی نے وکلاء کے دباؤ پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ تو درج کر لیا، مگر ڈاکٹروں کی گرفتاری عمل میں نہ لائی گئی۔ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں …… پولیس نہیں چاہتی تھی کہ ڈاکٹروں کو گرفتار کرے اور وہ پنجاب کارڈیالوجی ہسپتال کو بند کر دیں۔ دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اگر ڈاکٹروں کو گرفتار کیا جاتا تو لازماً ریمانڈ کے لئے کچہری لے جایا جاتا، جہاں وکلاء کی طرف سے ردعمل اور تشدد کا خطرہ تھا۔ سو اس معاملے کو ٹالا جاتا رہا۔ اب چاہئے تو یہ تھا کہ حکومت فوری طور پر درمیان میں آتی اور اعلیٰ سطحی رابطوں کے ذریعے ڈاکٹروں اور وکلاء کے درمیان اس تنازعے کو حل کراتی، تاکہ حالات نارمل ہو جاتے، مگر اس کی بجائے مجرمانہ غفلت برتی گئی اور صورت حال کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔

اگر وزیر صحت اور وزیر قانون ابتدا ہی میں وکلاء اور ڈاکٹروں کے نمائندوں سے مل کر معاملے کوختم کرانے کی کوشش کرتے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ معاملہ ختم نہ ہو جاتا۔ اب جو اتنے بڑے نقصان سے دو چار ہونا پڑا ہے اور پوری حکومتی مشینری صفائیاں دیتی پھر رہی ہے، پہلے ہی کوئی قدم اٹھا لیا جاتا تو کیا حرج تھا……پھر خود وکلاء اور سینئر ڈاکٹر اس سارے معاملے سے لاتعلق کیوں رہے؟ یہ عام لڑائی تو تھی نہیں، اس میں پنجاب کا سب سے حساس ہسپتال درمیان میں تھا اور بار بار یہ کہا جا رہا تھا کہ اگر ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو انہیں ہسپتال میں گھس کر ماریں گے۔ لاہور ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں روزانہ دھرنے اور احتجاج ہو رہے تھے۔ سینئر قیادت کہاں تھی، یا صرف سیاسی فائدے کے لئے چپ سادھ کر بیٹھی ہوئی تھی۔ آج جو سینئر لوگ پھولوں کے گلدستے لے کر اشک شوئی کے لئے جا رہے ہیں، پہلے جاتے تو ان کا اخلاقی قد کہیں بڑا ہوتا، کیونکہ وہ صلح صفائی کا پیغام لے کر جاتے۔

بیشک ڈاکٹروں کی غفلت اور لاپرواہی بھی کچھ کم نہیں، وہ ینگ ڈاکٹروں کے ہاتھوں نجانے کس وجہ سے یرغمال بنے ہوئے ہیں؟ یہ سب ینگ ڈاکٹر ان کے شاگرد ہیں، یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ ان پر دباؤ ڈالیں اور وہ ان کی بات نہ مانیں۔ایک سینئر ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ ینگ ڈاکٹروں کی طاقت کو سینئر ڈاکٹر اپنے لئے استعمال کرتے ہیں تاکہ حکومت اگر انہیں وقت کا پابند کرنا چاہے تو دباؤ ڈلوا سکیں۔ گویا ہر طرف مفادات کی دوڑ لگی ہوئی ہے، جو ہر ایک کو مصلحت کا شکار کر کے کمزور فیصلے کراتی ہے۔ آج سفید اور کالے کوٹ والوں کی اس لڑائی پر دنیا ہنس رہی ہے۔ دنیا بھر میں تمام پیشوں میں معزز اور معتبر پیشے کہلوانے والے پاکستان میں بے حسی اور ظلم کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ پڑھے لکھے طبقوں کے بارے میں مثبت تاثر کو حرف غلط ثابت کر رہے ہیں، جس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔

ہسپتال اور کچہریاں کسی طبقے کی جاگیر نہیں ہیں۔ یہ قومی ادارے ہیں اور ان پر سب سے پہلا حق عوام کا ہے۔ بدقسمتی سے ڈاکٹر بھرتی ہونے والے اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ وہ اب ہسپتال کے سیاہ و سفید پر حق رکھتے ہیں۔ وہ ذرا ذرا سی بات پر ہسپتال کو تالے لگا دیتے ہیں، گیٹ بند کر دیتے ہیں، مریضوں کو بے یارو مدد گار چھوڑ دیتے ہیں، کوئی اونچی آواز سے پوچھ لے کہ بھائی یہ تم کیسے کر سکتے ہو تو اس کو پھینٹی لگا دیتے ہیں۔یہ سب کرتے ہوئے وہ اپنے حلف، اپنے فرض اور اپنی ذمہ داریوں کو یکسر بھول جاتے ہیں۔ یہی حال وکلاء کا ہے۔

کسی ایک وکیل کے خلاف کوئی ٹریفک کانسٹیبل، کوئی ڈاکٹر، کوئی دکاندار یا کوئی راہ چلتا شخص زیادتی کرے تو سب سے پہلے بار ایسوسی ایشن کچہری کو بند کرنے کا حکم جاری کرتی ہے، عدالتوں کا بائیکاٹ کر دیا جاتا ہے، مقدمات کی سماعت کو زبردستی رکوا کر مطالبات داغے جاتے ہیں۔ ایسے میں سائل اور مریض بے چارے کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا، جو علاج یا انصاف کے لئے نجانے کہاں کہاں سے دھکے کھا کر ہسپتال یا کچہری پہنچا ہوتا ہے۔ ڈاکٹروں کو تو بالکل بھی اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ ہڑتال کی وجہ سے کسی کی جان جا سکتی ہے، اور جان چلی گئی تو اربوں روپے سے بھی اس کی تلافی ممکن نہیں ہے۔وکیلوں کے احتجاج سے گزر جانے والی پیشی تو دوبارہ بھی ہو سکتی ہے، مگر ڈاکٹروں کی ہڑتال سے ہونے والا نقصان کسی صورت میں بھی پورا نہیں ہو سکتا۔ کاش کوئی اس پہلو پر بھی غور کرے۔

پی آئی سی لاہور کا واقعہ اتنا معمولی نہیں کہ اس پر مصلحتوں کی مٹی ڈال کر اسے دبا دیا جائے…… اسے ہر لحاظ سے ایک ٹیسٹ کیس بننا چاہئے۔ قانون نے جو راستہ اختیار کیا ہے، اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے، کسی سے کوئی رو رعایت نہ کی جائے۔ سرکاری ہسپتالوں میں مادر پدر آزاد ایسوسی ایشنوں پر پابندی لگا کر اس ملازمت کو لازمی سروسز میں شمار کیا جائے۔ جہاں ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو سیکیورٹی فراہم کی جائے، وہاں مریضوں کے لواحقین کو بھی ڈاکٹروں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔ ڈاکٹر اگر کسی کو تشدد کا نشانہ بنائیں تو اس پر قانون حرکت میں آئے۔

اُدھر وکلاء تنظیمیں اپنے نوجوان وکلاء کی تربیت کا اہتمام کریں۔ اس جانب چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ بھی توجہ دلا چکے ہیں۔ معمولی باتوں پر بچوں کی طرح لڑنے کی بجائے صبر و تحمل اور قانون کے دائرے میں رہ کر ردعمل کا اظہار کرنے کی بنیاد ڈالی جائے۔ یہ سب کچھ حکومتی مداخلت اور عزم کے بغیر ممکن نہیں، اگر حکومت اسے ایک وقتی ابال سمجھ کر در گزر سے کام لیتی ہے اور اس سے حاصل ہونے والے سبق کو بھلا دیتی ہے تو پھر اس بات کی ضمانت کوئی نہیں دے سکتا کہ مستقبل میں ایسا کوئی دوسرا واقعہ رونما نہ ہو‘‘۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور