"کوئی بھی جعلی لائسنس جاری نہیں کیا گیا"پوری دنیا میں پاکستان کامنہ کالا کروانے کے بعد سول ایوی ایشن کااعلان

"کوئی بھی جعلی لائسنس جاری نہیں کیا گیا"پوری دنیا میں پاکستان کامنہ کالا ...

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) دنیا بھرمیں پاکستان کے لیے ہزیمت کا باعث بننے والی پاکستان سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ کسی بھی پائلٹ کو کوئی بھی جعلی لائسنس جاری نہیں ہوا۔

Mubarak Saleh Al Gheilani, the acting DG of Civil Aviation Regulation, Muscat, Sultanate of Oman,

پاکستان سول ایوی ایشن نے مسقط  میں سول ایوی ایشن ریگولیشن کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل مبارک الصالح الگیلانی کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ احتساب اور اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا حکومت کی اولین ترجیح ہے کہ مسافروں اور فضائی آپریشن کو محفوظ بنایا جائے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا ویژن ہے کہ ملک میں شفافیت ، میرٹ اور صلاحیت کو تمام معاشی شعبوں میں یقینی بنایا جائے، جب سے انہوں نے عہدہ سنبھالا ہے انہوں نے دیگر تمام شعبوں میں اصلاحات کے ساتھ ایوی ایشن سیکٹر میں بھی بہتری کے احکامات جاری کیے تھے۔

خط کے مطابق یہ اقدامات فضائی سفر کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔ جیسے ہی کچھ لوگوں کی ڈگری اور لائسنس کے حوالے سے تحفظات سامنے آئے وفاقی حکومت نے بروقت ایکشن لیا اور تمام پائلٹس اور دیگر عملے کی ڈگریوں اور لائسنس کی فرانزک جانچ پڑتال کا حکم دیا۔

 اس سارے عمل کے دوران انکشاف ہوا کہ لائسنس کے حصول کے لیے لازم ایک کمپیوٹرائزڈ امتحان کے دوران کچھ لوگوں نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی۔ جیسے ہی یہ معلوم ہوا حکومت نے لائسنس کے حصول کے عمل کی مکمل تحقیقات کا عمل شروع کردیا جب کہ مکمل کلیئرنس ملنے تک ان لوگوں کو مشتبہ قراردیا گیا۔

تحقیقات مکمل ہونے تک ان پائلٹس کو گراؤند کردیا گیااور ان سے وضاحت مانگی گئی کہ وہ اپنی پوزیشن کلیئر کریں۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ یہ تمام اقدامات فضائی سفر کی دنیا بھرمیں حفاظت یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ سول ایوی ایشن کی جانب سے جاری کردہ تمام  سی پی ایل ، اے ٹی پی ایل پائلٹ لائسنس اصلی اور قواعد کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری کیے گئے ہیں۔ کسی ایک بھی پائلٹ کا لائسنس جعلی نہیں ہے۔ اس معاملے کو میڈیا اور سوشل میڈیا پر غلط انداز میں پیش کیاگیا۔

پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی ایک سو چار میں سے پہلے ہی چھیانوے پاکستانی پائلٹس کی تحقیقات مکمل کرکے انہیں کلیئر قرار دے چکی ہے یہ تمام پائلٹس یو اے ای ، جی اے سی ، ویتنام اور دیگر ممالک میں فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

مزید :

قومی -