حیدر آباد فنڈز کیس میں برطانوی عدالت پاکستان کے حق میں فیصلہ سنا چکی: ترجمان دفتر خارجہ

حیدر آباد فنڈز کیس میں برطانوی عدالت پاکستان کے حق میں فیصلہ سنا چکی: ترجمان ...
حیدر آباد فنڈز کیس میں برطانوی عدالت پاکستان کے حق میں فیصلہ سنا چکی: ترجمان دفتر خارجہ

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہا ہے کہ برطانوی عدالت حیدر آباد فنڈز کیس میں پاکستان کے حق میں فیصلہ محفوظ کرچکی ہے ، جب یہ فیصلہ سنایا جائے گا تو پاکستان کو تقسیم ہند کے وقت بھارت کی جانب سے دبائے جانے والے فنڈز کا ایک حصہ مل جائے گا۔

پاکستان ٹوڈے کے مطابق ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ برطانوی عدالت میں زیر سماعت حید رآباد فنڈز کیس میں برطانوی عدالت بھارت کا یہ دعویٰ مسترد کر چکی ہے کہ اس نے 1948 میں ریاست حیدرآباد کے فنڈز پاکستان کے برطانیہ میں موجود ہائی کمشن میں منتقل کردیے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ برطانوی جج نے اس معاملے پر فیصلہ جاری کردیا ہے جبکہ جج نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اس مقدمے میں پاکستان اپنے تمام دلائل کے بل بوتے پر کیس جیت چکا ہے تاہم یہ فیصلہ آخری سماعت تک محفوظ کیا جا چکا ہے۔اگر پاکستان یہ کیس مکمل طور پر جیت جاتا ہے تو اسے تقسیم ہند کے وقت ریاست حیدر آباد کی جانب سے دیے جانے والے فنڈز مل جائیں گے اور یہ ان فنڈز کا صرف ایک حصہ ہوگا جو تقسیم کے وقت بھارت نے دبا لیے تھے۔

ضرور پڑھیں: ایک اورکاوش!!!

رمضان المبارک میں25کشمیر ی شہید ہوئے، مسئلہ کشمیرکے حل کے لئے روسی صدر کی پیش کش کا خیر مقدم کرتے ہیں: نفیس ذکریا

واضح رہے کہ 1948 میں نظام آف حیدر آباد نے لندن کے ویسٹ منسٹر بینک میں پاکستان کیلئے ایک ملین پاﺅنڈز کی امدادی رقم جمع کرائی تھی۔ پاکستان نے جب یہ رقم حاصل کرنے کی کوشش کی تو بھارت نے اس پر تنازعہ کھڑا کردیا تھا ۔ یہ تنازعہ تب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان چلا آرہا ہے جس کی وجہ سے اب یہ رقم بڑھ کر 35 ملین پاﺅنڈز ہو چکی ہے۔ گزشتہ سال جون میں برطانوی عدالت نے حیدر آباد فنڈز کیس میں پاکستان کے حق میں فیصلہ سنایا تھا جبکہ اس کیس پر حتمی فیصلہ ابھی تک لٹکا ہوا ہے۔

مزید : قومی


loading...