لاہور تیار: اب کالج اساتذہ دھرنا دینے آ رہے ہیں

لاہور تیار: اب کالج اساتذہ دھرنا دینے آ رہے ہیں
لاہور تیار: اب کالج اساتذہ دھرنا دینے آ رہے ہیں

لاہوریے بھی سوچتے ہوں گے کہ پنجاب سے جس کا دل چاہتا ہے وہ دھرنا دینے لاہور چلا آتا ہے۔ کیا لوگ اپنے شہروں میں دھرنا نہیں دے سکتے۔ یہ سوال اگر ان کے ذہن میں بوقتِ اذیت بوجوہ دھرنا آتا ہے تو انہیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ پورے صوبے کے وسائل بھی تو لاہور پر خرچ ہوتے ہیں، ساری سہولتیں اور آسائشیں بھی تو لاہوریوں کو میسر ہیں عالیشان پارک، کھلی کشادہ اور پھولوں سے لدی سڑکیں، فلائی اوورز، انڈر پاسز، میٹرو بسیں، پھر سب سے بڑی سہولت یہ کہ ہر نوع کا دفتر ان کی دسترس میں، ویگن پر بیٹھے سیکرٹریٹ پہنچ گئے، نہ رات رہنے کی مشکل نہ راجن پور جیسے شہر سے 10 گھنٹے کی مسافت، کسی شاعر نے کہا ہے نا کہ’’ جن کے رتبے ہیں سوا مشکل ہے‘‘ بڑے رتبے والوں کی مشکل بھی بڑی ہوتی ہے، سو یہاں اگر پورے صوبے سے آنے والے دھرنا دیتے ہیں تو یہ نہ دیکھیں کہ انہوں نے لاہوریوں کے راستے بند کر دیئے ہیں بلکہ یہ سوچیں کہ کتنی دور سے بوریا بستر باندھ کر یہ لوگ دھرنا دینے پہنچے ہیں پچھلے دنوں جب پنجاب کی لیڈی ہیلتھ وزیٹرز نے لاہور میں دھرنا دیا تھا تو میں ان دنوں بھی یہ سوچتا تھا کہ یہ عورتیں اپنے بچوں کو چھوڑ کر کئی دن سے سڑکوں پر بیٹھی ہیں، ان کی انسانی ضرورتیں کیسے پوری ہوتی ہوں گی اور معاملے کو نمٹانے میں حکومت اتنی تاخیر کیوں کرتی ہے؟

کوئی کہہ رہا تھا پورے ملک میں دھرنوں کا سب سے زیادہ رجحان اسلام آباد اور لاہور میں نظر آتا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ وجہ تو صاف ظاہر ہے جب یہ رجحان ہی بن گیا ہے کہ حکومت نے وقت سے پہلے حالات کا ادراک نہیں کرنا اور دھرنے کے بعد جب ہر چیز نے رک جانا ہے تب اس نے بات ماننی ہے تو ایسا کیوں نہیں ہوگا۔ پھر حالیہ عرصے میں تو دھرنوں کی کامیابی کے ایسے واقعات سامنے آئے ہیں کہ معاشرے کا ہر طبقہ اسی ڈگر پر چل نکلا ہے۔

جب تک خادم حسین رضوی پورے صوبے کو جام نہ کر دے اس کی بات نہیں مانی جاتی، اور جب تک لیڈی ہیلتھ وزیٹرز لاہور کے مال روڈ کو نو گو ایریا نہ بنا دیں ان کی کوئی سنتا نہیں تو پھر شکوہ کیسا؟ ایک محاورہ ہے۔۔۔ سو پیاز بھی کھائے اور سو جوتے بھی، یہ محاورہ ہماری انتظامی مشینری پر فٹ بیٹھتا ہے۔ کئی دن کی اذیت سے لوگوں کو گزارنے کے بعد مطالبات مان لئے جاتے ہیں، حالانکہ اگر مطالبات ماننے ہی تھے تو اتنی دیر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

حکومت کی برداشت کا وقت بھی اب کم سے کم ہوتا جا رہا ہے پہلے ہفتہ دس دن بھی دھرنا جاری رہتا تھا تو حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی تھی اب یہ مدت تین چار دن تک آ گئی ہے تین چار دن کے بعد حکومت کے حوصلے جواب دینے لگتے ہیں۔ اتنی بڑی سرکاری مشینری اور انتظامی ڈھانچے کے باوجود احتجاج کی نوبت کیوں آتی ہے۔

چلیں مانتے ہیں کہ سیاسی معاملات پر تو حکومت کو مزاحمت کرنی چاہئے مگر جو دھرنے سرکاری ملازمین، یا نابینا افراد دیتے ہیں، ان سے تو قبل از وقت نمٹا جا سکتا ہے متعلقہ محکموں کے سربراہان کیوں لسی پی کر سوئے رہتے ہیں ایسا ڈیڈ لاک پیدا ہی کیوں ہوتا ہے کہ ملازمین کو سڑکوں پر آ کر دھرنا دینا پڑتا ہے محکمے کا سیکرٹری اپنے ٹھنڈے دفتر سے نکل کر ان کی بات کیوں نہیں سنتا اور اُنہیں مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی طرف کیوں نہیں لاتا؟

کیوں اس وقت کا انتظار کرتا ہے کہ وہ سڑک پر آکر بیٹھ جائیں، ٹریفک جام کر دیں، زندگی مفلوج ہو جائے خادمِ اعلیٰ پر دباؤ بڑھے، پولیس کے افسران مظاہرین کی منتیں کریں، بات نہ بنے تو لاٹھی چارج اور پانی کے استعمال سے انہیں بھگانے کی کوشش کریں، میڈیا پر بریکنگ نیوز چلے کہ حکومت نے نہتے مظاہرین کا بھرکس نکال دیا ہے۔ وغیرہ وغیرہ اس محکمے کے سیکرٹری کو کرسی پر بیٹھنے کا کیا حق ہے جو اپنے ملازمین کو مطمئن نہیں کر سکتا۔

یہ ساری تمہید میں نے اس لئے باندھی ہے کہ 18 اپریل 2018ء کو ایک بار پھر لاہور میں ایک دھرنا ہونے جا رہا ہے۔ اس کے لئے پنجاب بھر میں بھرپور تیاریاں جاری ہیں لیکن محکمہ ہے کہ اب بھی سویا ہوا ہے میں کالج اساتذہ کے دھرنے کی بات کر رہا ہوں، جس کے لئے پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن نے دھرنے کی کال دے رکھی ہے شکر ہے یہ دھرنا سول سیکرٹریٹ کے باہر ہوگا، مال روڈ پر نہیں لیکن وہاں بھی جب سڑکیں بند ہو جائیں گی تو حکومت کے امور میں رختہ پیدا ہو جائے گا۔۔۔ یاد رہے کہ 2009ء میں بھی کالج اساتذہ نے یہیں دھرنا دیا تھا۔ حکومت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئی تھی، ایک معاہدہ طے پایا تھا جس میں اساتذہ کے تمام مطالبات تسلیم کر لئے گئے تھے۔

لیکن دھرنا ختم ہونے کے بعد حکومت اپنے وعدوں سے مکر گئی تھی اور معاملات درمیان ہی میں لٹک گئے تھے۔ اب نو سال بعد پھر کالج اساتذہ وہی عمل دہرانے جا رہے ہیں گویا زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد، کچھ بھی نہیں بدلا اور نہ ہی ہماری بیورو کریسی کے رویوں میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔

یہ بات میرے علم میں ہے کہ معاشرے کی پڑھی لکھی کمیونٹی کی ایسوسی ایشن اور سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے ایک ڈیڈ لاک موجود ہے بتایا جاتا ہے کہ صوبائی وزیر تعلیم رضا گیلانی اور سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ان نمائندوں سے ملنا تک گوارا نہیں کرتے یہ صورتِ حال کو بگاڑنے کی بد ترین مثال ہے کالج اساتذہ نہ تو کسی کا استعفا مانگ رہے ہیں اور نہ یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت سارے صوبے کا بجٹ ان پر لگا دے ان کے کچھ مطالبات ہیں ان پر گفتگو کی جا سکتی ہے، جو فوری پورے کئے جا سکتے ہیں انہیں کر دیا جائے اور جن پر کچھ پالیسی معاملات آڑے آتے ہیں، ان کے لئے کمیٹی بنا دی جائے۔

مگر یہ کیا طریقہ ہے کہ آپ جس کمیونٹی کے سر پر محکمہ چلا رہے ہیں اس سے ملنا ہی گوارا نہ کریں اور یہ سوچ کر بیٹھ جائیں کہ جب سڑکیں بند ہوں گی، دھرنا ہوگا تو دیکھا جائے گا یہ تو بلی کو دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے والی بات ہے۔

میرے سامنے جو اس احتجاجی دھرنے کے حوالے سے مطالبات پڑے ہیں، ان میں 90 فیصد ایسے ہیں جنہیں فوراً حل کیا جا سکتا ہے ان میں زیادہ تر تکنیکی نوعیت کے ہیں۔

سب سے پہلا مطالبہ یہ ہے کہ یونیورسٹیوں کی طرح کالج اساتذہ کو بھی ون سیٹپ پروموشن دی جائے یعنی لیکچرار کا گریڈ اٹھارہ ہو،اس پر محکمہ تعلیم کو کچھ تحفظات ہیں اور محکمہ فنانس بھی اس کی راہ میں رکاوٹ ہے کیونکہ اس کے لئے اضافی بجٹ کی ضرورت ہو گی تاہم اس کے علاوہ جو گیارہ مطالبات ہیں، ان کا تعلق تو محکمے کی پالیسیوں اور رولز سے ہے جن میں تبدیلی لا کر اساتذہ کو مطمئن کیا جا سکتا ہے۔

سو فیصد مطالبات تو آج تک کسی محکمے نے منظور نہیں کئے لیکن ایسا بھی نہیں ہوتا کہ سو فیصد مطالبات کو رد کر دیا گیا ہو، محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب اسی پالیسی پر عمل پیرا ہے ظاہر ہے اس سے اساتذہ میں اضطراب پیدا ہو رہا ہے۔ محکمے کو اس بات کی ذرہ بھر فکر نہیں کہ صوبے کے اساتذہ جب دھرنے کے لئے لاہور آئیں گے تو پیچھے کالجوں کا کیا بنے گا؟

لاکھوں طالب علم کالجوں میں کلاسز نہ ہونے سے شتر بے مہار کی طرح پھریں گے۔ دھرنے کے بعد بھی تو مذاکرات ہی کرنے ہیں، تو پہلے ایسا کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ بی پی ایل اے کی ساری قیادت لاہور میں موجود ہے، اسے بلا کر وزیر تعلیم پنجاب اور سیکرٹری مذاکرات کیوں نہیں کرتے۔۔۔ چوہے بلی کا کھیل کیوں کھیلا جا رہا ہے؟ اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کو اعتماد میں لینا کیا مشکل کام ہے جس طرح ان کے مسائل ہیں، اسی طرح محکمہ بھی اپنے مسائل اور مشکلات ان کے سامنے رکھ سکتا ہے جب پورے پنجاب سے لوگ آکر لاہور میں بیٹھ جائیں گے، تب ہوش آئے گی پھر سب جاگ جائیں گے۔

سیکرٹری کو بھی شاید دھرنے کے شرکاء سے ملاقات کرنی پڑے اور وزیر صاحب بھی ان سے ملنے آ جائیں۔ آخر یہ سب کیوں، ؟ ہم کیا عادت اپنا رہے ہیں اور کیا رجحان متعارف کرا رہے ہیں کہ جب تک پانی سر سے نہ گزرے ہمیں ہوش نہیں آتا۔ اگر کسی محکمے کے ملازمین میں اضطراب ہے تو اس پر فوری مکالمہ ہونا چاہئے، بیسیوں ایسے راستے ہوتے ہیں، جن سے ملازمین کو مطمئن کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر محکمے کو مغلیہ طرز حکومت کی طرح چلایا جائے ، سیکرٹری اور وزیر ملازمین سے قطع تعلق کر کے بیٹھ جائیں تو بے چینی کا پھیلنا قدرتی امر ہے۔

اب بھی وقت ہے کہ ڈیڈ لاک کو ختم کر کے محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب پروفیسرزاینڈ لیکچررزایسوی ایشن کے عہدیداروں کو مذاکرات کے لئے بلائے اور اس سے پہلے کہ لاہور میں پھر ایک نیا تماشا لگے ان کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرا کے معاملات کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک جانے سے روکے، کوئی تو اچھی مثال بھی قائم ہونی چاہئے۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...