ناراض بلوچوں کی واپسی!

ناراض بلوچوں کی واپسی!

بلوچستان میں امن کے لئے کی جانے والی کوششیں بار آور ہونا شروع ہو گئی ہیں، وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک اور بلوچستان میں متعین عسکری قیادت کے باہمی تعاون اور مذاکرات کی مسلسل کوششوں میں واپسی کا سلسلہ شروع ہوا، جو اب تیزی پکڑ گیا ہے۔ بیس تیس کی تعداد میں ہتھیار ڈال کر بلوچستان کی ترقی کے لئے واپس آنے والے جنگجوؤں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے۔یومِ آزادی پر442فراری بلوچوں کا ہتھیار ڈال کر قومی پرچم اُٹھا لینا بہت بڑی کامیابی ہے۔ بلاشبہ ڈاکٹر عبدالمالک اور لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ اس پر فخر کر سکتے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ نے تو کہا یہ سب ہمارے بھائی ہیں اور ہم سب مل کر بلوچستان کی ترقی کے لئے کام کریں گے۔ان کی کوششیں اس سلسلے میں قابلِ قدر ہیں۔بلوچستان میں اِس مرتبہ یوم آزادی کی تقریبات بھی بڑے پُرجوش انداز میں منائی گئیں اور عرصہ بعد شہریوں نے سُکھ اور آزادی کا سانس لیا، سیاسی اور عسکری قیادت نے تقریبِ آزادی میں حصہ لیا اور شرکاء نے خوب تفریح کی۔ فراری بلوچ حضرات کے لئے ایک خصوصی تقریب کا اہتمام بھی کیا گیا تھا، ایک ایک بلوچ آگے بڑھ کر ہتھیار ڈالتا، تو خوبصورت وردیوں میں ملبوس بچے اس کو پھول پیش کرتے اور ساتھ ہی پاکستان کا قومی پرچم دیتے، تو وہ یہ تحائف تھام کر قومی پرچم لہراتا ہوا آگے بڑھتا، جہاں ان کے استقبال کے لئے سیاسی اور عسکری قیادت موجود تھی۔

لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ نے بجا طور پر کہا کہ یہ سب ہمارے بھائی ہیں اور بھائی بن کر آئے ہیں ہم اِن کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اب یہ قومی دھارے میں شامل ہو کر اپنے صوبے اور مُلک کی بہبود کے لئے کام کریں گے۔انہوں نے اِس امر پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ صوبے میں امن و امان کی حالت پہلے سے بہتر ہوتی ہے۔اس عمل کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے، وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے عہدہ سنبھالتے ہی مذاکرات اور مفاہمت کے لئے کوششوں کا آغاز کر دیا تھا،جو مشکل مراحل سے گزرتے ہوئے اب کامیابی کی طرف بڑھ گئے ہیں۔اب تو یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ خان آف قلات کے واپس آنے اور براہمداغ بگتی سے تمام معاملات طے ہونے کے قریب ہیں۔ اگر ایسی بڑی مفاہمت ہو گئی تو بلوچ اور بلوچستان والے متحد ہو کر قومی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں گے اور امن کے بعد ہی ریکوڈک اور سینڈک کے قدرتی وسائل مُلک کی ترقی کے کام آ سکیں گے۔

مزید : اداریہ