پی آئی اے، پائلٹ حضرات سے نیا تنازعہ!

پی آئی اے، پائلٹ حضرات سے نیا تنازعہ!

  

انگریزی معاصر کی رپورٹ کے مطابق حج آپریشن کی تکمیل کے بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز میں بحران کا خدشہ ہے کہ ہوائی سروس کے پائلٹوں کی تنظیم اور انتظامیہ آمنے سامنے آ گئے ہیں، پائلٹ حضرات نے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں اگلے ماہ سے جہازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوگی کہ پائلٹ حضرات اپنے تحفظات پورے نہ ہونے کی صورت میں تکنیکی نکات کے باعث جہاز اڑانے سے انکار بھی کر سکتے ہیں اورآمد و رفت میں تاخیر بھی ہو سکتی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اطلاعات کے مطابق پی آئی اے کے مرکزی دفاتر کراچی سے اسلام آباد منتقل کئے جانے کی اطلاع ہے اور اس حوالے سے پائلٹوں کے تبادلے بھی کئے گئے ہیں جو کراچی سے اسلام آباد اور دوسرے شہروں میں ہوئے۔اس سلسلے میں پائلٹوں کی تنظیم (پالپا) کے مطالبات کی طویل فہرست بھی شامل ہے۔ پالپا کے مطابق انتظامیہ کی توجہ کئی بار اس طرف دلائی گئی کہ انتظامیہ خود اپنے ”فلائٹ آپریشن مینوئل“ پر بھی عمل نہیں کرتی، جس سے مسافروں کا تحفظ بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے، جبکہ پائلٹ ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔پی آئی اے انتظامیہ کا موقف ہے کہ تبادلوں کا یہ مطلب نہیں کہ مرکزی دفتر تبدیل کیا جا رہا ہے۔ یہ انتظامی معاملہ ہے اور انتظامیہ نے پالپا سے سلسلہ جوڑا ہوا ہے اور اس کے بعض مطالبات پر عمل بھی کیا ہے اور مزید امور بات چیت سے حل کر لئے جائیں گے۔ پالپا کے مطابق پائلٹ کو مسافروں اور جہاز کے تحفظ کا احساس ہے کہ ان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے لیکن انتظامیہ پر بھی لازم ہے کہ وہ تحفظ کے تمام کام پورے کرے، اگر ایسا نہ ہوا تو 14ستمبر کے بعد ”قواعد کے مطابق“ عمل کا سلسلہ شروع ہو گا جس سے فلائٹ آپریشن تاخیر کا شکار ہو جائے گا۔ انتظامیہ کو توقع ہے کہ معاملات خراب نہیں ہوں گے۔پی آئی اے پاکستان کی قابل فخر ایئر لائنز تھی جو اب خراب ہوتے ہوئے اربوں کے خسارے میں ہے، اسے بند کرنے سے نجی ملکیت تک میں دینے کے فیصلے کئی بار ہوئے تاہم ان پر عمل نہ ہوا، اب نئی انتظامیہ نے خسارہ کم کرنے اور فلائٹ آپریشن بہتر بنانے کا عمل شروع کیا ہے تو ایسی خبریں آ گئی ہیں، انتظامیہ اگر بہتری کے لئے پالپا سے مذاکرات کے ذریعے تحفظات دور کرنا چاہتی ہے تو رکاوٹ کیا ہے۔ بہتر ہو گا کہ 14ستمبر سے پہلے ہی معاملات درست کر لئے جائیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -