بھارت حکومت امدادی کیمپوں میں مکینوں کو ہراساں کر رہی ہے: کشمیری پنڈت

بھارت حکومت امدادی کیمپوں میں مکینوں کو ہراساں کر رہی ہے: کشمیری پنڈت

  



سرینگر(آئی این پی) آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد، مقبوضہ جموں کے کیمپوں میں مقیم ہزاروں کشمیری ہندو خاندانوں نے تصدیق کے نام پر حکومت کی طرف سے 'دھمکیوں ' اور 'ہراساں کرنے' کا الزام لگا تے ہوئے کہاہے کہ متعلقہ کیمپ کے کمانڈنٹ کسی خاندان کے کسی فرد کی شناخت پریڈ نہیں کرپاتے تو ان کے دروازے پر نوٹس لگا دیئے جاتے ہیں۔بحالی پیکیج کے تحت تعمیر کیے گئے دو کمروں کی رہائش گاہوں میں تقریبا 10000پنڈت خاندانوں کی رہائش، جگتی، موٹھی، نگروٹا اور پورھو میں رہائش پزیر رہائش پذیر افراد کا الزام ہے کہ بہت سے خاندان پنے رشتہ داروں یا ان کے بچوں کو ریاست سے باہر تعلیم حاصل کرنے یا ملازمت کرنے سے بھی خوفزدہ ہیں۔"میرے دو بچے جموں سے باہر کام کر رہے ہیں اور میں اپنے بیٹے سے ملنے گیا تھا اور وہاں دو مہینے قیام کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ لیکن کچھ ہی دن میں، کیمپ کمانڈنٹ افسران ہماری عمارت کا دورہ کیا اور میری غیر حاضری پر نوٹس جاری کردیا۔ ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق جگتی کے ایک کیمپ کے رہائشی جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے نے کہا، "مجھے اپنے سٹیٹس کی وضاحت کرنے کے لئے جلدی سے واپس جانا پڑا۔ایک نیوز ویب سائٹ کے مطابق بہت سے کنبے جن کے بچے روزگار پیکیج کے تحت برسرروزگارہیں اور کشمیر کے مختلف اضلاع میں تعینات ہیں، کو بھی بخشا نہیں گیا۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق کچھ دن پہلے بھی ایسا ہی معاملہ پیش آیا تھا۔ ایک خاندان کیمپ کے اندر رہائش پذیر تھا لیکن سروے کے دوران اس پر تالا لگا دیا گیا تھا، جگتی میں رہنے والے اشوک بھٹ نے بتایا۔ 1990 کی دہائی میں جبری طور پر انخلا کے بعد، متعدد منزلہ عمارتوں والے کیمپوں کو کشمیر سے آنے والے خاندانوں، خاص طور پر ہندوں کو الاٹ کیا گیا تھا۔ ایک سماجی کارکن سنیل کمار پنڈتا، نے کہا کہ حکومت ہمارے ساتھ ایسا سلوک کر رہی ہے جیسے ہم کسی جیل میں رہ رہے ہوں۔ ہم نے کسی ایسے بانڈ پر دستخط نہیں کیے ہیں جس سے ہم اس کیمپ کو نہیں چھوڑ سکتے۔ زیادہ تر بچے روزگار کے لئے جموں سے باہر چلے گئے ہیں۔ یہ ذہنی ایذا رسانی ہے ریلیف کمشنر (تارکین وطن)ٹی کے بھٹ اس بارے میں کوئی تبصرہ کرنے کے لئے دستیاب نہیں تھے۔ ایک کیمپ کے زونل عہدیدار نے دعوی کیا کہ یہ توثیق کے عمل کا ایک حصہ ہے۔

مزید : عالمی منظر