بوڑھے والدین کی کفالت  نہ کرنے پر 5 بیٹے عدالت طلب 

  بوڑھے والدین کی کفالت  نہ کرنے پر 5 بیٹے عدالت طلب 

  

پشاور(نیوز رپورٹر)پشاور ہائیکورٹ نے اپنے بوڑھے والدین کی کفالت نہ کرنے او ر انہیں معذور بیٹے سمیت بے آسرا چھوڑنے پر پانچ بیٹوں کو کل عدالت طلب کرلیا اور اس حوالے سے ایس ایچ او بڈھ بیر کو ان کی حا ضری یقینی بنانے کی ہدایت کر دی جبکہ جسٹس روح الامین نے ریمارکس دئیے کہ والدین کی کفالت تو ہو جائیگی مگر کل یہی حال ان کا بھی ہوگا جس نے والدین کو اس حال میں چھوڑا ہے،فاضل جسٹس نے یہ ریمارکس گزشتہ روز بڈھ بیر کی رہائشی مسماۃ نثار بی بی اور اسکے شوہر کی جانب سے دائر رٹ کی سماعت کے دوران دئیے۔ کیس کی سماعت کے دوران افشاں بشیر ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ انکے موکل انتہائی غریب اور عمر رسیدہ ہیں جن کے 6 بیٹے ہیں جس میں ایک ذہنی معذور ہے۔انہوں نے بتایا کہ سارے بچے بالغ ہیں او ر اپنی بیوی بچوں کے ساتھ الگ الگ گھر میں رہتے ہیں اوران کی شادیوں کے خرچے کیلئے والدین نے اپنی ساری جمع پونجی خرچ کرنے کیساتھ ساتھ اپنا ذاتی مکان بھی فروخت کر دیاتھا مگر اب ان کو بے آسرا چھوڑ دیا گیا ہے، انکے پاس نہ کرایہ دینے کے پیسے ہیں نہ ہی خوراک وغیرہ کیلئے ان کے پاس رقم موجود ہے۔ اسکے علاوہ ذہنی معذو ر بیٹے کی علاج کیلئے بھی وہ لوگوں سے ادھار مانگ رہے ہیں حالانکہ اسلامی اور ملکی قوانین بالغ بچوں کو اس کا پابند کرتی ہے کہ وہ اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کرینگے کیونکہ یہ ان کااسلامی واخلاقی فریضہ بھی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس حوالے سے حکومت کی ذمہ  داری بنتی ہے کہ اپنے شہریوں کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کویقینی بنائے مگر ابھی تک کوئی امداد موصول نہیں ہوئی اور انکی زندگی انتہائی مشکل ہے لہذا اسکے بچوں اور حکومت کو اس بات کا پا بند بنایا جائے کہ وہ درخواست گزاروں کا خرچہ بر داشت کریں تا کہ وہ اپنی بقایا زند گی عزت واحترام کے ساتھ گزار سکیں۔ عدالت نے اس موقع پر اسکے بچوں کو کل عدالت میں پیش ہونے کا حکم جاری کر دیا اور سماعت 17 مارچ تک ملتوی کر دی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -