ملائیشین طیارہ نہ ملنے کی وجہ سامنے آگئی

ملائیشین طیارہ نہ ملنے کی وجہ سامنے آگئی
ملائیشین طیارہ نہ ملنے کی وجہ سامنے آگئی

  

سڈنی (نیوز ڈیسک) تقریباً دو ماہ قبل لاپتہ ہونے والے ملائیشیاءکے طیارے کی تلاش کی عالمی کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں اور ایک حالیہ انکشاف نے کروڑوں ڈالر خرچ کرکے سرانجام دئیے جانے والے سارے عمل کو مشکوک بنادیا ہے۔ برطانیہ کی طرف سے آسٹریلیا کو دئیے گئے تلاش کے کام میں استعمال ہونے والے بحری جہاز اور زیر آب تلاش کا کام کرنے والی مشین میں ایسے نقائص کا انکشاف ہوا ہے کہ جس کی وجہ سے غلط ڈیٹا اکٹھا کیا جارہا تھا۔ اس بات کا انکشاف اس وقت ہوا جب ملائیشیاء،چین اور آسٹریلیا کے حکام نے تمام دستیاب ڈیٹا کا مجموعی جائزہ لے کر تلاش کی جگہ کا بہتر تعین کرنے کا فیصلہ کیا۔ برطانوی اخبار کے مطابق  تلاش کے اس نظام میں بھی کمیونیکیشن کی ویسی ہی  خامیاں پائی گئیں ہیں جن کا شکار بدقسمت لاپتہ طیارہ ہوا تھا۔ ان مشینوں کے آپسی رابطے کے آلات ہی کام نہیں کررہے تھے جس کی وجہ سے درست ڈیٹا ماہرین کو دستیاب نہیں ہوسکا۔ آسٹریلیا کی حکومت نے تلاش کیلئے استعمال ہونے والے آلات میں خامیوں اور نقائص کا اعتراف کرلیا ہے۔ واضح رہے کہ آسٹریلیا اب تک تلاش کے کام پر تقریباً ایک کروڑ ڈالر خرچ چکا ہے، زیر آب تلاش کا کام کرنے والی مشین بلو فن 21 اور جدید ٹیکنالوجی کے حامل بحری جہاز اوشن شیلڈ میں نقائص کی دریافت کے بعد اس خرچہ میں بھاری غیر ضروری اضافہ ہوجائے گا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس