پولیس افسران کا جرائم میں ملوث ہونے کا انکشاف،وزیر اعظم کو نوٹس لینا چاہیے 

پولیس افسران کا جرائم میں ملوث ہونے کا انکشاف،وزیر اعظم کو نوٹس لینا چاہیے 
پولیس افسران کا جرائم میں ملوث ہونے کا انکشاف،وزیر اعظم کو نوٹس لینا چاہیے 

  

لاہورمیں امن وامان کی صورتِ حال تسلی بخش نہیں ہے۔ خاص طور پر ڈکیتی اور رہزنی کی وارداتوں اور دیگر اسٹریٹ کرائمز میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو ا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ لاہور انتشار اور انارکی کا شکار ہے۔ اچانک ایسی صورتِ حال کیوں پیدا ہوئی، اسباب جاننے اور ان کا تدارک کرنے کی فوری ضرورت ہے۔تھوڑے تھوڑے وقفے سے ٹی وی اسکرینز پر اسٹریٹ کرائمز،قتل و غارت اور پولیس مقابلوں کی خبریں آ رہی ہوتی ہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا، جب ڈاکووں سے مزاحمت پر شہری زخمی یا جاں بحق نہ ہوتے ہوں۔ 

روزانہ تین سے چار لوگ زخمی بھی ہوتے ہیں جن میں شدید زخمی بھی شامل ہیں، جو یا تو زندگی بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں یا بعد ازاں زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔لوٹ مار کی کئی وارداتوں میں لوگ روزانہ کروڑوں روپے کی اشیاء یا نقد رقوم سے محروم ہو جاتے ہیں۔ بے شمار ایسی وارداتیں ہوتی ہیں، جو پولیس اور میڈیا میں رپورٹ بھی نہیں ہوتیں۔ کاریں، موٹر سائیکلیں اور موبائل فونز چھیننے اورچوری کی سب سے زیادہ وارداتیں بھی لاہور میں ہوتی ہیں۔لاہورشہر کی زیادہ تر کچی اور گنجان آبادیوں پر ڈرگ مافیا کا کنٹرول ہے،ایک طرف لوگوں کو جرائم پیشہ افراد کا اور دوسری طرف انہیں پولیس افسران کے خلاف شکایت کرنے کی صورت میں جھوٹے مقدمات میں ملوث کر دینے کا خوف اور شہری شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں،ایس پی عہدے کے آفیسرز جوکہ بڑے ذمہ داران گردانے جاتے ہیں یہاں تعینات ایس پی عہدے کے کئی افسران کی جو کرتوتیں ہیں وہ  وہ انتہائی افسوس ناک اور قابل ذکر نہیں، اہلکار تو کیا کئی اعلی عہدے کے آفیسر بھی مبینہ نشے کے عادی ہیں،

لاہور ہی میں ایک واقعہ میں سائل بہنوئی سمیت پولیس گردی کا شکا ہونے پر د و ایس ایچ او سمیت 7معطل کیے گئے،معطل ہونے والے ایس ایچ او کو سفارش کے بل بوتے پر اگلے ہی روز تعیناتی اور تعیناتی بھی وہاں جہاں اس نے ایس پی کے کہنے پر پولیس گردی کی تھی، وزیر اعلی صاحب کیا یہ پولسینگ ہے، ہاں آئی جی پولیس نے ان کے خلاف ریگولر انکوائری تو لگادی ہے مگر یہ آفیسرز جن کی وجہ سے ادارے کا ستیاناس ہورہا ہے جو جرنلسٹ کو بھی دھمکی دینے سے ڈرتے نہیں ہیں نشے میں دھت رہتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں عام شہریوں کی عزت کیسے محفوظ ہوسکتی ہے،وزیر اعظم، وزیر اعلی اور آئی جی صاحب اس پر سخت ایکشن لینے کی ضرورت ہے جس فورس سے آپ امن قائم کرنے کی توقع کیے بیٹھے ہیں ان میں سے کئی ایک مبینہ جرائم میں ملوث ہو چکے ہیں،امن وا مان کی صورتِ حال قابو میں آنے کی بجائے مزید خراب ہوتی جا رہی ہے اور سماجی انتشار کی طرف بڑھ رہی ہے۔شہر میں راہزنی،شاپس اور ہاوس رابری کی روزانہ دو درجن سے زائد وارداتیں جبکہ موٹر سائیکل چوری کی 100سے زائد وارداتیں معمول بن گیا ہے، صرف ایک ہفتہ میں شاہدرہ ٹاؤن مبینہ مقابلے میں زیر حراست ملزم بلال کی ہلاکت،کوٹ لکھپت میں جنرل ہسپتال کے آرتھوپیڈک ڈاکٹر فیاض حسین کا گھر کے اندرفائرنگ سے قتل،نشترکالونی میں سابق اسسٹنٹ پروفیسر سلمان شوکت کا اغوا کے بعد قتل،موچی گیٹ میں فائرنگ سے دو قتل دو زخمی،شادباغ میں فائرنگ سے دو قتل تین ذخمی،فیصل ٹاؤن میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے خاتون رفعت کا قتل،باغبانپورہ میں خاتون ثمینہ اورگوالمنڈی مین خاتون رضیہ کا قتل شامل ہیں۔طویل عرصے تک دہشت گردی کے عذاب میں رہنے والا زندہ دلان کا یہ لاہور شہر اب اسٹریٹ کرائمز،منشیات اور بے 

مہارے آفیسرز کے ہاتھوں عذاب میں مبتلا ہے۔ یہ شہر پاکستان بالخصوص پنجاب کا ”اکنامک ہیڈ کوارٹر“ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ لوگوں کا مسکن ہے۔ ویسے تو دنیا کے بڑے شہروں میں اسٹریٹ کرائمز ہوتے ہی ہیں لیکن اس وقت جس طرح لاہور میں ہو رہے ہیں، یہ معمول سے بہت زیادہ ہیں۔ اسے ”کرائم ویو“ یعنی جرائم کی لہر سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔اس کے وہ اسباب نہیں ہیں، جو بیان کئے جاتے ہیں۔ ایک سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، غربت اور بے روزگاری نے یہ صورت حال پیدا کی ہے۔ لوگ بھوک اور تنگدستی کی وجہ سے وارداتیں کرتے ہیں۔ یہ سبب اگردرست تصور کر لیا جائے تو پھر پورے ملک میں اسی شرح سے جرائم میں اضافہ ہونا چاہئے۔ کچھ لوگ اس سبب سے جرائم کی دنیا میں ضرور داخل ہوتے ہوں گے لیکن جرائم کی منظم وارداتوں کا سبب کچھ اور ہے۔ وہ سبب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات انتہائی تشویش ناک ہے کہ ان جرائم میں پولس اہلکاروں کے ملوث ہونے کے انکشافات ہوئے ہیں۔جرائم میں اضافے کی حالیہ لہر کے سماجی سے زیادہ سیاسی اسباب ہو سکتے ہیں۔ ان جرائم سے نمٹنے کیلئے پولیسنگ کے ایک بہتر نظام کی ضرورت ہے،دہشت گردی کے دوران قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی لاہور کے امن و امان کے معاملات میں مداخلت بڑھی۔اس کی وجہ سے پولیسنگ کا نظام نہ صرف کمزور ہوا بلکہ امن و امان کو مکمل طور پر کنٹرول کرنے کا پولیس کا فیصلہ کن کردار بھی متاثر ہوا۔

اس کے بعد شہر کی پولیس میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں ہوئیں، جس نے پولیس کی شہر کے حالات سے متعلق اپروچ کو بھی تبدیل کر دیا۔ لاہور میں پولیس کی ازسرِ نو تنظیم کی ضرورت ہے۔ پولیس کو اختیارات اور فیصلوں کے حوالے سے دہشت گردی سے پہلے والی پوزیشن پر واپس لانا ہو گا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ پولیس کے احتساب اور نگرانی کا بھی سخت نظام لانا ہو گا کیونکہ پولیس کو حاصل بے پناہ اختیارات کا جتنا ناجائز استعمال پولیس میں ہوتا ہے، کہیں اور نہیں ہوتا۔ حالات کو سدھارنے اور لاہور میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ نئے تعینات ہونیوالے لاہور پولیس کے سربراہ بلال صدیق کمیانہ یہاں تعینات بری شہرت کے حامل افسران کے خلاف  فوری کارروائی عمل میں لائیں تاکہ شہر کو امن کا گہوارہ بنایا جاسکے اور یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ دو ایس ایچ او سمیت 7اہلکاروں کی معطلی کی اصل کہانی کے پس پردہ حقائق کیا ہیں پھر معطل ہونے والا ایس ایچ او کو فوری دوبارہ اسی ڈویژن میں تعینات کرنے کے پیچھے کون سی طاقت نبردآزما ہیں 

مزید :

رائے -کالم -