میری یا میرے گھر والوں کی بیرون ملک کوئی جائیداد نکل آئے تو مجھے پھانسی دے دو: اسفند یار ولی

میری یا میرے گھر والوں کی بیرون ملک کوئی جائیداد نکل آئے تو مجھے پھانسی دے ...
میری یا میرے گھر والوں کی بیرون ملک کوئی جائیداد نکل آئے تو مجھے پھانسی دے دو: اسفند یار ولی

  

اسلام آ با د (ڈیلی پاکستان آن لائن) سربراہ عوامی نیشنل پارٹی اسفند یار والی نے کہا ہے کہ میری یا میرے گھر والوں کی پاکستان سے باہر کوئی بھی جائیداد نکل آئے تو  ان کو    نااہل نہیں پھانسی دے دیں۔

ن لیگ ضمنی الیکشن جیتے یا ہارے،نواز شریف کبھی واپس نہیں آئیں گے : چودھری شجاعت حسین

نجی ٹی وی’’جیو نیوز‘‘ کے پروگرام ”جرگہ “ میں گفتگو کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ اسفند یا ر ولی کا کہنا تھا کہ میرے پاس ایک روپے بھی حرام کا نہیں ہے، شاہی سید ایک اچھے کاروباری ہیں جبکہ مجھے کاروبار کی الف ،ب بھی نہیں آتی۔ اگر ہماری حکو مت کرپٹ تھی تو بتائیں ہمارے کتنے ایم این اے، ایم پی اے اور وزیر مشیر عدالتوں میں ہیں یا نیب میں کیسز بنے ہیں ؟ پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی نے اپنی پارٹی کے وزیر اعلی پر کرپشن کے الزامات لگائے، نیب کہاں سو رہی ہے؟۔تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی حکومت ہماری حکومت سے زیادہ کرپٹ ہے، ہماری حکومت جانے کے بعد کرپشن کی باتیں ہوئی جبکہ یہاں تو تحریک انصاف کی حکومت موجود ہے اور کرپشن کی بات ہو رہی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اسفند یار ولی کا کہنا تھا کہ احتساب کے نام پر شریف خاندان کی بہنوں بیٹیوں کو زلیل کرنا نا منا سب ہے۔ کچھ غلطیاں میاں صاحب کی جانب سے ہوئی کچھ کپتان صاحب سے ہوئی، سب کہہ رہے تھے مستعفی ہو جائیں، ہم نے کہا عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا چایئے، محاز آرائی نہ نواز شریف کے حق میں ہے نہ جمہوریت کے حق میں، اس کا نقصان پاکستان کو ہے۔ چوہدری صاحب کا احترام کرتا ہوں، نواز شریف بھی عزت سے پیش آتے ہیں، نواز شریف ووٹ کے تقدس کی بات اگر دوران اقتدار کرتے تو سیاسی جماعتیں ساتھ ہوتیں، عید کے بعد قربا نی کا کیا کرنا۔

اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی نے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بھارت، افغانستان اور ایران سے تعلقات خراب ہیں، یہ خارجہ پالیسی کی ناکا می ہے۔نیشنل ایکشن پلان پر عملدر آمد نہیں ہوا، دہشت گردی میں کمی کا کریڈٹ کسی سیاسی جماعت کو نہیں جا تابلکہ پاک فوج کو جاتا ہے۔ملٹری آپریشنز سے سوات کے حالات بدلے، کے پی میں امن آیا، ملٹری آپریشنز سے حکومت کےخلاف برسر پیکار عناصر کو ختم کرنا ہوتا ہے۔ قبائیلی علاقوں میں حالات خراب کرنے کے ذمہ دار پرویز مشرف اور ضیا ءالحق ہیں۔ فاٹا کو گناہ گار قرار دے رہے ہیں، جبکہ ہم نے فاٹا کو روس کے خلاف لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کیا ،فاٹا کے لوگوں کا اصل قصور وار مرکزی حکومت ہے۔ پاکستان میرا ملک ہے جبکہ افغانستان میرا آبائی ملک ہے۔ وفاداری تو آبائی ملک کے ساتھ بھی ہے لیکن میں پاکستان کے ساتھ ہوں۔ٹرمپ کی حالیہ پالیسی پاکستان اور افغانستان دونوں کیلیے تباہی ہے، ٹرمپ اگر امن قائم نہیں کر سکتے تو اسے دور رہنا چاہیے۔ پاک افغان معاملے میں چین کو ثالث نہیں ضامن ہونا چاہیے۔

اسفند یار ولی کا مزید کہنا تھا کہ عام انتخابات سے پہلے کسی سے اتحاد نہیں کریں گے، موجودہ حالات میں ٹیکنو کریٹ حکومت کی بات کرنا پاکستان کے ساتھ زیادتی ہے، نواز شریف کوذوالفقار بھٹو کے لیول کا نہیں سمجھتا، بھٹو آج بھی زندہ ہے۔

مزید :

قومی -