مولانا فضل الرحمن کا لاک ڈاؤن

مولانا فضل الرحمن کا لاک ڈاؤن

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن لاک ڈاؤن کے فیصلے پر نظرثانی کریں اور لانگ مارچ کی باتیں نہ کریں، اپوزیشن کو پارلیمینٹ میں صدارتی تقریر سننی چاہئے تھی،اپوزیشن کے رویئے کی وجہ سے بھارت میں ہمارا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ افغان مذاکرات میں تعطل عارضی ہے یہ بہت جلد دوبارہ شروع ہوں گے،کیونکہ مذاکرات کے سوا کوئی چارہ کار نہیں، وہ ملتان میں اپنے حلقے میں سیوریج کے کام کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے۔ دوسری جانب مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ ہمارا آزادی مارچ روکنے کی کوشش کی گئی تو پورا ملک بند کر دیں گے، خواہش ہے کہ آزادی مارچ میں میرا اور اپوزیشن کا مشترکہ سٹیج ہو۔اُن کا کہنا تھا کہ 18ستمبر کو جمعیت کے اجلاس میں مارچ کا اعلان کیا جائے گا،ہمارا آزادی مارچ اسلام آباد کی جانب ہو گا،2018ء کے الیکشن کے بعد تمام سیاسی جماعتیں اِس بات پر متفق تھیں کہ دھاندلی ہوئی ہے اِس لئے تمام سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ دوبارہ لیکشن ہوں،انہوں نے کہا فاٹا میں عوامی حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

وزیر خارجہ نے مولانا فضل الرحمن کو اپنا احتجاج ملتوی کرنے کی جو پیشکش کی ہے اس کا وہ کیا جواب دیتے ہیں اس کا انحصار تو خود مولانا پر ہے،لیکن بظاہر ایسے محسوس ہوتا ہے کہ اب تک احتجاج سے روکنے کی سرکاری سطح پر جتنی بھی اندرونِ خانہ کوششیں ہوئی ہیں وہ کامیاب نہیں ہو سکیں۔اگر ان کوششوں کا کوئی مثبت نتیجہ نکلتا تو شاہ محمود کو برسر عام مولانا کو احتجاج ملتوی کرنے کی درخواست نہ کرنا پڑتی،لیکن اس ساری صورتِ حال کا ایک بہت دلچسپ پہلو بھی سامنے ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے متعدد بار اعلان کیا تھا کہ اپوزیشن جہاں چاہے احتجاج کرے، ہم اسے سہولتیں فراہم کریں گے اور کنٹینر کے ساتھ ساتھ کھانا بھی مہیا کریں گے،ساتھ ہی ساتھ وزیراعظم یہ بھی کہہ دیا کرتے تھے کہ اپوزیشن جماعتوں میں احتجاج کی سکت ہی نہیں،لیکن جوں جوں جے یو آئی(ف) کے احتجاج کا وقت قریب آ رہا ہے لگتاہے حکومتی حلقوں کی پشیمانی بڑھتی جا رہی ہے اور اب حکومت کے ”انڈر19وزراء“ بھی مولانا فضل الرحمن کا اس طرح مذاق نہیں اُڑاتے، جو ان کا ہمیشہ طرہئ امتیاز رہا۔ حکومت کو شاید احساس ہو چلا ہے کہ مولانا فضل الرحمن اگر اپنے پروگرام کے مطابق سچ مُچ کا لاک ڈاؤن کرنے میں کامیاب ہو گئے تو کیا ہو گا۔

ہمارے ملک میں اپوزیشن کے احتجاجات کی اگرچہ ایک تاریخ ہے،لیکن نواز شریف کی تیسری حکومت کے خلاف عمران خان نے جس طرح طویل دھرنا دیا اُس کی کوئی مثال نہیں ملتی،پاکستان عوامی تحریک بھی اس دھرنے میں اُن کے ساتھ تھی اور ڈاکٹر طاہر القادری خصوصی طور پر اس مقصد کے لئے بیرون ملک سے آئے تھے، اپنے احتجاج کے دوران انہوں نے اپنے کارکنوں کو کفن پہن کر قبریں کھودنے پر بھی لگائے رکھا اور اپنا یہ حق بھی گردانا کہ گندے کپڑے دھو کر سپریم کورٹ اور قومی اسمبلی بلڈنگ کی بیرونی دیوار کی ریلنگ پر سوکھنے کے لئے پھیلا دیئے گئے، آخری دِنوں میں عمران خان ہر شام اپنے دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے تھے اور وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ بھی کرتے تھے ایک دو بار انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ انہیں دھرنے میں ایک سال بھی بیٹھنا پڑا تو بیٹھیں گے،لیکن استعفا لئے بغیر اسلام آباد سے نہیں جائیں گے،انہیں اپنے دھرنے کی کامیابی کی بھی جلدی تھی، کیونکہ خود اُن کا کہنا تھا کہ انہوں نے شادی بھی کرنی ہے،شادی تو خیر انہی دِنوں انہوں نے کر لی اور پھر طلاق بھی دے دی،لیکن دھرنے سے اصل گوہر مقصود، یعنی وزیراعظم کا استعفا ہاتھ نہ آیا۔

اس دھرنے کے آغاز ہی میں قومی اسمبلی(اور صوبائی اسمبلی) کے ارکان نے اپنی رکنیت سے استعفے دے دیئے تھے،لیکن یہ استعفے آخر وقت تک منظور نہ ہوئے اور کئی ماہ کی مسلسل غیر حاضری کے بعد تمام ارکان دوبارہ اسمبلی میں گئے اور پوری تنخواہیں وصول کیں،جو ارکان کمیٹیوں کے رکن تھے اور مراعات کے حق دار تھے وہ بھی وصول کی گئیں،حالانکہ وہ اس عرصے میں ایک دن کے لئے بھی نہ اسمبلی گئے اور نہ ہی کسی کمیٹی کے اجلاس میں،لیکن تنخواہیں وصول کرنے کو وہ اپنا اپنا حق گردانتے رہے اور آج تک اپنے اس حق پر ڈٹے ہوئے ہیں کسی سرکاری ادارے نے بھی جس کے ذمے پبلک فنڈز کی حفاظت کا کام ہے اس پر کبھی اعتراض نہیں کیا، گویا یہ ایسا لوہے توڑ اور مضبوط حق تھا کہ کسی ادارے کو اس جانب دیکھنے کا حوصلہ بھی نہ ہوا۔بہرحال عمران خان اپنے اس دھرنے کو اپنا کریڈٹ گردانتے ہیں اور اپوزیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ دھرنا دے کر تو دیکھے،لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ اب اگر مولانا فضل الرحمن اپنے احتجاج کے سلسلے میں دھرنے کی قسم کا کوئی پروگرام کرنے نکلے ہیں تو اُن کو اس سے روکنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں،خفیہ رابطے ہو رہے ہیں اور مولانا کو ان مضمرات سے ڈرایا جا رہا ہے جو اس احتجاج کے نکل سکتے ہیں، حالانکہ مولانا کا یہ اقدام عین جمہوری ہے اور جمہوریت پسندوں کو جو طویل دھرنے کا عالمی ریکارڈ رکھتے ہیں اسے سراہنا چاہئے، یہ پروپیگنڈہ بھی کیا جا رہا ہے کہ کوئی اپوزیشن جماعت اُن کے ساتھ نہیں وہ تو اکیلے ہیں ایسے میں لاک ڈاؤن کیا کریں گے وغیرہ وغیرہ، اگر اپوزیشن جماعتیں مولانا فضل الرحمن کے ساتھ نہیں ہیں اور آپس میں بٹی ہوئی ہیں تو اس صورتِ حال پر تو حکومت کے ہاں گھی کے چراغ جلنے چاہئیں کہ اس نے ایک مولانا کو احتجاج کے معاملے پر تنہا کر دیا ہے،لیکن اگر حکومت کی صفوں میں ایسے کسی جشن کا سماں نہیں بلکہ اک گونہ سوگ کی کیفیت ہے تو یہی امکان ہے کہ اس کے پاس خفیہ اطلاعات ہیں کہ اول تو مولانا فضل الرحمن اپنا احتجاج ملتوی یا منسوخ نہیں کریں گے اور دوسرے احتجاج کی کامیابی کے امکانات بھی روشن ہیں،کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو اُن سے بار بار رابطے نہ کئے جاتے۔

مولانا فضل الرحمن پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی اِس سلسلے میں انہوں نے شواہد پر مبنی گنتی کی بعض دستاویزات بھی پیش کی تھیں،جن پر کسی امیدوار کے پولنگ ایجنٹ کے دستخط نہیں تھے وہ تو حلف اٹھانے ہی کے خلاف تھے اور چاہتے تھے کہ اپوزیشن اسمبلیوں کا بائیکاٹ کر دے،لیکن ایسا نہ ہو سکا،کیونکہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی اپنی اپنی پارلیمانی سیاست کر رہی تھیں، حتیٰ کہ موخر الذکر نے تو اپوزیشن کے متفقہ صدارتی امیدوار پر بھی اتفاق نہ کیا تاہم مولانا فضل الرحمن آج تک اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور اب احتجاج کی تیاری کر رہے ہیں، انہیں اس میں کامیابی ہوتی ہے یا ناکامی، یہ تو وقت ہی بتائے گا،لیکن وہ اپنی سوچ اور فہم کے مطابق ایک پروگرام لے کر چلے ہوئے ہیں تو اُنہیں روکنے کا حق کم از کم اُن لوگوں کو تو بالکل نہیں، جو126 دن تک اسلام آباد میں دھرنا دے کر بیٹھے رہے حکومت نے ان سے تعرض نہ کیا، اور پھر اس کے مضر اثرات سے نجات پاتے پاتے بھی کئی سال لگ گئے، پھر بھی وہ اس دھرنے کا کریڈٹ لیتے ہیں تو مولانا فضل الرحمن کو روکنے کی منطق سمجھ میں نہیں آتی۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...