اسلام آباد میں جشن آزادی کا آغاز 31توپوں کی سلامی سے ہوا

اسلام آباد میں جشن آزادی کا آغاز 31توپوں کی سلامی سے ہوا

اسلام آباد سے ملک الیاس:

ملک بھر کی طرح راولپنڈی اسلام آباد میں بھی 70واں یوم آزادی جوش وجذبے کے ساتھ منایا گیا،دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 31توپوں کی سلامی سے کیا گیا،جشن آزادی کی مرکزی تقریب اسلام آباد کے جناح کنونشن سنٹر میں منعقد ہوئی جس میں صدرممنون حسین،وزیراعظم محمدنوازشریف،ٓرمی چیف جنرل راحیل شریف،وفاقی وزراء اراکین قومی اسمبلی وسینٹ ،غیر ملکی سفیروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی،جشن آزادی کے موقع پر راولپنڈی اور اسلام آباد میں سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کیلئے سیاسی قوت کے مظاہرے کیے 13اور14اگست کی درمیانی شب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے راولپنڈی سے اسلام آباد کیلئے احتساب ریلی اور اسی رات عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشیداحمد نے ہرسال کی طرح لال حویلی کے سامنے جلسہ سے خطاب کیا جبکہ مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت نے سابق ایم این اے حنیف عباسی کی زیرصدارت مسلم لیگ ہاؤس اقبال روڈ پر جشن آزادی کے جلسہ کاانعقاد کیا اسی طرح کینٹ کے علاقے میں ایوب پارک کرکٹ گراؤنڈ میں مسلم لیگ ن کے ایم این اے ملک ابرار،ایم پی اے ملک افتخار نے راولپنڈی و چکلالہ کینٹ بورڈ ممبران کی32ٹیموں کے مابین چارروزہ جشن آزادی کرکٹ ٹورنامنٹ کاانعقاد کرایاجس کی بینرز ،پینا فلیکس کے ذریعے پورے حلقہ این اے 54،کینٹ کے علاقوں میں تشہیر کی گئی،افتتاحی میچ کے مہمان خصوصی ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضی جاوید عباسی تھے۔

احتجاجی ریلیوں ،جلسے جلسوں کی وجہ سے 13اور 14اگست کی درمیانی شب راولپنڈی کی معروف شاہراہ مری روڈ اور ملحقہ سڑکوں پر ٹریفک جام رہا تحریک انصاف کی ریلی سے چیئرمین عمران خان نے چارمختلف جگہوں پر خطاب کیا تحریک انصاف کی ریلی مری روڈ سے گزرنے کے بعدمسلم لیگ ن کے نوجوانوں نے مری روڈ پر ریلی نکال کر جشن آزادی دھوم دھام سے منایا،جبکہ پاکستان عوامی تحریک کا راولپنڈی میں احتجاجی پروگرام ابھی 20اگست کو ہونا ہے احتجاجی دھرنے اور قصاص ریلی کے لئے ان کے مقامی قائدین تیاریوں میں مصروف ہیں۔

احتساب ریلی کے دوران عمران خان نے وزیراعظم کیخلاف نااہلی کاریفرنس دائرکرنیکا بھی اعلان کیا جس پر بعدازاں آئین کے آرٹیکل 62-63کی خلاف ورزی کے تحت وزیراعظم نوازشریف کے خلاف نا اہلی کا ریفرنس سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو جمع کرادیا گیا،200 صفحات پر مشتمل ریفرنس میں موقف اپنایا گیا کہ وزیراعظم نے اثاثے چھپائے، ٹیکس چوری کئے ، منی لانڈرنگ کی ، قومی اسمبلی کے فلور پر غلط بیانی سے کام لیا ، وزیراعظم آئین کے آرٹیکل63پر پورا نہیں اترتے ، ان کی قومی اسمبلی کی رکنیت ختم کرتے ہوئے انہیں عہدے سے نااہل قراردیا جائے ۔ رہنما پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ امید ہے سپیکر غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے کر ریفرنس الیکشن کمیشن کو ریفر کریں گے ، ایف بی آر اور نیب کے پاس اختیارات ہیں وہ پانامہ پیپرز کی کیوں تحقیقات نہیں کرتے ، الیکشن کمیشن نے ہمارے ریفرنسز کی سماعت میں میڈیا کو جانے کی اجازت دی جائے ۔دوسری جانب حکومتی وزراء و اراکین پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا وزیراعظم کیخلاف داخل کرایا گیا ریفرنس کوئی معنی نہیں رکھتا یہ حکومت پر دباؤ بڑھانے کا ایک حربہ جو انکے دیگر حربوں کی طرح ناکامی سے دوچار ہوگا۔

کشمیر سینٹر راولپنڈی کے زیر اہتمام بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر منانے کے سلسلے میں ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کا اہتما م کیا گیا ،مظاہرین جن میں حریت کانفرنس کے رہنماء سید یوسف نسیم ،الطاف احمد بٹ ،الطاف احمد وانی ،شیخ متین ،کشمیر سینٹر راولپنڈی کے ڈائریکٹر سرور حسین گلگتی ،سردار نجیب الغفور خان سمیت عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔مظاہرین نے ایمیسسی روڈ سے اقوام متحدہ کے دفتر تک مارچ کیا شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر بھارت سے کشمیر کے معاملے پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے مظاہرین نے نعر ے لگائے اور مطالبہ کیا کہ کشمیری عوام کو ان کا جائز حق خود ارادیت دیا جائے ۔اس موقع پر مظاہر ین نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر مظالم کی شدیدمذمت کی اور عالمی ادارے سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکے ،جبکہ جماعۃالدعوۃکی جانب سے یوم آزادی اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ریلیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے جماعۃ الدعوۃ اسلامآباد کے رہنما شفیق الرحمن کی قیادت میں بلیو ایریا میں آزادی مارچ کیا گیا جس کے اختتام پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے جلسہ کیا گیا جلسہ سے شفیق الرحمن ، انجمن تاجران کے رہنما اجمل بلوچ و دیگر نے خطاب کیا آزادی مارچ میں طلباء، وکلاء، تاجروں، سول سوسائٹی سمیت تمام مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر شرکاء کی جانب سے زبردست جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے ۔ شرکاء کی جانب سے کشمیریوں سے رشتہ کیا ‘لاالہ الااللہ، کشمیر بنے گا پاکستان اورپاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے جاتے رہے۔ جماعۃ الدعوۃ کی جانب سے شرکاء کو کشمیر کی موجودہ صورتحال پر ملٹی میڈیا بریفنگ بھی دی گئی مقررین کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی طرح انڈیا بلوچستان میں بھی دہشت گردی کا ارتکاب کر رہا ہے۔ کشمیر میں ظلم کی انتہا ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را نے کوئٹہ میں بم دھماکہ کے ذریعہ بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلی ہے ، مظلوم کشمیریوں کی ہر ممکن مددوحمایت جاری رکھیں گے، پاکستان لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کر کے حاصل کیا گیااس کی تکمیل کیلئے کشمیر کی آزادی اور بنگلہ دیش کاوطن عزیز پاکستان کا دوبارہ حصہ بننا ضروری ہے۔انڈیا نے پاکستان کو جو زخم لگائے ہیں آج قوم اس کا بدلہ لینے کیلئے تیار ہے۔ہم اس ملک کو اسلام کا گہوارہ بنائیں گے،بھارت طاقت و قوت کے بل بوتے پر کشمیریوں کی جدوجہد آزادی دبانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا،کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ شہ رگ کشمیر چھڑائے بغیر پاکستان مکمل نہیں ہے۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...