معاونِین خصوصی؟

معاونِین خصوصی؟
معاونِین خصوصی؟

  

سپریم کورٹ نے چھ ماہ سے محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا ہے جس میں 70 سے زائد کمپنیوں کی طرف سے دائر کی گئی‘گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (GIDC)  کی مد میں واجب الادا کئی سو ارب روپے معاف کرنے کی درخواست خارج کر دی گئی ہے۔ان کمپنیوں میں کھاد، پاور، گیس اور ٹیکسٹائل سیکٹر کی کمپنیاں شامل ہیں۔فیصلہ کے مطابق واجب الادا رقم کے 295 ارب فوری اور باقی کے 417 ارب‘24 اقساط میں سرکاری خزانہ میں جمع کرانا ہوں گے۔ یہ ایک تاریخ ساز فیصلہ ہے جس نے دو طرح کے مافیاز کو برہنہ کر دیا ہے۔پہلا‘کارپوریٹ مافیا‘ جس میں ملک کے بڑے بڑے کاروباری ادارے شامل ہیں اور ان کا منافع زیادہ تر سرکار سے ناجائز مراعات لے کر حاصل ہوتا ہے، اور دوسرا‘ معاونِ خصوصی مافیا‘ جو بنیادی طور پر کارپوریٹ سیکٹر کے افراد ہی ہیں لیکن حکومتوں میں شامل ہوکر اپنے کاروباری مفادات کی نہ صرف نگہبانی کرتے ہیں بلکہ سرکار کی پالیسیاں بھی بناتے ہیں۔ ایک جمہوری ملک میں پالیسیاں عوام کے منتخب نمائندوں کو بنانی چاہئیں لیکن پاکستان میں غیر منتخب افراد کا شکنجہ اس قدر طاقتور ہے کہ کابینہ میں شامل منتخب وزرا کی حیثیت عظو معطل کی سی ہوتی ہے اور تمام تر”بادشاہی“ ان غیر منتخب معاونین خصوصی کی ہوتی ہے۔

اسی لئے دیکھا جائے تو پاکستان میں جمہوریت اور عوام کے لئے سب سے خطرناک مافیا انہی معاونین خصوصی کا ہے۔ موجودہ حکومت کے دو سالوں میں گندم، آٹا، ادویات، گیس، پٹرول اور چینی وغیرہ کے سینکڑوں بلکہ ہزاروں ارب کے سکینڈل منظر عام پر آ چکے ہیں جو تقریباً تمام کے تمام ان معاونین خصوصی کے مرہونِ منت ہیں جنہوں نے اپنے اپنے کاروباری مفادات کے تحفظ کے لئے حکومت کو ہائی جیک کر رکھا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کا ایک المیہ تو یہ ہے کہ نا تجربہ کاری اور اہلیت نہ ہونے کی وجہ سے وہ ان باتوں کو سمجھ نہیں پاتے اور دوسرا یہ کہ یہی لوگ انتخابات سے پہلے ان کے بڑے فنانسر تھے اور اب حکومت ملنے کے بعد پارٹی پر کی گئی چند ارب کی سرمایہ کاری کو کئی ہزار سے ضرب دے کر واپس وصول کر رہے ہیں۔ ان ہزاروں ارب کی ڈکیتیوں میں وزیر اعظم عمران خان اور نیب نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ اس بات کا فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ اہم ترین حکومتی افراد نا اہل ہیں، ان مافیاز کے حصہ دار ہیں یا پھر کسی انجانے خوف کے تحت اپنی آنکھیں اور کان بند کئے ہوئے ہیں۔ ان تینوں میں سے جو بھی وجہ ہو، بہر حال اصل نقصان پاکستان اور بے چارے عوام کا ہے جن کی غربت پہلے سے بھی بڑھ گئی ہے اور اچھے بھلے کھاتے پیتے لوگ بھی مانگنے تانگنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ 

سات یا آٹھ سو سال پہلے برطانیہ میں رابن ہڈ نامی ایک افسانوی کردار تھا جو امیروں کو لوٹ کر غریبوں کی مدد کیا کرتا تھا۔ پی ٹی آئی حکومت نے اپنے دو سالوں میں اس کے الٹ نہ صرف اقدامات بلکہ قانون سازی بھی کی ہے۔ گذشتہ برس اگست میں صدر عارف علوی نے ایک آرڈی ننس جاری کیا تھا جس میں سیٹھوں کی کمپنیوں پر واجب الادا GIDC کی رقم 417 ارب کا نصف یعنی ساڑھے 208 ارب معاف کر دیا گیا تھا۔ یہ وہ رقم تھی جو سیٹھوں کی کمپنیاں صارفین سے اکٹھا کر چکی تھیں لیکن سرکاری خزانہ میں جمع کروانے میں انتہائی ڈھٹائی سے گریزاں تھیں۔ گویا پی ٹی آئی حکومت نے غریبوں سے اکٹھے کئے گئے ساڑھے 208 ارب کمپنیوں کو بخش دئیے تھے۔ یہ ٹیکس جسے GIDC کا نام دیا گیا تھا 2011 میں لگا تھا جس کا مقصد گیس پائپ لائن کے انفرا سٹرکچر کی تعمیر تھی۔اس وقت یعنی دس سال قبل تین اہم منصوبے زیرِ غور تھے جن میں سب سے اہم ایران سے پائپ لائن کا منصوبہ (IPI) تھا، لیکن اس کے علاوہ تاجکستان سے TAPI اور پاکستان کے اندر North-South گیس انفرا سٹرکچر تعمیر کرنا تھا۔

اس ٹیکس کے نفاذ کے بعد سے ہی کمپنیوں نے واجب الادا رقم ادا نہیں کہ بلکہ عدالتوں میں پٹیشن یا حکم امتناعی وغیرہ لیتے رہے۔ کمپنیوں کی بد نیتی روز اول سے روز روشن کی طرح عیاں تھی۔ اگر بد نیتی (اور ہڑپ کر جانے کی) نہ ہوتی تو کھاد ساز ادارے غریبوں سے یوریا کی ہر بوری پر 300 (بعد میں 400)روپے نہ اینٹھتے۔ اسی طرح پاور، گیس اور ٹیکسٹائل سیکٹر کی کمپنیاں صارفین سے GIDC کی وصولیاں کرنے کے باوجود سرکاری خزانہ میں جمع نہیں کراتی رہیں۔ اس طرح عوام سے اکٹھا کیا گیا کئی سو ارب روپیہ ان کمپنیوں نے ہڑپ کرنے کی نیت سے اکٹھا کر لیا۔ پی ٹی آئی حکومت نے گذشتہ سال فروری میں ہی، جب اسے حکومت میں آئے صرف پانچ ماہ ہوئے تھے، یہ عندیہ دینا شروع کر دیا تھا کہ وہ GIDC کا کم از کم نصف معاف کر دے گی۔

اس کا آغاز اپریل 2019 میں ECC میں منظوری سے ہوا جو اس وقت کے وزیر خزانہ اسد عمر کی سربراہی میں ہوا اور پھر وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں وفاقی کابینہ  نے اس کی منظوری دی اور بالآخر 28 اگست 2019 کوایک صدارتی آرڈی ننس کے ذریعہ اس نے (رابن ہڈ کے برعکس) غریبوں سے اکٹھا کیا گیا پیسہ سیٹھوں کو بخش دیا۔ یہ آرڈی ننس 29 اگست 2019 کو سرکاری گزٹ میں شائع بھی کردیا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان، وزیر توانائی عمر ایوب خان، مشیر پٹرولیم ندیم بابراور اس وقت کی معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اپنے بیانات اور میڈیا بریفنگ میں نہ صرف اس آرڈی ننس کے فضائل بیان کرتے رہے بلکہ اس کے ”تاریخی“ ہونے پر اصرار بھی کرتے رہے۔وزیر اعظم کے دفتر سے3 ستمبر کو باقاعدہ دھمکی نما بیان بھی جای ہوا جس میں آرڈی ننس کی مخالفت پر تنقید کی گئی۔یہاں تک تو سب باتیں دونوں مافیاز (سیٹھ مافیا اور معاونین خصوصی مافیا) کے حسب منشا ہوئیں لیکن ملک میں شور مچ گیا۔

اپوزیشن نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور میڈیا نے واچ ڈوگ کا کردار ادا کرتے ہوئے اس آرڈننس کی دھجیاں اڑا دیں اور مجبور ہوکر پی ٹی آئی حکومت کوآرڈی ننس6 ستمبر کو واپس لینا پڑا۔ مرتا کیا نہ کرتا، کمپنیاں سپریم کورٹ میں چلی گئیں لیکن وہاں وہ اپنا کیس ہار گئیں اور بالآخر سپریم کورٹ نے چھ ماہ سے محفوظ فیصلہ سنا دیا جس میں کمپنیوں کو تمام رقم سرکاری خزانہ میں جمع کروانے کا حکم دے دیا گیا۔ اس راقم نے بھی آرڈی ننس کے اجرا کے وقت اپنا حصہ ڈالتے ہوئے کالم لکھا تھا کہ یہ عوام کے ساتھ کھلم کھلا ڈکیتی ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ نے ان تمام لوگوں کو سرخرو کردیا ہے جنہوں نے اس کے خلاف آواز بلند کی تھی۔

 معاونین خصوصی ایک ایسا معاملہ ہے جس پر پاکستان کا آئین خاموش ہے۔ اسی طرح دوہری یا غیر ملکی شہریت رکھنے والے افراد پر الیکشن میں حصہ لینے اور پارلیمنٹ کا رکن بننے پر پابندی ہے۔ معاونین خصوصی کے بارے میں چونکہ آئین خاموش ہے اس لئے ایسی کسی پابندی کا بھی کوئی ذکر نہیں ملتا۔ ہو سکتا ہے ایک دن عدالت عظمی معاونین خصوصی کی حیثیت اور اہلیت کا تعین کر دے تو یہ چور دروازہ بند ہو جائے گا۔ وزیر اعظم عمران خان کے معاونین خصوصی پر انگلیاں اٹھتی رہتی ہیں۔ ابھی چند ہفتے قبل دو معانین خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا اور تانیہ ایدرس سے استعفی لیا گیا تھاجس کے بارے میں عام تاثر یہ تھا کہ انہوں نے اپنی پوزیشن کو ذاتی مفادات کے لئے استعمال کیا تھا۔ ڈاکٹر ظفر مرزا پر مبینہ طور پر ادویات سکینڈل اور تانیہ ایدرس پر اپنی ذاتی کمپنی کے لئے مفادات لینے کی باتیں زبان زد عام تھیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان دونوں سے استعفی ”مفادات کے ٹکراؤ“  کی وجہ سے نہیں لیا گیا بلکہ اس لئے فارغ کیا گیا کہ ان کے سفارشی جہانگیر ترین تھے۔

اس طرح جہانگیر ترین کے بعد ان کے بندے بھی فارغ ہو گئے ہیں۔ اگر conflict of interest والی بات ہوتی تووفاقی مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری رزاق داؤد اور معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر وغیرہ بھی فارغ کئے جاتے۔ رزاق داؤد کی کمپنی نے 309 ارب کا مہمند ڈیم ٹھیکہ حاصل کیا ہے جبکہ ندیم بابر کی انرجی کمپنیاں حکومت کے ساتھ پٹرولیم اور پاور ڈویژنوں میں کاروبار کر رہی ہیں اور وہ اربوں کے ڈیفالٹر ہونے اور براہ راست ”مفادات کے ٹکراؤ“ کے باوجود موجودہ حکومت کی پالیسیاں بنا رہے ہیں۔ اسی معاونین خصوصی مافیا نے وزیر اعظم عمران خان کو استعمال کرکے GIDC کے ساڑھے 208 ارب معاف کروانے کا آرڈی ننس صدر عارف علوی سے جاری کروایا تھا۔

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان وزیر اعظم کے ہسپتال کے سی ای او تھے۔ اگر میاں نواز شریف اپنے دور اقتدار میں شریف میڈیکل سٹی کے سی ای او کو معاون خصوصی بناتے تو اپوزیشن کے عمران خان ایک طوفان برپا کر دیتے،جیسے لاہور یا راولپنڈی میٹرو کی سبسڈی حرام تھی لیکن پشاور بی آر ٹی کی سبسڈی حلال بتائی جاتی ہے۔ اسی طرح کئی معاونین خصوصی دوہری یا کسی دوسرے ملک کی شہریت رکھتے ہیں۔ کتنا بڑا المیہ ہے کہ ایسا شخص پارلیمنٹ کا رکن نہیں بن سکتا لیکن وزیر اعظم سے ذاتی تعلقات یا دوستی‘ فنانسر‘یا کسی کا بھتیجا بھانجا ہونے کی وجہ سے کابینہ کا حصہ بن جاتا ہے اور اسے وفاقی وزیر یا وزیر مملکت کا درجہ بھی مل جاتا ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -