2016 میں ترکی میں روسی سفیر کے قتل کے واقعے کے بعد ایک ترک سفارتکار کو بھی قتل کردیا گیا، اسے کہاں نشانہ بنایا گیا ؟ دنیا میں ہنگامہ برپا ہوگیا

2016 میں ترکی میں روسی سفیر کے قتل کے واقعے کے بعد ایک ترک سفارتکار کو بھی قتل ...
2016 میں ترکی میں روسی سفیر کے قتل کے واقعے کے بعد ایک ترک سفارتکار کو بھی قتل کردیا گیا، اسے کہاں نشانہ بنایا گیا ؟ دنیا میں ہنگامہ برپا ہوگیا

  

بغداد (ڈیلی پاکستان آن لائن) عراق کے صوبے کردستان کے دارالحکومت اربیل میں ایک ترک سفارتکار سمیت 2 لوگوں کو قتل کردیا گیا ہے۔

ترکی کے وائس قونصلر پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ کردستان کے ایک ریسٹورنٹ میں موجود تھے، نامعلوم مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کرکے ترک سفیر سمیت 2 لوگوں کو قتل کیا۔ ابھی تک اس حملے کی ذمہ داری کسی گروپ کی جانب سے قبول نہیں کی گئی ہے تاہم اس علاقے میں ترک کرد جنگجوﺅں کا اثرو رسوخ ہے۔ترک صدر کے ترجمان ابراہیم کالن نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ سفیر کے قتل کے غدارانہ فعل کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ابتدائی اطلاعات میں یہ کہا گیاتھا کہ فائرنگ کے واقعے میں ترکی کے 3 سفیر مارے گئے ہیں لیکن بعد میں کرد فورسز نے واضح کیا کہ اس میں 2 لوگ مارے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ دسمبر 2016 میں ترکی میں ایک نمائش کے دوران چھٹیوں پر موجود 22 سالہ پولیس اہلکار مولود مرت التنتاش نے روسی سفیر آندرے کرلوف کو گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔ قاتل بلوہ پولیس کا اہلکار تھا جو چھٹیوں پر تھا لیکن اس نے اپنے پولیس کارڈ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تقریب میں شرکت کی اور روسی سفیر کو پیچھے سے گولیاں مار کر قتل کردیا۔ اس نے مجموعی طور پر 11 گولیاں چلائیں جن میں سے 9 سفیر پر اور 2 ہوا میں چلائیں، سفیر کو قتل کرنے کے بعد بھی اس نے اپنا ہتھیار نہیں پھینکا بلکہ پولیس اہلکاروں سے 15 منٹ تک الجھتا رہا جس کے بعد اسے گولیاں مار کر قتل کردیا گیا تھا۔

ترکی میں قتل کئے جانے والے روسی سفیر آندرے کارلوف کے قتل میں ملوث 28 مشتبہ افراد کے خلاف مقدمہ کی کارروائی رواں سال جنوری میں شروع کی گئی تھی۔ مشتبہ افراد میں نمایاں نام امریکہ میں خو د ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزارنے والے اسلامی سکالر فتح اللہ گولن کا ہے۔ انقرہ فتح اللہ گولن کو رجب طیب ایردوآن کی حکومت کا تختہ الٹنے کی خاطر کی جانے والی ناکام فوجی بغاوت کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -