پنجاب کا بجٹ اور عوامی امنگیں

پنجاب کا بجٹ اور عوامی امنگیں
پنجاب کا بجٹ اور عوامی امنگیں

  

13جون پنجاب کے غیور عوام ، محنت کش کسانوں مزدوروں اورمختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے لئے ایک نئی امید لئے طلوع ہوا۔ پنجاب اسمبلی کی پر شکوہ عمارت میں عوامی نمائندوں کے عظیم اجتماع کے سامنے وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث نے مالی سال 2016-17 ء کے لئے 1681ارب 41کروڑ کے تاریخی حجم کا بجٹ پیش کیا۔راقم بھی اس وقت اسمبلی گیلری میں صحافی دوستوں کے ہمراہ موجود تھا اور مختلف محکمہ جات کے لئے اگلے مالی سال کی بجٹ سفارشات کا بغور جائزہ لے رہا تھا۔ قابل ذکر بات یہ تھی کہ بجٹ میں تعلیم ،صحت،زراعت،صاف پانی کی فراہمی اور امن عامہ کے لئے کل بجٹ کا 57 فیصد، یعنی 804 ارب روپے مختص کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔ یہ فیصلہ اس عمومی تنقید کا جواب ہے کہ حکومت فقط پل اور سڑکوں پر توجہ دیتی ہے۔تعلیم کے شعبے میں گزشتہ سال کی نسبت47 فیصد زائد رقم اور سکول ایجوکیشن کے ترقیاتی بجٹ کے لئے 71 فیصد زائد فنڈز مختص کیا جانا یقیناًقابل تعریف ہے۔ صحت کے ترقیاتی بجٹ میں 62 فیصد اضافہ کیا گیا،جبکہ زراعت، آبپاشی،لائیو سٹاک،جنگلات،ماہی پروری اور خوراک کے لئے مختص بجٹ میں کل 47 فیصد اضافہ کرتے ہوئے کل147ارب روپے کی خطیر رقم رکھی گئی ہے۔

یہ جملہ ہم عمومی طور پر سنتے آئے ہیں کہ زراعت ہماری ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس کی ترقی میں ہی ملک کی ترقی پنہاں ہے۔اس خیال کی حقیقی تصویر اسی صورت میں دکھائی دے گی جب زراعت اور کسان ترقی کی منازل طے کریں گے۔ نئے مالی سال میں حکومت پنجاب نے زراعت کی بہتری اورکاشتکار وں کی خوشحالی کے لئے 100 ارب روپے کے کسان پیکیج کا اعلان کیا جس کے پہلے حصے میں 50ارب روپیہ سال خرچ کیا جائے گا۔ پیداواری لاگت میں واضح کمی کے لئے یوریا کھاد اور ڈی اے پی کی قیمتوں پر سبسڈی دی گئی ہے۔ یوریا کھاد فی بوری 400 روپے اور ڈی اے پی کھاد پر فی بوری300 روپے کمی کے پیکیج کے لئے 11 ارب 60 کروڑ روپے مختص کئے گئے جس سے 52 لاکھ کاشتکار گھرانے مستفید ہوں گے۔کسانوں کے لئے بلا سود قرضوں کی فراہمی بھی زرعی بجٹ کا اہم حصہ ہے۔ رواں سال چھوٹے کاشتکاروں کو بینکوں کے ذریعے 100 ارب روپے کے قرضے فراہم کئے جائیں گے، جن پر سود حکومت پنجاب ادا کرے گی۔ اس ضمن میں17 ارب 70 کروڑ روپے کی رقم بطور سبسڈی مختص کی گئی ہے۔ بجلی سے چلنے والے زرعی ٹیوب ویلوں پر جنرل سیلز ٹیکس کی ادائیگی کے لئے 7 ارب روپے بطور سبسڈی فراہم کرنے کا فیصلہ بھی کیاگیا ۔ جنرل سیلز ٹیکس پر سبسڈی سے 2 لاکھ زرعی ٹیوب ویلوں اور 25 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی مالکان کو فائدہ پہنچے گا۔اس کے علاوہ صوبہ بھر میں جدید زرعی مشینری کی فراہمی کے لئے سروس سنٹربنائے جائیں گے، اس مقصد کے لئے ایک ارب80 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ان زرعی سروس سنٹرزپر بلڈوزر،ٹریکٹراورلیزر لینڈ لیولرز دستیاب ہوں گے، جن سے53 ہزار ایکڑ اراضی کو قابل کاشت بنایا جا سکے گا۔

قارئین بخوبی آگاہ ہیں کہ کپاس کی فصل زرعی معیشت کے لئے نہایت اہمیت کی حامل ہے جبکہ اس فصل کو پچھلے سال سے موسمی تغیر اور سنڈیوں کے حملوں کا سامنا ہے۔ ایسے میں بیماریوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والے بیج کی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے لئے کارٹن سیڈ ریفارمرزپراجیکٹ کا آغازکیا جا رہا ہے جس کے لئے 3 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ کارٹن سیڈ ریفارمرزپراجیکٹ سے کپاس کے 10 لاکھ کاشتکاروں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہو گا اورمجموعی پیداوار ایک کروڑ گانٹھ تک جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ زرعی مسائل کے مستقل حل کے لئے کاشتکاروں ،ماہرین،محققین اور حکام کو پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لئے پنجاب ایگری کلچر کمیشن کے قیام کی منظوری دی گئی ہے جس سے زرعی مسائل کے مستقل اور دیر پا حل تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔

جٹ میں سولر ڈرپ ایری گیشن سسٹم اور ٹنل فارمنگ کے ذریعے 1500 ایکڑ بے موسمی فصلیں حاصل کرنے کے منصوبے کے لئے 2.5 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ خادم پنجاب کے’’ پکیاں سڑکاں سوکھے پینڈے‘‘ کے عنوان سے رورل ر وڈز پروگرام کے لئے آئندہ بجٹ میں 27 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔بجٹ میں لائیو سٹاک شعبے کے ترقیاتی پروگرام کے لئے 9 ارب 22 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ،جبکہ محکمہ آبپاشی کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے 41 ارب روپے مختص کرنے کی تجویزدی گئی ہے۔اس طرح محکمہ آبپاشی کے ڈویلپمنٹ بجٹ میں 29 فیصداضافہ کیا گیا ہے اور آبپاشی کے جاری منصوبوں میں جناح بیراج،خانکی بیراج اورسلیمانکی بیراج کی بحالی اور تعمیر نو شامل ہے۔

وطن عزیز کو توانائی کے بحران کا سامنا ہے جس سے چھٹکارے کے لئے اس سیکٹر پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ پنجاب میں اس وقت پبلک سیکٹر اور نجی شعبے کے اشتراک سے 6545 میگاواٹ کے پاور پراجیکٹ کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ملکی تاریخ کے پہلے سولر پاور پراجیکٹ قائداعظم سولر پارک میں 900 میگاواٹ کے نئے پراجیکٹ پر کام جاری ہے، جبکہ اب تک سولر پارک سے 300 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوچکی ہے۔ حکومت پنجاب وفاقی حکومت کے اشتراک سے گیس سے چلنے والے 3 پاور پراجیکٹس پر بیک وقت کام کر رہی ہے، جن سے3600 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈمیں شامل ہوگی۔ 1180 میگاواٹ کا بھکھی گیس پاور پلانٹ مارچ2017ء میں 360 جبکہ دسمبر2017ء تک مکمل پیداوار نیشنل گرڈ میں شامل کردے گا۔ حویلی بہادر شاہ میں لگنے والا 1230 میگاواٹ کا پاور پلانٹ ،1223 میگاواٹ کا بلوکی پاور پلانٹ اور 1320 میگاواٹ کا قادر آباد کول پاور پلانٹ بھی دسمبر2017 تک مکمل ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ تونسہ میں نجی سرمایہ کاری سے 133 میگاواٹ کے ہائیڈرل پاور پراجیکٹ اور روجھان میں 1000 میگاواٹ کے ونڈ پاور پراجیکٹ پر بھی کام جاری ہے۔

حکومت نے عوامی فلاح کے مختلف منصوبوں کو بجٹ میں خصوصی مقام دیا ہے، جیسا کہ پنجاب صاف پانی پروگرام۔ اس ضمن میں قصور ،فیصل آباد، اوکاڑ، ساہیوال، رحیم یار خان،لودھراں،ڈی جی خان،مظفر گڑھ، بہاولپور اور راجن پور میں صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے کے لئے 30 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالت زاراور آبادی میں اضافے کو سامنے رکھتے ہوئے صحت کے شعبے پر جتنے وسائل خرچ کئے جائیں، اتنے ہی کم ہیں۔ اس مالی سال میں شعبہ صحت کے ترقیاتی بجٹ میں 43 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جو اب 43 ارب83 کروڑ روپے تک جا پہنچا ہے۔آئندہ مالی سال میں 5 ارب 20 کروڑ روپے کی لاگت سے صوبہ کے تمام ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال اور 15 بڑے تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں کو جدید سہولتوں سے آراستہ کیا جائے گا ۔ا س پروگرام کے تحت ان ہسپتالوں میں الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ، تشخیصی نظام کی کمپیوٹرائزیشن،آئی سی یو ،ڈینٹل یونٹ،برن یونٹ،فزیوتھراپی یونٹ قائم ،نئے بیڈاور وارڈ فرنیچر مہیاکیا جائے گا۔ اسی طرح تعلیم کے شعبے میں بہتری لانے کے لئے سکول ایجوکیشن کو مجموعی طور پر 256 ارب روپے کی خطیر رقم دی جائے گی۔50 ارب کی لاگت سے Strengthening of Schools کے جامع پروگرام کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ جنوبی پنجاب کے 11 اضلاع کی 4 لاکھ طالبات کے لئے چھٹی سے دسویں جماعت تک ماہانہ وظیفہ 200 سے بڑھا کر 1000 روپے کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تمام پرائمری سکولوں میں کم از کم تین اساتذہ کی موجودگی یقینی بنانے کے لئے 45 ہزار اضافی اساتذہ کی بھرتیاں کی جائیں گی۔ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے لئے 12 ارب مختص کرنے کی تجویز ہے جس سے اس پروگرام کے تحت تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد 22 لاکھ ہو جائے گی۔ پنجاب ایجوکیشن انڈوومنٹ فنڈ کی رقم میں 100 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے جس سے اس کا مجموعی حجم 20 ارب ہو جائے گا اور اس سے مستفید طلباء کی تعداد2 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

یوں تو ڈاکٹر عائشہ غوث کی بجٹ تقریر اٹھائیس صفحات پر مشتمل تھی، جس میں درجنوں محکمہ جات اور بیسیوں پراجیکٹس کا ذکر تھا، تاہم راقم الحروف نے آپ کے سامنے صرف تعلیم، صحت، زراعت اور توانائی جیسے ان محکمہ جات کا خلاصہ رکھا ہے ،جن سے عوام براہ راست منسلک بھی ہیں اور انہی کے بارے میں عمومی گفتگو بھی کی جاتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ان انتہائی اہم ڈیپارٹمنٹس پر بجٹ میں اعلان کردہ سپرٹ کے مطابق رقم خرچ کی گئی اور عوامی امنگوں کو ملحوظ خاطر رکھا گیا تو صوبہ پنجاب عوامی خدمت کی نئی مثالیں قائم کرے گا۔ پنجاب کی تمام انتظامیہ کو اب کمرکسناہو گی تاکہ تعلیم ، صحت ، زراعت اور توانائی کے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر معاشرے کو جدید اور متوازن خطوط پر استوارکیا جا سکے۔

مزید :

کالم -