ثالثی نظام وقت کی ضرورت،وقت اور پیسے کی بچت ہوگی،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

ثالثی نظام وقت کی ضرورت،وقت اور پیسے کی بچت ہوگی،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ
ثالثی نظام وقت کی ضرورت،وقت اور پیسے کی بچت ہوگی،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ہے کہ ثالثی نظام وقت کی اہم ضرورت ہے، اس نظام کی خوبی ہے کہ معاملات کو ابتدائی مراحل میں حل کر کے سائلین کے وقت اور پیسے کی بچت ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے معاملات میں ثالثی نظام عدلیہ کا ہاتھ بٹانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور عدلیہ کی سرپرستی میں اس نظام کی افادیت مسلمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکلا کے مثبت تعاون کے بغیر کوئی بھی نظام کامیاب نہیں ہوسکتا اور وہ امید کرتے ہیں وکلا ثالثی نظام کو قابل عمل بنانے کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔ فاضل چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے ثالثی نظام کی اہمیت اور وقت کی ضرورت کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر عدالت عالیہ کے مسٹر جسٹس شاہد حمید ڈار، مسٹر جسٹس انوار الحق، مسٹر جسٹس مامون الرشید شیخ، مسٹر جسٹس فرخ عرفان خان اور مسٹر جسٹس محمد قاسم خان بھی موجود تھے۔چیف جسٹس نے لاہور ہائی کورٹ بار کی جانب سے عالمی کانفرنس کے انعقادکو سراہتے ہوئے بار کے اس اقدام کو قابل تعریف قرار دیا، انہوں نے مزید کہا کہ لاہور ہائی کورٹ بطور ادارہ اس امر پر یقین رکھتا ہے کہ مصالحتی نظام کو نظام انصاف کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے تاکہ عام آدمی تک نظام انصاف کے ثمرات پہنچ سکیں۔ فاضل چیف جسٹس نے مزید بتایا کہ لاہور میں ضلعی عدلیہ کی سطح پر ایک مصالحتی ادارہ قائم کیا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ وقت دور نہیں جب سائلین کو جلد، معیاری اور سستے انصاف کی فراہمی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔ فاضل چیف جسٹس نے وکلائپر زور دیا کہ وہ ہر ممکن کوشش کر کے مصالحتی نظام کو کامیاب کرانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ نظام انصاف کا مقصد عام آدمی کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانا ہے اوراس مقصدکو حاصل کرنے کیلئے وکلائکو تمام معاملات کو پس پشت ڈالتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ قبل ازیں بیرون ممالک سے تشریف لائے قانون ماہرین سمیت لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر رانا ضیائعبدالرحمان اور سینئر وکلائنے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔بار کی جانب سے فاضل چیف جسٹس اور دیگر مقررین کو اعزازی شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔

مزید : لاہور