کیا واقعی افغان طالبان نے  غزوہ ہند کا اعلان کردیا؟ حقیقت سامنے آگئی

کیا واقعی افغان طالبان نے  غزوہ ہند کا اعلان کردیا؟ حقیقت سامنے آگئی
کیا واقعی افغان طالبان نے  غزوہ ہند کا اعلان کردیا؟ حقیقت سامنے آگئی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سوشل میڈیا پر افغان طالبان سے منسوب ایک پرچہ گردش کر رہا ہے جس میں غزوہ ہند کا اعلان کیا گیا ہے، لیکن ایسی خبروں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔

سوشل میڈیا پر " اعلان برائے غزوہ ہند" کے نام سے گردش کرنے والے  پرچے کو امارت اسلامیہ افغانستان (طالبان) سے منسوب کیا گیا ہے۔ اس اعلان میں کہا گیا ہے  " انشاء اللہ عید الفطر کے بعد افغان طالبان باقاعدہ ہندوستان پر جہاد کا آغاز کریں گے ، جس میں عسکری حملوں کے ساتھ فدائی حملے بھی کئے جائیں گے۔ ہندوستان کے مسلمانوں کو خوشخبری ہے کہ تیار رہو ہندوستان پر ایک بار پھر اسلام غالب آنے والا ہے، اس لیے جہاد کیلئے تیار رہو۔"

سوشل میڈیا پر  طالبان کے اس مبینہ بیان کو بڑے پیمانے پر شیئر کیا جارہا ہے۔ حالانکہ اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ نہ تو طالبان کی ویب سائٹ پر اور نہ ہی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد سمیت کسی اور ترجمان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایسا کوئی بیان موجود ہے۔ ذیل میں دیا گیا عکس طالبان کی آفیشل ویب سائٹ کا ہے ، یہ ویب سائٹ کے اس حصے کا سکرین شارٹ ہے جس میں طالبان کی جانب سے اعلانات یا وضاحتیں کی جاتی ہیں۔ اس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ طالبان نے 14 تاریخ کو کوئی بیان ہی جاری نہیں کیا ، حالانکہ غزوہ ہند کا اعلان کے نام سے گھومنے والی تصویر پر 14 مئی کی تاریخ درج ہے۔

سینئر صحافی و تجزیہ کار  رضوان رضی کا سوشل میڈیا پر زیر گردش اعلامیے کے بارے میں کہنا ہے کہ " اس وقت بھارتی اورایرانی لابی پاکستان میں یہ پراپیگنڈہ کرتے پائی جاتی ہےکہ عید کےبعدافغان طالبان مقبوضہ کشمیرمیں کارروائیوں کا آغازکریں گے۔جیساکہ نام سےظاہرہے"امارت اسلامیہ افغانستان" اس لئے ان کا دائرہ کار صرف افغانستان تک محدود ہے۔ طالبان نے کبھی بھی خلافت کا دعویٰ نہیں کیا، خلافت کا دعویٰ صرف داعش کا ہے۔ وہ خلافت نہیں ہیں بلکہ امارت ہیں۔ ایسے پراپیگنڈے سے کشمیر میں جاری قتل و غارت گری کا جواز تراشنا ہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں قتل غارت کے ایک نئے دور کا اعلان کر رکھا ہے۔ اسلئےاس بلیک پراپیگنڈے سے بچیں۔"

مزید :

Breaking News -بین الاقوامی -