قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 89

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 89
قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 89

  

ساحرلدھیانوی ممبئی جب جاتا تو سدھا ہی کے گھر ٹھہرتا تھا۔ وہاں میں نے اس سے کہا ’’ چند لو گ ایسے ہیں جن سے میرا انداز مخاطب ’’تو‘‘ ہے۔ میں انہیں تو کہتا ہوں اور وہ بھی مجھے تو کہتے ہیں۔ ورنہ میں اپنے سے چھوٹے کو بھی آپ کہہ کر بلاتا ہوں۔ چنانچہ میں نے اس سے پوچھا کہ یہ معاملہ کیا ہے۔ کیونکہ مجھے تو ایسے لگتا ہے کہ تمہاری زندگی میں تو کوئی عورت آئی ہی نہیں ہے ‘‘

کہنے لگا’’ بھائی چھوڑو اس بات کو، میری زندگی میں کوئی لڑکی آئی تھی‘‘اس کا تکیہ کلام بیر (بھائی) تھا، اور مجھے بھی اکثر بیر کہہ کر بلاتا تھا اور میرے ساتھ پنجابی ہی میں بات کرتا تھا۔

میں نے کہا’’ اگر کوئی تمہاری زندگی میں بھی آئی ہے تو اس طرز زندگی کو چھوڑو۔ کیونکہ تمہاری ماں مجھ سے کہتی ہے کہ اسے کہو شادی کرے۔ اور تم معاشقے کر کے بھاگ جاتے ہو‘‘

وہ کہنے لگا ’’ میں یہ تو نہیں بتاؤں گا کہ میرے مراسم کس کے ساتھ رہے ہیں کیونکہ یہ بہت بری بات ہے۔ آپ کا ذہن بھی اسی طرف جائے گا‘‘ لیکن اس نے اپنی زبان سے اس کا نام نہیں لیا۔ کہنے لگا’’ دوسر ی بات یہ ہے کہ اس زمانے میں کوئی اور واقعہ بھی ہو گیا تھا لیکن اب میں ٹھیک ہوں‘‘

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 88  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میں نے کہا’’ یہ میں جانتا ہوں کہ تم ٹھیک ہو۔ مگر دوسری بات بتاؤ۔‘‘

کہنے لگا ’’ اب میں جب بھی کسی عورت کے بارے میں سوچتا ہوں کہ میں ایک مرد کی حیثیت سے اسے ہاتھ لگاؤں گا تو مجھے لگتا ہے کہ میں پگھل کر گر جاؤں گا۔ مجھ میں حوصلہ ہی نہیں ہے۔ مجھے پسینے آجاتے ہیں اور میں بے ہوش ہو جاتا ہوں‘‘

میں نے کہا ’’ اس کا علاج کروانا تھا‘‘

کہنے لگا’’ علاج بھی کرواتا رہا ہوں‘‘

میں نے کہا’’ نفسیاتی علاج کروانا تھا‘‘

کہنے لگا ’’ اس میں میں بہت بدنام ہو جاؤں گا‘‘

میں نے کہا’’ اس طرح بھی تو بدنام ہو رہے ہو کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ تم نامرد ہو‘‘

کہنے لگا ’’کہنے دو۔ اب تو بہت سی زندگی گزر گئی ہے اور جو اور ہے وہ بھی گزر ہی جائے گی‘‘

تواصل ساحر یہ ہے۔ وہ ذہنی نامردی کی شکار تھا۔ اور نفسیاتی طور پر نامرد تھا۔ ورنہ وہ بالکل ٹھیک تھا اور میں نے اس کی جو پچھلی باتیں بتائی ہیں۔ انہیں ذہن میں رکھیں۔

شوقیہ جھوٹ بولنے والے

ابراہیم جلیس بھی میرے ان بے تکلف دوستوں میں سے تھے جن سے نہ میرا کچھ چھپا ہوا تھا اور نہ ان کا کچھ چھپا ہوا تھا۔ زوال حیدر آباد کے بعد جب وہ لاہور پہنچے تھے تو جن دوستوں سے ملنے کی انہوں نے خود خواہش کی تھی ان میں سے ایک میں بھی تھا۔ انہوں نے آتے ہی میری اس نظم کا حوالہ دیا جو میں نے مہاتما گاندھی پر کہی تھی اور جو ریڈیو پاکستان سے نشر ہوئی تھی اور اخبارات و رسائل میں بھی چھپی تھی۔ انہوں نے میری اس نظم کی بہت تعریف کی۔ پھر یہاں وہ چونکہ اکیلے تھے اور ہوٹل میں رہتے تھے اس لیے میری طرف آتے رہتے تھے۔

اس زمانے میں میرے جتنے بھی غیر شادی شدہ یا اکیلے دوست تھے ان کی میرے گھر پر محفل جمتی تھی اور ہفتے میں ایک بار میرے ہاں ان سب کیلئے کھانا ہوتا تھا ۔ ابراہیم جیلس اس میں پیش پیش ہوتے تھے۔ بعض لوگ شوقیہ جھوٹ بولنے والے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں ابراہیم جیلس کا کوئی جواب نہیں تھا اور بے تکان شوقیہ جھوت بولتے تھے اور جب انہیں ٹوک دیا جاتا تو کہتے اچھا میں نے یہ کہا تھا۔ اس طرح ایک بار انہوں نے کہا کہ میرے والد نے حیدر آباد سے خط لکھا ہے کہ تم واپس آجاؤ اور میں اپنی ساری جائیداد تمہارے نام کردوں گا اور باقی بیٹوں کو عاق کردوں گا۔ تو میں نے کہا کہ آپ کب واپس جا رہے ہیں تو کہنے لگے کہ جانا کسے ہے:

کون جائے ذوق اب دلی کی گلیاں چھوڑ کر

اور قہقہہ لگایا۔ کوئی غم کی بات ہوتی یا خوشی کی وہ قہقہہ لگاتے تھے۔ ہم نے کہا کہ نہیں آپ چلے جائیے نجانے آپ کے والد کو کیا تکلیف ہے۔ کہنے لگے کہ اچھا آپ کہتے ہیں تو چلے جاتا ہوں کیونکہ آپ میرے ساتھ بہت مخلص ہیں۔ جب اس بات کو ڈیڑھ دو ماہ گزر گئے تو میں نے ایک دن ان سے پوچھا کہ آپ حیدر آباد کب جا رہے ہیں تو کہنے لگے کیوں؟ میں نے کہا کہ آپ نے ذکر کیا تھا کہ والد نے کوئی خط بھیجا ہے جس میں جائیداد کا کوئی ذکر کیا ہے ۔ کہنے لگے کہ میں نے آپ سے یہی کہا تھا کہ والد نے خط میں لکھا ہے کہ تم لاہور ہی میں بیٹھے رہو۔ وہاں ٹھیک ہے اور یہاں جائیداد سنبھالنے والے تمہارے بھائی بڑے لائق ہیں۔ میں نے کہ آپ نے کہا تھا کہ والد نے لکھا ہے تم آجاؤ باقیوں کو عاق کردوں گا۔ اور تمہیں مختار عام بنادوں گا ۔ قہقہہ لگا کر کہنے لگے کہ میں نے یہ کہا تھا تو پھر یہی بات ہو گی اور کتابت کی غلطی ہو گی، آپ اسے ٹھیک کر لیجئے۔ لیکن تازہ خبر یہی ہے جو آپ کو اب بتا رہا ہوں۔ اس قسم کی باتیں وہ اکثر کرتے رہتے تھے۔

ایک دن بہت اداس بیٹھے ہوئے تھے۔ میں گیا تو کہنے لگے کہ گھر سے یہ خط آیا ہے اور اس میں لکھا ہے کہ بیوی قریب المرگ ہے اور اس کے ساتھ ہی زور سے قہقہہ لگایا۔ میں نے کہا کہ بیوی قریب المرگ ہے اور آپ قہقہہ لگا رہے ہیں ذرا خط تو دکھایئے۔ میں نے خط اٹھا کر پڑھا تو اس میں بیوی کی بیماری یا قریب المرگ ہونے کا کوئی ذکر ہی نہیں تھا۔ ان کے اس طرح جھوٹ بولنے کی وجہ کوئی بھی نہیں ہوتی تھی۔

میں بتانا یہ چاہتا ہوں کہ انہوں نے کچھ عادتیں لطیفے کے طور پر راسخ کر رکھی تھی اور ان کا سوائے اس کے اور کوئی مطلب نہیں ہوتا تھا۔ جب یہاں سے کراچی چلے گئے تو ایک بار کوئی دوست وہاں گئے۔ کہنے لگے کہ کب آئے آپ؟ اس نے جواب دیا کہ کل آیا ہوں۔ پھر پوچھا کہ کب جانا ہے ۔ وہ کہتا منگل کو تو کہنے لگے کہ اوہ ہو۔ بدھ کو تو میں آپ کی دعوت کرنا چاہتا تھا۔ اس طرح پھر قہقہہ لگانے لگے۔ دو چار بار میرے ساتھ بھی یہ واقعہ ہو چکا تھا۔

ایک بار میں اور احمد ندیم قاسمی صاحب ایک ساتھ وہاں گئے تو میں نے راستے ہی میں قاسمی صاحب کو بتادیا تھا کہ ابراہیم جلیس اس طرح دعوت کی بات کریں گے اور آپ دیکھئے کہ آج میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں۔ جب ہم وہاں پہنچے تو انہوں نے اسی طرح قہقہہ لگا کر باتیں شروع کیں اور پھر کہنے لگے کہ جانا کب ہے ۔ میں نے کہا قاسمی صاحب آپ ٹھہرئیے میں بتاتا ہوں۔ میں نے کہا کہ آپ کو ہمیشہ گلہ ہوتا ہے کہ جس دن آپ دعوت کرنا چاہتے ہیں ہم اس سے ایک ایک دن پہلے چلے جاتے ہیں ۔ اس لیے ہم اس بار فیصلہ کر کے آئے ہیں کہ جس دن آپ دعوت کریں گے تو اس سے اگلے دن ہی ہم جائیں گے۔ قہقہہ مار کے کہنے لگے کہ وہ ظالم مار دیا۔ میں نے کہا کہ آپ بتائیں کہ کس دن آپ دعوت کرنا چاہتے ہیں۔ کہنے لگے تو آپ دعوت کے بارے میں سنجیدہ ہو گئے ہیں؟ میں نے کہا کہ سنجیدہ نہیں ہو گئے بلکہ اس بار لاہور ہی سے سنجیدہ ہو کر آئے ہیں۔ کہنے لگے کہ چلو آج ہی کر لیتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ہمیں یقین نہیں ۔اس وقت انہوں نے ایک سو روپے کا چیک کاٹ کر دیا۔ اس زمانے کے لحاظ سے ایک سو روپیہ بہت تھا۔ میں نے کہا کہ اب چلئے ’’نگار ‘‘ کے دفتر میں الیاس رشیدی کے پاس چلتے ہیں جہاں آپ ملازمت کرتے ہیں اور وہاں سے یہ چیک کیش کرواتے ہیں۔ کیا پتہ کہ شام کو کھانے کے پیسے تو ہم دے دیں اور اگلے دن یہ چیک ڈس آنر ہو جائے ۔ تو قہقہہ لگا کر کہنے لگے کہ آپ واقعی یقین نہیں کرتے۔ میں نے کہا ہم واقعی یقین نہیں کرتے۔ چنانچہ ہم ’’نگار ‘‘ کے دفتر گئے اور الیاس رشیدی سے ان کے چیک کے بدلے میں ایک سو روپیہ وصول کیا۔ اور اسے بھی رات کے کھانے میں اپنے ساتھ شریک کیا۔ ایک دو دوسرے دوستوں کو بھی اس کھانے میں شریک کیا اور سب کو ان کا یہ واقعہ سنایا ۔ سب کہنے لگے کہ جلیس صاحب آپ کو پہلے ایسا کوئی آدمی نہیں ملا ہو گا۔ اس لیے اب آپ اپنے اس مذاق کو بدل دیجئے ۔ کیونکہ لوگوں کو آپ کی اس عادت کا پتہ چل چکا ہے۔ چنانچہ جلیس صاحب بعض باتیں محض مذاق کے طور پر کرتے تھے۔

اس کے بعد ان کی ایک سنجیدہ زندگی بھی شروع ہوئی۔ جب پیپلز پارتی کی حکومت آئی تو انہوں نے ’’عوامی عدالت ‘‘ کے نام سے ایک پرچہ چلایا۔ لیکن بھٹو صاحب کے زوال کے بعد اس پرچے پر جو بیتی اور ان کے اپنے اوپر جو تشدد ہوا اس کے نتیجے میں یہ دل کے مریض ہو گئے۔ ان کے ہونٹوں پر قہقہے تو بدستور ہوتے تھے لیکن یہ بجھے ہوئے ہوتے تھے۔ ا س کے بعد ایک دن پتہ چلا کہ ان کا ہارٹ فیل ہوگیا ہے۔ خدا انہیں جنت نصیب کرے۔(جاری ہے )

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 90 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

گھنگروٹوٹ گئے -