وطن کی سیاست،یہ بھی ہے  

  وطن کی سیاست،یہ بھی ہے  
  وطن کی سیاست،یہ بھی ہے  

  

پیارے وطن میں باپ وزیر اعظم اور بیٹا وزیر اعلیٰ بننے کی تاریخ  جس دن  رقم ہوئی،وہ سیاست پر بہت بھاری رہا، اپنے والد میاں شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے کے بعد ایک نوجوان حمزہ شہباز شریف کا پنجاب جیسے بڑے صوبے کا وزیر اعلیٰ بننا ان کے لئے ایک اعزاز ہے تو دوسری طرف اسی روز پنجاب اسمبلی میں اسی اسمبلی کے سپیکر چودھری پرویز الہیٰ اور ڈپٹی سپیکر سردار دوست مزاری کے ساتھ ہونے والی بد تمیزی اور مار دھاڑ کو سیاسی تاریخ میں اچھے الفاظ سے یاد نہیں رکھا جائے گا۔یہ پر تشدد واقعہ وہ ذہنی پراگندگی تھی جو ہماری سیاست کا اب لازمی جزو بن چکا ہے،ہار جیت سیاست کا حصہ ہے مگر یوں مشتعل ہونا اور ہر اخلاق،قانون اور  روائت کو پس پشت ڈال کر تشدد پر اتر آنا شائد ہماری سیاسی جماعتوں کے خمیر میں شامل ہو چکا ہے،اس کی واحد وجہ قانون اور ضابطوں کو موم کی ناک بنانا ہے،جو بھی صاحب اقتدار ہوتا ہے وہ خود کو ہر قانون سے ماورا سمجھ لیتا ہے،ہر غیر قانونی غیر اخلاقی حرکت کو اپنا حق سمجھ لیتا ہے،پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کا انتخاب گرما گرمی سے ہو گا اس کا اندازہ تھا، مگر اتنا پر تشدد الامان و الاحفیظ۔

مجھے نوے کی دہائی میں شروع کے  سال   یاد آ رہے ہیں،اس وقت بھی پنجاب اسمبلی میں مار دھاڑ سے بھر پور ایسے ہی مناظر دیکھنے کو ملتے تھے  ایک سپیکر میاں منظور وٹو،وزیر اعلیٰ بن رہا تھا اور ہاوس ایک ڈپٹی سپیکر میاں مناظر علی رانجھا چلا رہا تھا، حالات ایسے ہی تھے مگر  آج کردار بدل چکے ہیں،کل کے حلیف آج کے حریف اور کل کے حریف آج کے حلیف بن چکے ہیں،یہ مکافات عمل ہے۔ہماری سیاسی جماعتیں اور سیاسی راہنما اتنی دہائیوں میں بھی کچھ نہیں سیکھ پائے۔

ہماری سیاسی جماعتوں کا وتیرہ بن چکا ہے کہ جب ہاتھ سے کچھ نکل رہا ہو تو مٹھی بھینچ لو اس کی زد میں کون آتا ہے اس کی پرواہ نہیں کی جاتی،سپریم کورٹ پر حملہ بھی اسی ذہنیت کا نتیجہ تھا،پنجاب اسمبلی میں بھی ماضی میں ایسے ہی حالات رہے۔اب ایک بار پھر پنجاب میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کے منحرفین کو ملا کر اکثریت حاصل ہونے کا دعویٰ کیا مگر اس کے بعد جو کچھ ہوا اس میں ہر اخلاق،قانون اور روایت کو پس پشت ڈال دیا گیا،صورتحال کا مشاہدہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف سے  یہ سوچا سمجھا منصوبہ تھا،اس کا ایک ثبوت دونوں طرف کی تیار کردہ حکمت عملی پر عملدرآمد تھا جس کے تحت سکیورٹی عملہ کو ایوان سے نکال دیاگیا اور پولیس اہلکاروں کو تاریخ میں پہلی بار ایوان کے اندر متعین کیا گیا،اجلاس کی کارروائی اس ہنگامہ آرائی کی وجہ سے لیٹ ہوئی اور خواتین نے سپیکر ڈائس پر قبضہ کر لیا مگر قانون خاموش رہا،ڈپٹی سپیکر سردار دوست محمد پر تھپڑوں گھونسوں لاتوں کی بارش کی گئی مگر قانون حرکت میں نہ آیا اس کے بعد چودھری پرویز الٰہی پر وحشیانہ تشدد کیا گیا،یہی پرویز الٰہی تھے جب سپیکر کے طور پر وہ حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈر جاری کر کے جیل سے انہیں اسمبلی اجلاس میں بلواتے اور بات کرنے کی پوری آزادی دیتے،یہی پرویز الٰہی تھے جنہوں نے تحریک انصاف حکومت کی مخالفت کے باوجود ارکان اسمبلی کی مراعات میں اضافے کا بل منظور کیا جس سے اس وقت کے اپوزیشن ارکان بھی مستفید ہوئے اور یہی پرویز الٰہی تھے جن کو آصف زرداری اور شہباز شریف نے وزارت اعلٰی کی پیش کش کی اب اس پرویز الٰہی میں ایسی کون سی تبدیلی آئی تھی کہ ان کو الیکشن کا ہی بائیکاٹ کرنا پڑا؟یہ سوال اسمبلی تاریخ میں فریقین پر قرض رہے گا۔

   ووٹ کو عزت دو تحریک کے دوران پی ڈی ایم کی جماعتوں کا اصرار تھا پارلیمنٹ بالا تر ہے،مقدس ہے،مگر اس کے تقدس کو پامال کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی گئی اور یہ کوشش بھی ارکان اسمبلی کی طرف سے ہو ئی۔سوال یہ ہے کہ غیر متعلقہ افراد کو ایوان میں داخلے کی اجازت کس نے دی،کس کی ایما پر اسمبلی کے اندر اسلحہ لایا گیا،کس کی شہ پر ایوان میں ہلڑ بازی ہوئی اور کس کے حکم پر تشدد کو روا رکھا گیا،ملکی پارلیمانی تاریخ اتنی روشن نہیں کہ ایسے واقعات سے آلودہ نہ ہو مگر ایسی ہلڑ بازی ایسا طوفان بدتمیزی اور تشدد کبھی دیکھنے میں نہیں آیا،قوم کی خاموش اکثریت حیران ہے کہ اقتدار کے دوران اپوزیشن کے جن اقدامات پر تنقید کی جاتی ہے اپوزیشن میں رہتے حکمرانوں کے جن اقدامات کو غیر آئینی اور غیر اخلاقی کہا جاتا ہے وہ اپنی باری پر جائز کیسے قرار پاتے ہیں،دنیا بھر میں ایوان میں ہنگامہ آرائی کی ایک طویل داستان ہے مگر یوں منتخب سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو ایوان کے اندر تشدد کا نشانہ بنانے کی روائت شائد افریقی ممالک میں بھی نہیں ملتی جہاں ایوان کے اندر تشدد عام ہے۔

   اب سوال یہ ہے کہ قوم ایسے ارکان اسمبلی پر کس طرح اعتماد کرے کیسے ان کو اپنا نجات دھندہ جان لے جن کو خود پر قابو نہیں،جو اخلاق اور آئین،جمہوری روایات کے امین نہیں،جن کے نزدیک سیاسی فائدہ کیلئے جنگ اور محبت میں سب جائز کے مترادف ہو جاتا ہے،ایسے لوگ کیونکر قوم کی ڈگمگاتی ڈولتی کشتی کو کنارے لگا سکتے ہیں،عوام جن مسائل کی چکی میں عرصہ دراز سے پس رہے ہیں اس حوالے سے اسمبلی میں کوئی بات سننے کو نہیں ملی، میاں حمزہ شہباز نوجوان ہیں تو چودھری پرویز الہیٰ ایک جہاندیدہ اور تجربہ کار،ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دونوں مل کر  ایسی خرابات سے ایوان کو نجات دیتے، قوم کے مسائل کے حل کی طرف توجہ دیتے،مگر اس اسمبلی میں بھی قوم نے سیاست ہی دیکھی،جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا منظر نامہ دیکھنے کو ملا،مطلب براری کے لئے سب جائز قرار دے لیا گیا،تحمل برداشت روایات اخلاق کا جنازہ نکال دیا گیا،ایسے اشخاص کو زدو کوب کیا گیا جن کے خاندان دہائیوں سے سیاست اور خدمت میں ہیں، چودھری پرویز الہیٰ کہ رہے ہیں ان کو جان سے مارنے کی کوشش کی گئی،ایسا نہ بھی کیا جاتا تو حمزہ شہباز الیکشن جیت کر وزیر اعلٰی منتخب ہو جاتے،ن لیگ کی قیادت کو سوچنا ہو گا کہ اس کی نوبت کیوں آئی اور اس روائت کو زندہ کر کے کیا فوائد حاصل کئے گئے،مستقبل میں کیا کبھی ان کو خود ایسی صورتحال کا سامنا تو نہیں کرنا پڑے گا اور ایسا ہوا تو کیا ہو گا؟

پارلیمانی نظام حکومت میں منتخب ارکان اسمبلی دراصل حکمرانوں اور قوم میں رابطہ کار اور پل ہوتے ہیں،عام شہری ارکان اسمبلی کو اپنا رول ماڈل گردانتے ہیں،اپنی مشکلات کے حل کیلئے ان کو نجات دھندہ سمجھتے ہیں مگر جن ارکان کا کردار اخلاق ایسا ہو جن میں برداشت تحمل نام کی کوئی چیز نہ ہو،جو خود ایوان کا تقدس مجروح کریں ان ارکان سے کوئی بہتری کی امید کیسے کی جا سکتی؟

مزید :

رائے -کالم -